سلیکٹڈ حکومت کے عزائم خطرناک گلگت بلتستان کو پختونخوا سے ملانے کی باتیں ہو رہی ہیں :حفیظ الرحمن

GB-CM.jpg

جعلی کابینہ نے ہمارے منصوبوں کو کاٹا ان کی حفاظت کیلئے گلگت، سکردو ،گانچھے، دیامر سمیت پورے صوبے کو بلاک کر دینگے،صوبائی حکومت لانے والوں سے لڑائی ہے
ہمارے دور میں نیشنلسٹ بیرون ملک تھے ،عبدالحمید خان اور سنگی حسنین کو لانے کیلئے کوشش کی جمہوریت مضبوط کرتے ہیں تو لوگ خوف بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں
گلگت(سپیشل رپورٹر)سابق وزیر اعلی و صدر مسلم لیگ ن گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے یوم یکجہتی کشمیر کے مناسبت منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی حکومت سے نہیں ان کو لانے والوں سے لڑائی ہے موجودہ سلیکٹیڈ حکومت کے عزائم خطرناک نظر آ رہے ہیں گلگت بلتستان کو کے پی کے کے ساتھ ملانے کی بات ہورہی ہیں گلگت بلتستان کے عوامی اہمیت حامل ایک ایک منصوبے کی حفاظت کرینگے فروری تک دیکھتے ہیں یہ لوگ کیا کرتے ہیں گو کہ ہم اس حکومت کو مانتے نہیں ہے جعلی کابینہ نے ہمارے جن منصوبوں کو کاٹا ہے ان کی حفاظت کے لیے ہم گلگت سکردو گانچھے دیامر سمیت پورے صوبے کو بلاک کرینگے ترقیاتی منصوبوں کو بچانے کے لیے عوام کو نکلنا ہوگا جہاں پر محرومیاں ہوتی ہیں وہاں پر مایوسیاں ہوتی ہے ماضی میں صوبے کی بات کرنے والوں کو غدار کہا جاتا تھا آج اگر کوئی صوبے کی بات نہیں کرتا ہے اس کو غدار کہا جاتا ہے اسٹیبلشمنٹ ملک کے عوام کو بھڑ بکریاں سمجھتی ہے ہمارے دور اقتدار میں نیشنلسٹ نو بیرون ملک تھے جو ملک دشمنی میں تھے عبدالحمید خان کو لانے میں کوشش کی اور سنگی حسنین کو لانے کے لیے کوشش کی جمہوریت اگر مضبوط کرتے ہیں تو لوگ خوف بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں اگر اظہار رائے پر پابندیاں لگ جاتی ہے مسائل پیدا ہوتے ہیں لوگوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کے سوالوں کے جوابات ملنے چاہے اگر آ ج پاکستان میں کوئی ڈھنگ کا وزیر اعظم ہوتا تو ہندوستان کے اندورنی معاملات سے فائدہ اٹھایا جاتا آج سکوت کشمیر پر پردہ داری ہورہی ہے ابھی انندن کو چائے پلاکر انہوں نے واپس بھج دیا آج کلبھوشن کو چھوڑنے کی باتیں ہورہی ہیں کلبھوشن کو پھانسی دی جائے کلبھوشن کو ہماری حکومت نے پکڑا اس نے ملک میں فسادات کروائے اس کو پھانسی ہونی چاہے ملک کے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی جوانوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں جو دن رات چوکس کھڑے ہوکر دشمن کے آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کر مقابلہ کررہے مسلہ کشمیر کی وجہ سے سری نگر اور گلگت بلتستان متاثر ہیں بہتر سالوں سے آ رھا تیتر آدھا بٹیر کے تحت چلایا جارہا ہے خان صاحب نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا کہا کہاں گیا ان کا صوبہ خان صاحب جیسے شخص کو شرم آنی چاہیے آج فارن فنڈنگ میں کیا ہے یہودی لابی کے پیسے آ ئیے ہیں جس مقصد کے لئے اس کو لانا تھا اس کے لئے یہودی لابی نے فنڈنگ کی ۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا ان کا وہ جھوٹا اعلان کدھر گیا وہ بھولے ہونگے ہم نہیں بھولے۔
حفیظ الر حمن

شیئر کریں

Top