تین رکنی کوہ پیماٹیم لاپتہ محمد علی سدپارہ سمیت دو غیر ملکیوں کی تلاش کیلئے ریسکیوآپریشن جاری

Web-Muhammad-Ali-Sadpara.jpg

سرچ آپریشن میں پاکستانی کوہ پیما امتیاز اور اکبر نے بھی حصہ لیا، دونوں نہایت ماہر کوہ پیما ہیں جنہوں نے فروری 2019 میں نانگا پربت میںدوغیرملکی کوہ پیماؤں کی تلاش کے عمل میں بھی حصہ لیا تھا
محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کوخیریت بیس کیمپ پہنچادیاگیا،کوہ پیماؤں کی بحفاظت واپسی کیلئے مساجدمیں خصوصی دعاؤں کااہتمام، موسم موافق رہا توآج دوبارہ سرچ آپریشن کیا جائے گا،ریسکیوذرائع
اسلام آباد(مہتاب الرحمن)دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے مشن پر نکلے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم میں موجود دو غیر ملکی لاپتہ ہوگئے ذرائع کے مطابق پاک فوج کی ہیلی کاپٹرز لاپتہ کوہ پیما ؤں کے سرچ آپریشن کے بعد سکردو پہنچ گئے ہیں اور بدقسمتی سے ریسکیو ٹیم کو ان کوہ پیماؤں کا کوئی سراغ نہ مل سکا ذرائع کے مطابق آرمی ہیلی کاپٹرز نے لاپتہ کوہ پیماؤں کو 7 ہزار میٹر کی بلندی پر تلاش کیا تاہم انہیں لاپتہ تین کوہ پیما محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور جان پابلو موہر کے حوالے سے کوئی سراغ نہ مل سکا۔ذرائع کے مطابق چوٹی کی بلندیوں اور بیس کیمپ میں بھی موسمی ٹھیک نہیں ہے جس کے باعث بیس کیمپ میں موجود دیگر ٹیم نے بھی لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاشی شروع کردی ہے لیکن چوٹی پر موسمی حالات سازگار نہیں ہیں اور تیز ہوائیں چلنے کے باعث شدید دشواری کا سامنا ہے ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن میں ممتاز پاکستانی کوہ پیما امتیاز اور اکبر نے بھی حصہ لیا۔ دونوں کوہ پیماں کا تعلق محمد علی سدپارہ کے گاؤں سے ہے۔ دونوں نہایت ماہر کوہ پیما ہیں جنہوں نے فروری 2019 میں نانگا پربت میں ڈینیئل نارڈی اور ٹام بالارڈ کی تلاش کے عمل میں بھی حصہ لیا تھا۔ذرائع کے مطابق محمد علی سدپارہ اور ان کے دیگر دو ساتھیوں کا بیس کیمپ سے آخری ریڈیو رابطہ ہوئے 36 گھنٹے سے زائد گھنٹے گزر چکے ہیں مگر بیس کیمپ سے دوربینوں کے ذریعے ہونے والی تلاش کے دوران بھی کے ٹو چوٹی کے آخری حصے پر بھی کسی قسم کی کوئی نقل و حرکت دکھائی نہیں دی ہے۔ دوسری طرف محمد علی سدپارہ کے ٹوئٹر اکانٹ سے بتایا گیا ہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم سے رابطہ نہیں ہورہا ہے اور ان کی لوکیشن کے بارے میں معلوم نہیں ہورہا ہے۔محمد علی سدپارہ کو موسم سرما میں ننگا پربت سر کرنے والے پہلے عالمی کوہ پیما ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو بغیر آکسیجن کے سر کرنے نکلے تھے تاہم اب ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہورہاہے دوسری طرف محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ بخیریت بیس کیمپ پہنچ گئے ان کے ساتھ ایک غیر ملکی کوہ پیما بھی ہیں جن کے پاؤں(فروسٹ بائٹ) برف اور شدید سردی کی وجہ سے سخت متاثر ہوئے ہیں ذرائع کے مطابق کئی دیگر کوہ پیما بھی فروسٹ بائٹ کا شکار ہو گئے ہیں جنہیں کل بیس کیمپ سے سکردو منتقل کر دیا جائے گا ۔ ادھر بیس کیمپ میں موجود سیون سمٹ انٹرنیشنل ایکسپیڈیشن کے سربراہ چنگ داوا شرپا اور دیگر کوہ پیما دوربینوں کے ذریعے شام تک چوٹی نظر رکھے رہے لیکن لاپتہ تینوں کوہ پیماوں کا کوئی آثار دکھائی نہیں دیئے ادھر گلگت بلتستان کے عوام نے کوہ پیماؤں کی گمشدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی باحفاظت واپسی کیلئے مساجد میں خصوصی دعائیں کی جارہی ہیں۔
سرچ آپریشن
سکردو (غلام علی وفا سے)دنیا کی دوسری بلندترین چوٹی کے ٹو کی سرمائی مہم جوئی کے بعد نامور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور دو دیگر غیرملکی کوہ پیما ابھی تک انتہائی بلندی سے واپس نہیں پہنچ سکے ، کوہ پیماوں سے 36 گھنٹے بعد بھی کوئی مواصلاتی رابطہ نہیں ، خراب موسم اور تز ہواوں کے باعث کوہ پیماوں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر سے کیا گیا سرچ آپریشن کامیاب نہ سکا،، اطلاعات کے مطابق علی سدپارہ کے ساتھ دو غیر ملکی کوہ پیماوں آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جان پابلو گزشتہ روز دوپہر کے بعد بوٹل نک کراس کرکے چوٹی کی انتہائی بلندی پر سمٹ کے لیے روانہ ہوگئے تھے جس کے تقریبا 36 گھنٹے گزرنے کے بعد تاحال تینوں کوہ پیما واپس نہیں پہنچ سکے ، اور نہ ہی ان سے کوئی مواصلاتی رابطہ نہیں ہوسکا ہے ، تینوں لاپتہ کوہ پیماوں کی تلاش کے لیے آج ہیلی کاپٹر کے زریعے سرچ آپریشن کیا گیا تاہم انتہائی خراب موسم اور تیز برفانی ہواوں کے باعث ریسکیو آپریشن کامیاب نہ ہوسکا ، کوہ پیماوں کی تلاش کے لیے زمینی ریسکیو ٹیم کی بھی مدد حاصل کی گئی ہے ، ادھر سرمائی مہم جوئی میں شامل علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ رات کیمپ 3 پر گزارنے کے بعد آج شام واپس بیس کیمپ پہنچ گیا ہے ، ساجد سدپارہ کو سمٹ کے قریب بوٹل نک کے مقام سے آکسیجن سلینڈر کے ریگولیٹر میں خرابی کے باعث مشن ترک کر کے واپس آنا پڑا تھا ۔ ریسکیو زرائع کے مطابق کل موسم موافق رہا تو تینوں کوہ پیماوں کی تلاش کے لیے دوبارہ سرچ آپریشن کیا جائے گا ۔
مہم جوئی

شیئر کریں

Top