سی پیک اور علم و تحقیق کے نئے زاوئیے

Photo-for-Articles-1.jpg

از قلم :پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ ،شیخ الجامعہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی
چائناپاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) چائنہ کی اقتصادی و معاشی ترقی کے دُور رس نتائج حاصل کرنے کے لئے اور اس ترقی کے ثمرات دُنیا کے دیگر ممالک تک پہنچانے کے لئے ایک انتہائی اہم پراجیکٹ سمجھا جاتاہے ۔چائنا کے صدر شی ژنگ پن کے ویژن کے مطابق اس اقتصادی ترقی کے تین اہم ستون ہیں۔جن کا مقصد سٹرکوں کاایک جال بنایاجائے جو دُنیا کے ساتھ منسلک ہوں ۔جس کو ون بلٹ اینڈ ون روڈ(OBOR)کا صدر ژی کا فلسفہ کہاجاتاہے ۔اس فلسفے کے تین اہم نیٹ ورکس میں یانگ ژی دریا کا معاشی بلٹ ،سلک رُوٹ اقتصادی بلٹ اور اکیسوں صدی کی میری ٹائم سلک روڑ شامل ہیں۔سی پیک کے اس نیٹ ورک کے ذریعے 60ممالک اور 900منصوبے اور ہونگے۔ایشن انوسٹمنٹ بنک برائے انفراسٹرکیچر کے ذریعے اس پراجیکٹ میں تقریباً100ملین ڈالرز انویسٹ کریں گے۔سی پیک پراجیکٹس کی افتتاح کرتے وقت چین کے صدر شی ژنگ پن نے فرمایا”پاکستان اور چین کے درمیان دوستی باہمی اعتماد اور اخوت پرمبنی ہے ۔ہم اچھے برُے وقتوں میں ایک دوسرے کے وفادار دوست ہے ۔ہماری دوستی اس باہمی تعلق کا آئینہ دار ہے ۔” سی پیک پراجیکٹس میں اربوں ڈالرز کو توانائی کی سیکٹر انویسٹ کرنا،ہائیڈل ،سولراور تھرمل پاور توانائی کے ذریعے شامل ہیں۔پہلے مرحلے میں ان پراجیکٹس کے ذریعے 10ہزار میگاواٹ توانائی پیدا کی جائے گی ۔ان پراجیکٹس میں ملک کے اندر سٹرکوں اور ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکیچر مضبوط کرانا اور ان کو بین الاقوامی سطح پرلانے کے لئے تقریباً11ارب ڈالرز کی انویسٹمنٹ شامل ہے ۔اس کے علاوہ گودار پورٹ کو بین الاقوامی سطح پرلانے کے لئے سرمایہ کاری شامل ہے ۔ان پراجیکٹس کا پہلا مرحلہ تقریباً14ارب ڈالر پرمکمل ہوچکا ہے ۔سی پیک کے ا ن انفراسٹرکیچر اور انرجی پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن چائینز یونیورسٹیوں کے ساتھ تعلیم وتحقیق کے ذریعے ان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور ان کے ثمرات نوجوانوں تک پہنچانے کے لئے پچھلے تقریباًدو سالوں سے کام کررہاہے ۔اس ضمن میں مجھے بھی چین کے مختلف یونیورسٹیوں کا دورہ کرنے اور ان کے ساتھ تعلیمی وتحقیقی روابط استوار کرنے کے لئے موقع ملا ۔پچھلی چند دہائیوں میں عوامی جمہوریہ چین کے اند ر جدید علم وتحقیق کی مد میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے ۔اور دُنیا کی 500چوٹی کی جامعات میں چینی یونیورسٹیوں کی ایک کثیر تعداد شامل ہے ۔جو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سائنس اور اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں اپنا لوہا منواچکی ہے ۔اس ضمن میں پاکستان اور چین کی جغرافیائی تاریخی اور سماجی قربت کی وجہ سے یہاں کی ایک کثیرتعداد میں طلبا اور اساتذہ ان جامعات میں زیر تعلیم ہیں۔نیز ان کی انفراسٹرکیچر اور معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان پرُتپاک دوستی اور ہم آہنگی کی وجہ سے تعلیم وتحقیق کی ایک راہداری بھی فراہم ہوئی جس کو مزید مضبوط کیاجارہاہے۔
ہائیرایجوکیشن کمیشن نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے سی پیک کو تعلیم وتحقیق سے مربوط کرانے اور ان کے ثمرات تعلیم وتحقیق کے اداروںتک پہنچانے کے لئے بروقت اقدام کئے اور سی پیک سنٹر ز کے قیام کے ذریعے پاکستانی اور چینی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان رابطے کو مستحکم کرانے کی کوششیں کیں۔ان کا وشوں کے پہلے مرحلے میں قائد اعظم یونیورسٹی میں چائنا پاکستان مرکز برائے تحقیق ارضیات قائم کیاگیا۔توقع ہے کہ اس مرکز کا ایک حصہ جو گلیشیئرزاور آب و ہوا کی تبدیلی پر تحقیق کرنے کے لئے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں قائم کیاجائے گا۔اس ضمن میںچائنا اکیڈمی آف سائنس کے ساتھ افہام وتفہیم جاری ہے ۔حال ہی میں حکومت پاکستان نے سی پیک اور اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے حوالے سے ایک پائیلٹ پراجیکٹ 50کروڑروپے کی مالیت سے منظور کیاہے ۔جس میں درج ذیل علمی وتحقیقی مقصورات کے ذریعے پاکستانی جامعات کی استعداد کار کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
1) مشترکہ تحقیق
پاکستانی جامعات کو تحقیق کی مد میں آگے لانے اور ان کے ذریعے معاشرے کو درپیش مسائل کو حل کرانے کے لئے دیرپا اور کم قیمت حل تلاش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دُنیا کی بہترین تعلیم وتحقیق کے اداروں کی اشتراک سے اعلیٰ معیار کی تحقیق کریں ۔اس تحقیق کا محور خطے کو درپیش مسائل اور اُن کا حل ہونا چاہیے ۔اس پراجیکٹ کے ذریعے پاکستان کی جامعات کو چین کی صف اول کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تحقیق کرنے کا موقع فراہم کیاجائے گا۔جس کے ذریعہ اساتذہ اور محققین کی استعداد کارکو بڑھانا ،جدید تحقیق کے تقاضوں کو ہم آہنگ کرانا اور مشترکہ تحقیق کے ذریعے جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجیز کا پاکستان کو منتقل کرانا بھی شامل ہے ۔سی پیک میگا پراجیکٹس کی سماجی ،اقتصادی اور معاشی ترقی میں کردار کے حوالے سے تحقیق اور اُن کے خطے کی تعمیروترقی میں کردار کے حوالے سے بھی تحقیق شامل ہے ۔
ii) بین الاقوامی کانفرنس،ورکشاپ اور سیمینارز کا انعقادپر اس پائیلٹ پراجیکٹ کے اندر کم از کم 12بین الاقوامی کانفرنسز،ورکشاپ وغیرہ کے انعقاد کا اہتمام کیاجائے گا۔جن کے ذریعے کنسورشیم یونیورسٹیزکے اعلان ،علم وتحقیق کا اشتراک اور تحقیق کے نتائج اور ثمرات کا تبادلہ وغیرہ شامل ہیں۔
iii)ٹریننگ اور قابلیت کی آبیاری:
اس وقت چائنیز یونیورسٹیز میں ایک کثیر تعداد میں پاکستانی طلبا زیر تعلیم ہیں ۔سی پیک پراجیکٹ کی کامیابی کے لئے
ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ چوٹی کی چائنیز یونیورسٹیوں میں بی ایس،ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کریں ۔اس پراجیکٹ میں 20ہزار سکالرشپ فراہم کئے جائیںگے ۔جن میں بی ایس اور ایم ایس کے ایک ایک ہزار اور پی ایچ ڈی کے لئے 3000سکالرشپ فراہم کئے جائیں گے ۔اس کے علاوہ پوسٹ ڈاکٹر ریسرچ کے ذریعے چین کے نو ٹاپ یونیورسٹیوں میں ہائی سپیڈ ریل ،ٹنل ،سٹرکیں،برجیز یعنی پلوں کی تعمیر،دیرپا اور ماحول دوست شہری ترقی ،ہائی ٹیک ،آئی سی ٹی ،3ڈی پرنٹنگ،ڈیمزاور پن بجلی کے لئے درکارانفراسٹرکیچر کے میدانوں میں مہارتی صلاحتیں بڑھانا شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ قلیل مدت یعنی چھ مہینے کے لئے پاکستانی طلبہ وطالبات اور اساتذہ کو چین کی اعلیٰ جامعات میں تحقیق کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔اسی طرح چائنیز طلبہ وطالبات کو 6-5مہینے پاکستانی جامعات میں تعلیم وتحقیق کے لئے لانے اور دونوں ممالک کی نئی نسل کو اندرہم آہنگی پیدا کرانا بھی شامل ہیں ۔اس کے ساتھ شارٹ ٹریننگ پروگرام کے ذریعے ایک سے دو ہفتے دورانئے کے پاکستانی جامعات سے طلبا اور اساتذہ کی استعداد کو بڑھانا بھی شامل ہیں۔مستقبل میں اس پراجیکٹ کی مدد سے پاکستانی اور چائنیز جامعات کے مابین ایک مشترکہ ڈگری پروگرامز بھی شروع کئے جاسکتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جامعات اپنی پارٹنرزیونیورسٹیوں کے ساتھ قریبی روابط استوارکریں۔
iv)منتخب جامعات کے اندر چائنیز سٹڈی سینٹرز کاقیام ۔
پہلے مرحلے میں چھ جامعات میں چائنیز سٹڈی سینٹرز کاقیام عمل میں لایا جائے گا۔جن کے اندر چینی زبان ،ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ ،فی زمانہ چینی سیاست،حکومت او ربلٹ روڑ(سی پیک )کے درمیان تعلق او ر عالمی اقتصادیات پران کے اثرات،سی پیک کے اندر سپیشل اقتصادی زون کی تعمیر اوراُن کے لئے درکار چائنیز سرمایہ کاری ،چائینز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی وغیرہ کے مضامین اور تحقیق شامل ہیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہزاروں سالوں کی تاریخ ،ثقافت ،بھائی چارے اور باہمی اعتماد پرمبنی ہے اور دوستی واخوت کا رشتہ یقینی طور پر ہمالیہ کے پہاڑوں سے اونچا اور بحرہ عرب سے گہرا ہے ۔بلت اینڈ روڈ کے ذریعے سی پیک جیسے اہم پراجیکٹس میں اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری اس حقیقت کا مظہر ہے ۔یہ امر ہمارے لئے بہت قابل اطمینان ہے کہ CPECکے دائرکار میں علمی اور تحقیقی ارتباط سے دونوں ممالک کے درمیان ایک علمی وتحقیقی راہداری بھی شروع کی گئی ہے ۔یقینا جامعہ قراقرم اور گلگت بلتستان کے نوجوان طلبہ وطالبات اس سے استفادہ کرنے کے لئے کوئی دقیق فروگزاشت نہیں کریگی۔ہماری دُعا ہے کہ ان پراجیکٹس کے ذریعے گلگت بلتستان کے
نوجوانان اور اساتذہ کرام ان مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔آمین ثمہ آمین ۔

شیئر کریں

Top