گورنرراجہ جلال کی نااہلی کے باعث گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا معاملہ سرد خانے کی نذر:حفیظ الرحمٰن

GB-CM.jpg

اسلام آباد (مہتاب الرحمن) مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے بادشمال سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنرراجہ جلال کی نااہلی کے باعث گلگت بلتستان کے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا معاملہ سرد خانے کی نذر ہوگیا گلگت بلتستان کی عدلیہ میں آج بھی ججوں کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی اسامیاں خالی پڑی ہے انہوںنے کہا کہ گورنر راجہ جلال مقپون نے گلگت بلتستان اسمبلی کے اختیارات وفاق منتقل کرنے کے لئے ہراول دستے کا کردار اداکیا البتہ انہوںنے گلگت بلتستان کی تعمیروترقی کے لئے ایک ٹگہ کا کام نہیں ہے تحریک انصاف میں صرف گورنر ہی نہیں سارے نااہل جمع ہوگئے ہیں ان کی کارکردگی صرف عمران خان کی تعریف ہے جس نے پورے ملک کا نظام تباہ کرکے رکھ دیا ہے حفیظ الرحمن نے کہا کہ گورنرنے حالیہ الیکشن کے موقع پر بھی گورنر ہاؤ س کو تحریک انصاف کی کمپئین آفس میں تبدیل کرکے آئینی عہدے کی بھی توہین کردی ایسے نااہل شخص کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیئے جس نے علاقے کے لئے نہیں بلکہ اپنی جماعت اور اپنی ذات کے لئے کام کرتا رہا ہے گورنر راس وقت گلگت بلتستان کونسل کا وائس چیئرمین ہیں اور کونسل کے آکاؤٹ میں گلگت بلتستان حکومت کے چار ارب روپے موجود ہیں جو گلگت بلتستان حکومت کا ملنا چا ہیئے مگر ان سے یہ کام بھی نہیں ہوسکا اور پنجاب کے میڈیکل کالجز میں گلگت بلتستان کے کوٹے کو کم کرنے پر بھی انہوںنے اپنی لب نہیں کھولی ان کی نااہلی سے علاقے کا نقصان ہوا ہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت بشمول گورنر کے ان میں اتنی اہلیت نہیں ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ بات کرے اور گلگت بلتستان کے حوالے سے کام کیا جاسکے انہوںنے کہا کہ تبدیلی سرکار کے وہ جھوٹے دعویٰ کہاں گئے کہ جو کہتے تھے کہ اضلاع کا نوٹفکیشن ہمارے آنگھوٹے کے نیچے ہے آج وہ سارے منہ چھپائے کیوں پھررہے ہیں کہاں گئے ان کے وعدے جو الیکشن میں انہوں نے کئے تھے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں چار نئے اضلاع کا نوٹفکیشن جاری کیا ہے جو ریکارڈ پر ہے اور ان نوٹفکیشن پر عملدرآمد میں موجودہ چیف سیکریٹری نے حکومت کو چکمہ دیا تاہماری حکومت نے اضلاع پر نوٹفکیشن کے اجراء کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھایا اور بجٹ میں بھی نئے اضلاع کے لئے پچاس کروڈ روپے مختص کردیا انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت میں ہمت اور سقت ہے تو وہ وفاق سے اب گورننس آرڈر میں ترمیم کرادیں انہوںنے کہا کہ ان کی حشر ہے یہ کہ یہ لوگ ہر وعدے سے مکر رہے ہیں اور یوٹرن لے رہے ہیں گلگت بلتستان کے عوام کسی بھی صورت ان کو یوٹرن لینے نہیں دیں گے اور ان نالائقوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے انہوںنے کہا کہ سیلکٹڈ ٹولے کو کچھ سمجھ نہیں آرہاہے کہ انہوںنے کرنا کیا ہے ۔

شیئر کریں

Top