پاکستان رواں سال اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اشتراک سے عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی کریگا،

000_1QI2EM.jpg

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ کے حل کے لیے پر عزم ہے،ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت ملک میں جنگلات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی فراہم کیا جائیگا، معاونِ خصوصی ملک امین اسلم
اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان جون 2021 میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ساتھ مل کر عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی کرے گا۔امسال عالمی یومِ ماحولیات کا موضوع ‘‘بحالیِ ماحولیاتی نظام’’ہوگااور توجہ کا مرکز فطرت کے ساتھ تعلق کو دوبارہ بہتر کرنا رہے گا اور اسطرح اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی نظام کی بحالی کی صدی کا با قاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ عالمی یومِ ماحولیات ہر سال 5 جون کو منایا جا تا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں ماحولیات کے متعلق آگاہی بیدار کرنے اور اقدامات کو فروغ دینے کا اہم دن گردانا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی /وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اقوامِ متحدہ کی پانچویں ماحولیاتی اسمبلی کے موقع پر یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینگر اینڈرسن سے مشترکہ طور پر ماحولیاتی تحفظ اور اس کے نقصان کی روک تھام اور عالمی طور پر ماحولیاتی نظام کی بحالی کے بہترین طریقے دوبارہ استعمال کرنے کے ارادہ کو تسلیم کیاہے۔وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی سر پرستی میں دنیا کی سب سے بہترین اور بڑی شجرکاری مہم ‘‘ٹین بلین ٹری سونامی’’ جس کا دورانیہ ۵ سال ہے ، کے تحت ملک میں جنگلات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی فراہم کیا جائیگا۔ اس مہم میں جنگلات کے ساتھ ساتھ مینگروز کے تحفظ کے علاوہ شہری علاقوں جیسا کہ سکولوں، کالجوں، عوامی پارکوں اور گرین بیلٹس میں بھی پودے لگائے جائیں گے۔ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق قدرتی حل کے لیے ماحولیاتی نظام کی بحالی کے فنڈز کا بھی بھرپور آغاز کیا ہے۔حال ہی میں، وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے پروٹیکٹیڈ ایریا اینیشی ایٹیو کے تحت ملک بھر میں50 ماڈل پروٹیکٹیڈ ایریاز بنائے ہیں اور گرین اسٹیمولس کے تحت85ہزار نوکریاں بھی دی گئی ہیں۔معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اس موقع پر کہا کہ ‘‘حکومتِ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ کے حل کے لیے پر عزم ہے ، جس کے لیے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت، جو کہ ملک بھر میں ۱ ہیکٹر سے زائد کے رقبہ پر محیط ہے، جنگل کو بحال کرنیکے ساتھ ساتھ بڑھائے گا۔ ‘‘?ملک امین اسلم نے یہ بھی کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہم امسال عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی کر رہے ہیں اور ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے عالمی بحالی کی کوششوں میں باقی ممالک کے ساتھ تعاون کریں گے۔عالمی یوم ماحولیات کا میزبان ہونے کی حیثیت سے پاکستان ماحولیاتی مسائل نمایاں کرے گااوراس متعلق ملکی اہم اقدامات کے متعلق معلومات اور ان کی عالمی سطح پر اہمیت و کردار پر روشنی ڈالے گا۔ تاہم، اس دن کو دنیا بھر میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کو ملحوظِ خاطر رکھ کر تقریبات اور سرگرمیوں کے ذریعہ منایا جائے گا۔ یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینگر اینڈرسن کا کہنا تھا کہ2020 ماحولیاتی مسائل کے اعتبار سے معاملہ فہمی ، بہت سے دیگرمسائل کا سامنا کرنے جن میں عالمی وباء ، ماحولیات، آلودگی اور فطرت کے مسائل شامل ہے، سے بھرپور سال تھا۔ 2021 میں ہمیں مسائل کے حل کے لیے کام کرنا ہے اور اس عمل سے ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ فطرت کی بحالی ہماری کرہ ارض اور انسانیت کی بقائ[L:4 R:4] کے لیے لازم و ملزوم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ملکی جنگلات کی بحالی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستان عالمی یومِ ماحولیات2021 کی میزبانی کر رہا ہے اور تمام قوموں کی اقوام متحدہ کی بحالیِ ماحولیاتی نظام کی صدی کے ذریعے ماحولیاتی نظام کے بگاڑ کی بحالی کی سربراہی بھی کرے گا۔اقوام متحدہ کی بحالیِ ماحولیاتی نظام کی صدی تباہ شدہ ماحولیاتی نظام، موسمیاتی مسائل، جانوروں کی بہت سی اقسام کا تحفظ، خوراک، صاف پانی کی فراہمی اور ذریعہ معاش کی بہتری میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔کاربن کو قدرتی طور پر جذب کرنے والے وسائل جیسا کہ جنگلات اگائے جائیں جس سیکاربن ایمیشن گیپ ۰۳۰۲ تک ۵۲ فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ ماحول دوست پودے لگانے سے گرمی میں اضافہ کرنے والے بہت سے تباہ کن اثرات جن میں جنگلات کی ا?گ شامل ہے ، سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی بحالیِ ماحولیاتی نظام کی صدی جو کہ ۱۲۰۲ سے ۰۳۰۲ تک رہے گی، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے کا بھی آخری سال ہے جس کی نشاندہی سائنسدان ماحولیاتی تباہی کو بہتر کرنے کے آخری موقع کے طور پر بھی کرتے ہیں۔ تاہم، ضرورت کے مطابق بحالی کے نظام کو چلانے کے لیے مالی سرمایہ کاری اور مراعات بھی درکار ہیں تاکہ تحقیقات اور تعلیم و تربیت کے ذریعہ عوام میں آگاہی بیدار کی جا سکے۔

شیئر کریں

Top