ہائبرڈ جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو مشترکہ انٹر سروسز سائبر کمانڈ کی ضرورت ہے، سینٹرمشاہد حسین سید

mushahid-hussain-sayed-1.jpg

بھارت کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور ناکارہ بنانے کی واضح پالیسی ہے ، پاکستان کو موثر انداز میں جواب دینا ہوگا ،امن کے وقت پڑوسی کے خلاف اس طرح کی منظم معلومات سے لڑنا ، مودی کے عزائم کی پیش گوئی کرتا ہے،سینیٹر مشاہد حسین سید کا ٹول آف اسٹریٹجک وارفیئر کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس واضح پاکستان پالیسی ہے ، جس میں نااہلی اور عدم استحکام کلیدی جزو ہیں ، جبکہ پاکستان کو موثر انداز میں جواب دینے کے لئے اپنی ہندوستان کی پالیسی میں وضاحت کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ سے منظور شدہ 10غیر سرکاری تنظیموں ، متعدد تھنک ٹینکوں ، اطلاع دہندگی پھیلانے کے لئے ایک ہندوستانی خبر رساں ایجنسی ، اے این آئی کا استعمال کرنااور س طرح کی بدنظمی کی پیمانہ اور مستقل نوعیت حیرت انگیز اور بے مثال ہے، اور اس ملین ڈالر کی کوشش کا مقصد ایک ہی تھاکہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ ٹول آف اسٹریٹجک وارفیئر کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں کیا،سینیٹر مشاہد حسین نے بھارت اور اس کے پاکستان کے خلاف اثرات ، ہندوستان کی ڈس انفارمیشن کمپین سے متعلق پینل کی سربراہی کی، انہوں نے پروپیگنڈے کے بارے میں امریکی اسکالر ڈاکٹر نوم چومسکی کے اہم مطالعہ کا حوالہ دیا ، مینوفیکچرنگ کنسٹیٹ ، جہاں وہ میڈیا ملکیت ، اشتہاریوں اور میڈیا ایلیٹ کے مابین گٹھ جوڑ کی بات کرتے ہیں ، جو دشمن کو بدظن کرنے کے لئے مل کر کام کرتے ہیں، سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ غلط معلومات کے بارے میں ہندوستانی نقطہ نظر اس ماڈل کی ایک مثال ہے ، جس میں ہندوستانی صحافی ارنب گوسوامی کی ار یکاڈنگ کا بھی حوالہ دیا اور پلوامیہ کے بارے میں سینیٹر کے اپنے بیان کے بھارتی میڈیا نے بگاڑ دیا ہے،سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ یہ ایک افواہ ہے کہ پروپیگنڈا صرف آمریت کا مقدم ہے ، در حقیقت ، بھارت ، اسرائیل اور امریکہ جیسی جمہوریت بھی پرو پینگنڈا کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کے خلاف بھارت کا پروپیگنڈا تین وجوہات کی بنا پر منفرد ہے، سب سے پہلے یہ ہمسایہ ممالک کی واحد مثال ہے کہ وہ امن کے وقت پڑوسی کے خلاف اس طرح کی منظم معلومات کا مقابلہ کرنا ، یہ دعوی مسترد کرتا ہے کہ وہ اچھے ہمسایہ تعلقات کو چاہتا ہے، دوسرا ، یہ مودی کے عزائم کی پیش گوئی کرتا ہے ، جیسا کہ اس مہم کا آغاز 2005میں ہوا تھا، تیسرا ، یہ 750جعلی سائٹوں پر پھیلے ہوئے ، جھوٹ ، جھوٹ اور غلط اطلاعات کا اب تک کا سب سے بڑا نیٹ ورک تھا ، سینیٹر مشاہد حسین نے ہندوستانی دفاعی تجزیہ کار ، پروین سوہنی کے ایک حالیہ ٹویٹ کا بھی حوالہ دیا ، جس نے لائن آف ایکچول کنٹرول سے ہندوستان کی فوجی دستوں کو چین کے ساتھ منسلک کرنے سے ہندوستانی حکومتوں کو اپنے منتخب کردہ دشمن کی طرف واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا،چائنا ان کے بنیادی مشن انتہا پسندسے دور کر رہا ہے،اس تناظر کو دیکھتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان کے خلاف بھارت کی جانب سے غیر اعلانیہ ہائبرڈ جنگ کے ابھرتے ہوئے خطرے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لئے مشترکہ سائبر انٹر سروسس کمانڈ کے فوری قیام کی تجویز پیش کی، پاکستان کے لئے سچائی بھارت کے خلاف سب سے اچھا ہتھیار ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ اکنامسٹ کو ہندوستانی رواداری سے متعلق ایک اسٹوری لکھی تھی ، جبکہ نیویارک ٹائمز نے ہندوستانی مصنف اروندھتی روئس کا مضمون اٹھایا تھا جس میں انہوں نے بجا طور پر کہا تھا کہ آج کے ہندوستان میں آر ایس ایس ریاست ہے، اور ہندوستان میں فاشزم کا ایک فن تعمیر کھڑا کیا جارہا ہے،یہ موضوعات موڈیس انڈیا کی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں،سوالات اور تبصرے سمیت ایک متحرک بحث ہوئی ، اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے آئی آر ایس کے صدر ، سفیر ندیم ریاض کا شکریہ ادا کیا ، جس نے ہندوستان اور جنوبی ایشیا کے اہم تھنک ٹینک کی حیثیت سے آئی آر ایس کی بحالی پر شکریہ ادا کیا۔

شیئر کریں

Top