چین،پاکستان مشترکہ طور پر جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنائیں گے

maqsood-161019.jpg

چینی حکومت کا پینگولین مصنوعات کی خرید و فروخت پر پابندی کا اقدام خوش آئند ہے ، انڈین پینگو لین کی آبادی کی شرح میں کمی تشویشناک ہے، پاکستان اور چین انڈین پینگولین کی غیر قانونی تجارت کو زیادہ موثر طریقے سے روکنے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں، ڈاکٹر طارق محمود کی ورلڈ پینگولین ڈے پر گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی ) چین اور پاکستان کو جنگلی حیات کی انواع کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گوادر پرو کے مطابق یہ بات پی ایم اے ایس ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے ڈاکٹر طارق محمود نے “ورلڈ پینگولین ڈے” کے موقع پر کہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو دنیا میں سب سے زیادہ اسمگل ہونے والی نسل میں سے ایک پینگولین کو بچانے کے لئے تعاون کرنا ہوگا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور مختلف سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے پی ایم اے ایس ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں “ورلڈ پینگولین ڈے 2021 ” منایا گیا۔ اس مو قع پر ڈاکٹر طارق نے کہا کہ کووڈ 19 کے دوران چین کی طرف سے لیا گیا ایک اچھا اقدام یہ ہے کہ چینی حکومت نے پینگولین مصنوعات کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈین پینگو لین کی آبادی کی شرح کم ہورہی ہے جو تشویشناک ہے ۔ اسی طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تناظر میں پاکستان اور چین انڈین پینگولین کی غیر قانونی تجارت کو زیادہ موثر طریقے سے روکنے کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق پاکستان اور چین کی یونیورسٹیاں نیز دونوں ممالک کے متعلقہ وائلڈ لائف محکموں کو چاہئے کہ ایسے جانوروں کے تحفظ کیلئے باہمی تعاون کے ساتھ تحقیق کے لیے مضبوط تعلق قائم کر یں اور انڈین پینگولین کے غیر قانونی شکار اور تجارت کے معاملے کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے مانیٹرنگ کے عمل کو زیادہ متحرک ر کھے ۔ ڈاکٹر طارق نے مزید کہا کہ انڈین پینگولین پاکستان کے مختلف علاقوں سے غیر قانونی شکار کیے جانے کی تاریخ ملی ہے ، اور روایتی دوائیوں میں استعمال ہونے پر مختلف ممالک میں اسمگل کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بہت سے غیر قانونی اسمگلروں کو کسٹم محکموں نے پکڑ ا ہے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ جانوروں کے جسم پر خصوصی سخت شیلڈ کیر اسے شکاریوں سے بچاسکتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ، ان شیلڈ کو غیر قانونی بلیک مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہے ، جہاں یہ روایتی دوائیوں میں استعمال ہوتے ہیں اور وہ دواں کی اہمیت بڑھاتے ہیں۔ مقررین نے بین الاقوامی سطح پر پینگولین کی تجارت کے حجم کے بارے میں بھی بتایا اور افریقہ اور ایشیا کی تمام 8 پینگو لین میں پاکستانی اور انڈین پینگولن کے تحفظ پر زور دیا۔

شیئر کریں

Top