ہماری تمام توجہ سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر پر لگی ہے، جس کا نام ترقی نہیں سوفٹ وئیر جیسی تحقیق اور ریسرچ پر کام کرنا ہوگا

g7-1.jpg

ترقی کی دوڑ میں ہم پیچھے رہ گئے ،گلگت بلتستان کا مستقبل سیاحتی شعبے سے جڑا ہے،بہتر سیاحتی پالیسی بناکر اس شعبے کو فعال کیا جائے تو یہ علاقہ معاشی لحاظ سے ترقی کر سکتا ہے
سٹرکیں اور عمارتیں بنانے کا نام ترقی نہیں،ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنا، زرعی شعبے، توانائی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو فعال کرنا اور موثر کرنا بھی اشد ضروری ہے،مقررین کا ویب نار سے خطاب
سکردو (غلام علی وفا سے)یونیورسٹی آف بلتستان سکردو اور پاکستان انسیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے اشتراک سے دیہی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے عنوان پر جامعہ بلتستان میں سیمینار و ویب نار، وائس چانسلر پاکستان انسیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس و سابق ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر ندیم الحق سیمینار کے مہمان خصوصی تھے، وائس چانسلر جامعہ بلتستا ن پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان، جامعہ ہذا کے اساتذہ کرام اور بڑی تعداد میں طلبا و طالبات نے تقریب میں خصوصی شرکت کی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلتستان پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ جامعہ بلتستان کے طلبا کی خوش بختی ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر ندیم الحق کے خیالات براہ راست سننے کا موقع مل رہا ہے، ڈاکٹر ندیم الحق نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا یا ہے،کورونا وبا کے دوران سب سے پہلے جامعہ بلتستان نے آن لائین کلاسوں کا آغاز کر کے مثال قائم کر دی، اور ایس او پیز کے تحت امتحانات بھی منعقد کرائے جامعہ ہذا کے ایل ایم ایس سسٹم کو ملکی سطع پر سراہا،تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پاکستان انسیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ڈاکٹر ندیم الحق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلتستان آکر بہت اچھا لگا، گلگت بلتستان بہت خوبصورت علاقہ ہے یہاں کے مستقبل سیاحتی شعبے سے جڑا ہوا ہے اگر بہتر سیاحتی پالیسی بنائی جائے اور اس شعبے کو فعال کیا جائے تو یہ علاقہ معاشی لحاظ سے ترقی کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ جامعات کو آپس میں اشتراک اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہے کیونکہ نالج اشتراک عمل سے پیدا ہوتا ہے، اشتراک کے بغیر نالج کا حصول ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان انسیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس جامعہ بلتستان کے ساتھ مکمل اشتراک کے لیے تیار ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں پبلک پالیسی کی تیاری میں ایک ددسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے، ہم معاشی ترقی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے یونیورسٹی کا ایک پروجیکٹ ”راستہ” ہے جو وطن عزیز کے تمام علاقوں میں جامعات کے ساتھ اشتراک کرتا ہے اور ہم پروجیکٹس کے لیے معاونت فراہم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے پالیسوں کا تسلسل ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ہماری ترقیاتی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے اور معیار زندگی بھی ابتری کی طرف جار ہا ہے بے روزگاری کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، جامعات سے طلبا کو ڈگریاں تو مل رہی ہیں، لیکن نوکریوں کا حصول مشکل ہو گیا ہے، تو ہم اپنے طلبا کو ایسی ڈگریاں کیوں دے رہے ہیں جو روزگار کے حصول میں ان کے کام نہیں آ رہی؟ہمارے آبادی کا تناسب ذیادہ اور سرمایہ کاری کا تناسب بہت کم ہے ہر سال دو ملین نئی نوکریاں درکار ہوتی ہیں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ہمیں متواتر تیس سالوں تک 8 فی صد ترقی کا تناسب چاہیے موجودہ صورتحال میں پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ ہماری ساری توجہ سٹرکیں بنانے اور عمارتیں تعمیر کرنے پر مرکوز ہے، سٹرکیں اور عمارتیں بنانے کا نام ترقی نہیں، بلکہ ترقی حقیقی معنوں میں تحقیق کے فروغ کا نام ہے، ان کا کہنا تھا کہ ترقی کی مثال سافٹ ویر جیسی ہے، ہمیں ائیڈیاز پہ کام کرنا ہو گا، اور ترقی کا سافٹ وئیر جامعات میں تیار ہونا چاہے ہماری اکیڈما کو چاہیے کہ وہ طلبا کو پرانے نوٹس دینے کے بجائے انہیں عملی طور پر تحقیق اور ریسرچ کی طرف راغب کریں، ترقی ٹھیکید اروں کے زریعے نہیں بلکہ ریسرچ کے زریعے آتی ہے لہذا حکومتی سطع پر تحقیقاتی کاموں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، اگر ہمیں حقیقی معنوں میں پائیدار ترقی چاہیے تو ہمیں ٹھیکہ داری کے بجائے ریسرچ پر توجہ دینی ہو گی انہون نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے بہترین پالیسی کا ہونا ضروری ہے، المیہ ہے کہ ہماری پالیسی واضح نہیں اور ہم پالیسی پڑھاتے بھی نہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں پائیدار ترقی کیلئے باقی اداروں کو بھی ٹھیک کرنا پڑے گا پھر جا کر پائیدار ترقی کا حصول ممکن ہے جب تک ہم اپنے سوچنے کا انداز تبدیل نہ کریں ترقی کا حصول خواب ہی رہے گا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنا،بہترین پالیسی مرتب کرنا اور ریسرچ کی فضا کو فروغ دینا پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے، زرعی شعبے، توانائی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو فعال کرنا اور موثر کرنا بھی اشد ضروری ہے۔
ترقی

شیئر کریں

Top