مغربی سیاسی نظریات صد سالہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی کامیابیوں کی وضاحت کیوں نہیں کرسکتے؟

HVFPQCCR2VJ47NPQBCUKKVW5CE.jpg

بیجنگ(شِنہوا) 3ہزار300 میٹرز کی بلندی پر رہائش پذیر سونم ٹسیرنگ نامی چرواہے نے دور دراز کا سفر طے کرکے اسکے پاس آنے والے مہمان کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ(سی پی سی)کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جِن پھِنگ کو ہادا نامی روایتی تبتی ریشمی رومال پیش کیا۔ یہ رومال شفافیت اور فائدہ مند کامیابی کی علامت ہے۔سونم ٹسیرنگ ایک تبتی چرواہاہے۔ ایک وقت تھا جب اسکا خاندان چین کے شمال مغربی صوبہ چھِنگ ہائی کے پہاڑی گاؤں میں مشکل سے زندگی کا گزربسر کرتا تھا۔ چینی حکومت نے غربت کے خاتمہ کے سلسلے میں مالی رعایات اور فائدہ مند منصوبے شروع کئے۔ جس کی بدولت اب ان کے پاس 80بھیڑیں اور 20دوسرے مویشی ہیں۔سونم ٹسیرنگ نا ہموار پتھروں کی دیوار میں گھرے اور مٹی سے بنے خستہ حال ڈھانچے پر مشتمل اپنے سابقہ گھر کو خیرباد کہہ چکا ہے۔ اب وہ ایک نئے گھر میں ہے۔ جس میں واش روم بھی ہے اور اسکے باہر ایک کشادہ سڑک بھی۔اس نے چینی صدر شی جن پھنگ کا استقبال بھی اپنے نئے گھر کے باہر ہی کیا تھا۔اس موقع پر سونم ٹسیرنگ نے کہا کہ پارٹی کی سازگار پالیسیوں کی مہربانی سے ہم چرواہوں کی زندگیاں دن بدن بہتر ہو رہی ہیں۔صدر شی نے یہ دورہ دنیا کی سب سے بڑی مارکسسٹ پارٹی کے صد سالہ جشن منانے سے صرف ایک ماہ قبل کیا۔ یہ وہ پارٹی ہے جس کے ابتدا میں پچاس رکن تھے اور اب ان کی تعداد 9کروڑ50لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔گزشتہ ایک صدی میں سی پی سی نے مضبوط حکمت عملی اختیار کی اور ایک بکھرے اور غربت کے شکار ملک کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں تبدیل کردیا۔ پارٹی نے معیشت کی ترقی اور بہترین سماجی نظام بنانے کیلئے کامیابی سے ملک کی قیادت کی اور اسی کے باعث گہرے عالمی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت میں اب یہ ایک مشکل کام نہیں رہا ہے کہ سونم ٹسیرنگ جیسے دوسرے چینی افراد جدید طریقے استعمال کرکے اپنی زندگی کو بہتر بنائیں۔ مغربی سیاسی نظریات کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی کامیابی کی وضاحت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ عوام کی خدمت کے لئے پر عزم رہنے والی جماعت کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت اس کی ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ مغربی طرز کی سیاسی جماعتوں سے کافی حد تک مختلف ہے۔مختصر یہ کہ چینی عوام اسے “ہماری اپنی جماعت” سمجھتے ہیں۔یہ1921 کا سال تھا جب کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ قائم ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب چینی عوام داخلی سطح پر تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ بیرونی حملہ آوروں سے بھی نمٹ رہے تھے۔ اس وقت کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے چینی عوام کو متحد کرنے کے لئے اپنا ایک منشور اور مقصد طے کیا۔ اپنے قیام سے اب تک پارٹی نے عوام کی بنیادی ضروریات کو ایک ایسے نظام کے تحت پورا کیا جس سے کروڑوں عوام کی زندگی میں بہتری آئی اور چینی طاقتور قوم بن کر دنیا کے سامنے ابھرے۔ پارٹی تب سے ہی لوگوں کی ضروریات کو ٹھوس اقدامات کے ساتھ پورا کر رہی ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے ارکان نے آزادی،جمہوریت اور عوام کی خوشی کیلئے جدوجہد کاعزم کر رکھا ہے۔ اپنی قربانیوں کے ذریعے انہوں نے جگہ اور وقت کی حدود کو عبور کرتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ قائدانہ اور مثالی کردار ادا کیا۔ وہ اپنے مقصد کے ساتھ پر عزم رہے اور کبھی اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے مرکزی بانیوں میں سے ایک عظیم دانشور لی ڈاژا کو 1927میں گرفتار کیے جانے کے بعد جیل میں ڈال دیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ لاکھوں نوجوانوں کو اپنے مضامین سے متاثر کرنے والے 38 سالہ لی حکمرانوں کے ظلم کے باوجود مرتے دم تک ثابت قدم رہے۔جس پھانسی گھاٹ پر انہیں پھانسی دی گئی اسے چین کے قومی عجائب گھر میں نمبر 0001 ثقافتی باقیات کے طور پر رکھا کیا گیا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق1921سے 1949تک کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے 37لاکھ ارکان نے عوامی جمہوریہ کی تشکیل کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس تعداد میں گمنامی کی موت مرنے والے بے شمار افراد شامل نہیں ہیں ۔حالیہ برسوں میں یہ جذبہ چینی کمیونسٹس کی جانب سے ملک میں انتہائی غربت سے نمٹنے اور نوول کروناوائرس کی عالمی وبا کے خلاف جدوجہد کے دوران آگے بڑھایا گیا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے 3کروڑ90لاکھ سے زائد ارکان نے نوول کروناوائرس کیخلاف اگلے محاذ پر جنگ لڑی اور تقریبا400 نے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔اس سے مکمل آگاہی رکھتے ہوئے کہ غربت سوشلزم سے مطابقت نہیں رکھتی،کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے اصلاحات کی ابتدا کرنے اور کھلے پن کیلئے چینی عوام کی رہنمائی کی جس سے بے شمار افراد کی تقدیر بدل گئی۔ ان میں نوبل انعام یافتہ چھوٹا کسان مویان اور ایک نان سن ہوئی نامی ارب پتی بھی شامل ہے جس نے کبھی سڑک کے کنارے موچی کا کام بھی کیا تھا۔1949سے 2019تک چین کی فی کس خالص آمدنی میں درحقیقت اوسطا سالانہ 6.1 فیصد اضافہ ہوا۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے رہنما اپنی عوام پر مبنی فلسفے کے ساتھ مستقل مزاج رہے ہیں۔ 1934 کے ابتدائی وقت میں سی پی سی کے سرخ فوجیوں نے حکمران جماعت کومِن تانگ سے چینی عوام کو آزاد کرانے کے لئے جنگ لڑی۔ ما زے ڈنگ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ انہیں عوام کو درپیش مسائل حل کرنے ہونگے۔جس میں خوراک ، رہائش،لباس ، ایندھن ، چاول ، کھانا پکانے کا تیل اور نمک ، بیماری ،حفظان صحت اور شادی جیسے مسائل کو حل کرنا شامل تھا۔ ما نے کہا کہ مختصر یہ کہ عام آدمی کے روزمرہ زندگی کے تمام مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کردیا۔کئی دہائیوں بعد ما کے الفاظ دوہراتے ہوئے صدر شی نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کیلئے بہتر زندگی کا حصول ہمارا مقصد ہے۔شی نے چھِنگ ہائی کے دورہ کے دوران کہا کہ ان کی جماعت کے اراکین جہاں بھی ہوں، وہ دیہاتیوں سے ہمیشہ پوچھیں گے کہ آپ کس قسم کی اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ آئیں بہتر زندگی کیلئے مل جل کر کام کریں۔لوگوں کے روزگار سے متعلق امور جن میں ملازمت، آمدنی کی تقسیم ، تعلیم ، معاشرتی تحفظ ، طبی نگہداشت ، رہائش ، بوڑھوں،ضعیفوں اور بچوں کی دیکھ بھال اور خوراک کا تحفظ شامل ہیں ، ان تمام مسائل کے بہترین حل کا طریقہ ہی صدر شی کے ذہن میں اولین ترجیح کے طور پر موجود ہیں۔چین آلودگی کیخلاف جنگ کا اعلان کرچکا ہے کیونکہ لوگ “شفاف پانی اور سرسبز پہاڑوں” کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ملک نے 2030 تک کاربن کے اخراج کی سطح کو کم سے کم کر نے اور 2060 تک کاربن کا اخراج ختم کرنے کے عزائم کا اعلان کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چین نے 2000 سے 2017 کے درمیان انسانیت کی خاطر دنیا بھر میں ہریالی میں ایک چوتھائی حصہ ڈالا ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے سب پر واضح کر دیا ہے کہ اس کیلئے سب سے بڑی سیاسی کامیابی عوام کی فلاح و بہبود میں بہتری لانا ہے۔امریکی صحافی ایڈگر سنو نے 1930میں اس وقت چینی کمیونسٹ انقلاب کے مرکز یان آن کا دورہ کیا جہاں اس نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ اور خطہ کے عوام کے درمیان چٹان جیسی یکجہتی دیکھی۔ سی پی سی کی ریڈ آرمی اس وقت اگرچہ خستہ حال اور کم مسلح تھی لیکن ان کے اندر مضبوط بننے کی لگن موجود تھی۔ایڈگر سنو نے عوام اور پارٹی کے درمیان جس اتحاد کا مشاہدہ کیا وہ نہ ٹوٹنے والا رہا ۔ پرانے وقتوں میں لوگ رضاکارانہ طور پر انقلابی سپاہیوں کو کھانا فراہم کرتے۔ یہاں تک کہ زخمی ہونے والوں کیلئے اسٹریچر بنانے کے لئیاپنے لکڑی کے دروازے عطیہ کر د یتے تھے۔کروڑوں چینی شہریوں نے نوول کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں پارٹی اور حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے خود کو الگ تھلگ کر لیا تاکہ اس وائرس کے پھیلا ؤکو روکا جاسکے۔ “دنیا کی فیکٹری” یعنی دنیا بھر کو بے شمار چیزیں فراہم کرنے والے ملک چین نے اپنا کام زوروشور سے جاری رکھا۔ یہاں تک کہ چین کی ماسک تیار کرنے کی صلاحیت 10 کروڑ روزانہ سے تجاوز کر گئی ۔آج مزدور ، کسان ، طلبا ، نجی کاروباری افراد ، غیر ملکی کمپنیوں کے چینی ملازمین اور انٹرنیٹ کی با اثر شخصیات پر مشتمل کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے ارکان ہر شعبہ زندگی میں آسانی سے مل سکتے ہیں۔ ان کی عمروں اور کام میں فرق کے باوجود یہ سب لوگ عوام کی خدمت کررہے ہیں اور یہ ہی کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے بنیادی مقصد کا سب سے جامع اور درست خلاصہ ہے۔چینی عوام اپنے طریقوں سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی اچھی حکمرانی کو تسلیم کرتی ہے۔ لوگوں نے زلزلے میں جانیں بچانے والے امدادی کارکنوں سے اپنے اظہار تشکر کے لئے سرخ بینرز اٹھائے، بچوں نے سیلاب سے نمٹنے والوں کو اپنے پاؤں کے انگوٹھوں پر کھڑے ہو کر پانی پیش کیا، عمررسیدہ افراد انسداد وبا کے طبی قافلوں کے سامنے احتراما جھک گئے ، سنکیانگ میں دیہاتیوں نے غربت کے خاتمے میں مدد کرنے والے رضاکاروں کو پھول پیش کئے۔سال2020 میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی عوام کا حکومت کے بارے میں مجموعی اطمینان 93 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے۔ماس لائن ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں پارٹی کے آئین کے مطابق ارکان کے لئے لازمی ہے کہ وہ لوگوں کے قریب رہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ لوگوں کی دانشمندی اور طاقت کو یکجا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔چین کے مشرق میں واقع گاؤں شیاؤ گانگ نے وسیع طور پر چین کے نمبر ون اصلاحاتی گاؤں کے طور پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ 1978 میں غربت سے دوچار اس گاؤں کے 18 کسانوں نے ایک معاہدے پر خفیہ طور پر دستخط کرتے ہوئے اجتماعی زمینوں کو انفرادی زمین میں منتقل کرنے جیسے بڑے خطرات اٹھائے ۔ شیا گانگ سے ماخوذ انفرادی ذمہ داری معاہدے کا یہ نظام کچھ ہی برسوں کے دوران ملک بھر میں پھیل گیا۔قومی مسائل کو حل کرنے کے لئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی نچلی سطح پر عوامی دانش کو یکجا کرنے کی حکمت عملی کے لئے شیا گانگ کی تاریخی عمل کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔چین کی مکمل عملی جمہوریت، سوشلسٹ جمہوریت کا ایک منفرد طریقہ ہے اور یہ ہی اسے مغربی سیاسی نظام سے مختلف اور منفرد بناتا ہے۔ یہ نظام تمام مراحل سے گزرتا ہے جس میں انتخابات ، فیصلہ سازی ، انتظامیہ اور نگرانی شامل ہیں۔طریقہ کار کی بنیاد پر تمام اہم فیصلہ سازی کی جاتی ہے اور جمہوری صلاح مشوروں پر عمل درآمد کیا جا تا ہے۔14ویں پانچ سالہ منصوبے کی تشکیل کے لئے پارٹی قیادت کی تجاویز وضع کرنے کے لئے مختلف شعبوں سے وسیع پیمانے پر تبصرے اور تجاویز حاصل کی گئیں۔کچھ ہفتوں کے اندر آن لائن 10 لاکھ سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں۔ ان میں سے 546 تبصروں اور مشوروں مجموعی تجاویز میں شامل کیا گیا۔ یہ مسودہ تیار کرنے کا ایساعمل ہے جسے صدر شی کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی اندرونی جمہوریت اور چین کی سوشلسٹ جمہوریت کے لیے ایک واضح مثال قرار دیتے ہیں۔اس جماعت کا ماننا ہے کہ چین کو مغرب میں پائے جانے والی جمہوریت کے ماڈل کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اس نے ایک ایسی جمہوریت قائم کی ہے جو بذات خود اپنے ملک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔گزشتہ صدی کے دوران پارٹی نے آس پاس کی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی جماعت کی پالیسیاں بھی تبدیل کیں۔دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں آبادی کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے ایک ایسی تبدیلی کی گئی جس کے تحت ایک فیملی میں تین بچے ہوں۔لیکن ایک چیز جو اب بھی بدستور باقی ہے وہ چینی عوام کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا رشتہ ہے، اس تعلق کو عام طور پر مچھلی اور پانی کی طرح لازم و ملزوم کہا جاتا ہے۔پارٹی سمجھتی ہے کہ چینی عوام کے ساتھ اس کے تعلقات کے لئے سب سے بڑا خطرہ بدعوانی ہے۔چین میں سال 1952کے دوران پارٹی کے دو بدعنوان سینئر عہدیداروں لیو چھنگ شان اور ژانگ زی شان کو موت کی سزا دی گئی، اس سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے بدعنوانی کے خلاف اپنے ابتدائی عزم کا مظاہرہ کیا۔ یہ عزم آج بھی قائم ہے۔حالیہ برسوں کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے انسداد بدعنوانی کے نگران ادارے نے بدعنوان عہدیداروں کو بے دخل کردیا اور اس میں نچلی سطح سے لے کر اعلی درجے تک کے عہدیدار شامل تھے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی قائمہ کمیٹی کے سابق رکن ژو یونگ کانگ کی تحقیقات کچھ ایسے بیرونی افراد کے لئے حیرت کا باعث بنیں جنہیں شبہ تھا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی بدعنوانی کے خلاف مہم اس بلندی تک کبھی نہیں پہنچ سکے گی۔ 2015 میں صوبہ شان ڈونگ میں جب ایک نچلی سطح کے سرکاری ملازم نے ایک دکاندار کو دو سیبوں کی قیمت ادا نہ کی تو اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی گئی۔ یہ ضرورت سے زیادہ رد عمل نہیں تھا۔ اس سے لوگوں کو ما کے ایک مشہور قول کی یاد آئی۔ ما کا کہنا تھا کہ 1948 میں جب چین خانہ جنگی کا شکار تھا تب کمیونسٹ فوج نے عام شہریوں سے ایک بھی سیب نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ یہ عوام کے سیب تھے۔اسی جذبے کے تحت شی نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے تمام ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف نہ ختم ہونے والی جنگ میں ثابت قدم اور پرعزم رہیں۔ 2020 میں چین کے انسداد بدعنوانی کے اعلی ترین ادارے نے 6لاکھ4ہزار افراد کے خلاف کارروائی کی۔یہ پارٹی نہ صرف اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ وہ اصولوں پر کاربند اور پیشہ ورانہ رہے بلکہ اس کی ضمانت بھی دیتی ہے کہ اس وقت انتہائی جدید طریقے سے کامیابی کا سفر بھی جاری ہے۔صدر شی نے پارٹی کی تاریخ سیکھنے اور جاننے سے متعلق حالیہ مہم کے افتتاحی اجلاس میں عوام کے ساتھ پارٹی کے مضبوط تعلقات کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔یہ مہم آ گے بڑ ھنے کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اپنے ارکان کی سوچ یکجا کرنے،نظم وضبط میں اضافہ کرنے اور ان کے اخلاق کو بہترین کرنے کی حالیہ کوششوں میں سے ایک ہے۔ایک نئے سفر پر گامزن رہتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ اپنے وطن کو ایک ایسا عظیم جدید سوشلسٹ ملک بنانے کے لئے چینی عوام کی رہنمائی کر رہی ہیاور یہ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خوشحال ، مضبوط ، جمہوری ، ثقافتی طور پر ترقی یافتہ ، ہم آہنگ اور خوبصورت ملک ہو۔ یہ انسانی تاریخ میں پرامن ترقی کے ذریعے حاصل کردہ سب سے بڑی جدید ترین مہم ہو گی۔حال ہی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ سے تعلق رکھنے والے تین چینی خلابازوں نے خلامیں اڑان بھری ہے اور مدار میں پہلے سے موجود خلائی اسٹیشن کے مرکزی حصے تیان ہی میں داخل ہوئے ہیں اور یہ ہی ان کا اگلے تین ماہ تک ٹھکانہ ہوگا۔چین کے خلائی اسٹیشن کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد چینی خلاباز اپنے غیر ملکی ہم منصبوں کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کریں گے اور یہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اس نظریے کا ایک عملی مظاہرہ ہے جس میں انسانوں کے بہترمستقبل کے لئے مشترکہ برادری کی تشکیل کرنا شامل ہے۔اب جبکہ پارٹی کی سو سالہ تاریخ رقم کی جاچکی ہے ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ عوام کیلئے عوام ہی کے ذ ریعے ایک نیا باب لکھنے کے لئے تیار ہے۔

شیئر کریں

Top