یو این سیکرٹری جنرل کا فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری پر اظہار تشویش

Aqwam-Muttahida.jpg

فلسطینیوں کی املاک کی مسماری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں،بیان
نیویارک (یواین پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے وادی اردن کے شمالی علاقے حمصہ الفوقا کے مقام پر قابض اسرائیلی حکام کے ہاتھوں فلسطینیوں کے گھروں اور دیگر املاک کی مسماری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نیویاک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو این سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوگریک نے کہا کہ فلسطینیوں کی املاک کی مسماری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔اس طرح کے اقدامات سیجغرافیائی طور پر قابل قبول فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔گوٹیرس کے ترجمان نے قابض اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کی املاک اور گھروں کی مسماری اور غرب اردن میں فلسطینی املاک پر غاصبانہ قبضے کا سلسلہ روکیں۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مرکزاوچا اور دوسری غیر سرکاری تنظیموں کو حمصہ الفوقا کے مقام تک رسائی کی اجازت دینے سے روک رہے جس کے نتیجے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حمصہ الفوقا کے مقام پرمکانار کی مسماری سے متاثر ہونے والے فلسطینیوں کو کس نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں۔
اسرائیلی آباد کاری جنگی جرائم کے مترادف ہے، اقوام متحدہ
بستیوں کے تحفظ کے ساتھ فلسطین کی زمینوں پر قبضہ کرنا مغربی کنارے پر اسرائیل کی حقیقت واضح کردیتی ہے،مائیکل لنک
جنیوا(یواین پی) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیش کار نے کہا ہے کہ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)میں یہودی بستیاں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری جنگی جرائم کے مترادف ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے ممالک سے اسرائیل سے اس کے غیر قانونی قبضے کی قیمت لینے کا مطالبہ کردیا۔مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ مائیکل لنک نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا، جس کا اسرائیل نے بائیکاٹ کیا تھا، اسرائیل اس کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بستیوں میں اسرائیلی جنگی جرم ثابت ہوتا ہے۔مائیکل لنک نے کہا کہ اسرائیلی جانب سے آزاد بستیوں کو مقبوضہ میں تبدیل کرنے کی مکمل پابندی کی خلاف ورزی ہے جس کی رو سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی)کے قائم کردہ آئین کے تحت جنگی جرم کی تعریف پر پورا اترتی ہے۔مائیکل لنک نے بتایا کہ میں آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ رپورٹ کے نتائج بین الاقوامی برادری کو پابند کرتی ہے کہ وہ اسرائیل پر یہ واضح کردے کہ اس کا غیر قانونی قبضہ اور اس سے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی رائے سے انکار اب لاگت سے پاک نہیں ہوسکتا ہے۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے اسرائیلی مشن نے ایک بیان میں مائیکل لنک کی رپورٹ کو اسرائیل کے خلاف یکطرفہ اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کے حکمران حماس کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔مائیکل لنک نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بدھ کے روز مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں بیڈوین خیموں کے مکانوں کو مسمار کرنے کے نتیجے میں رہائشیوں کو کھانا یا پانی نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ بستیوں کے تحفظ کے ساتھ فلسطین کی زمینوں پر قبضہ کرنا مغربی کنارے پر اسرائیل کی حقیقت واضح کردیتی ہے۔جنیوا میں اقوام متحدہ میں یورپی یونین کے سفیر لوٹے نوڈسن نے کہا کہ اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جبری طور پر منتقلی، بے دخلی، مسمار کرنے اور مکانات ضبط کرنے جیسے اقدامات سے پہلے ہی تنا کا ماحول بڑھ جائے گا۔عالمی عدالت کے اس اقدام کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ‘انسداد یہودیت کا نچوڑ’ بتایا جبکہ فلسطینی حکام نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے ساتھ جون 2014 سے چاروں طرف سے بند غزہ کی پٹی کی صورتحال کی ‘فوری اور ضروری’ تحقیقات کے طور پر آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر فاتو بنسودا کے فیصلے کو سراہا تھا۔اس اقدام سے ہیگ میں قائم ٹربیونل، جو اسرائیل اور اس کی حلیف امریکا کی طرف سے مسلسل تنقید کا سامنا کرتا رہتا ہے، کو دنیا کے ایک انتہائی مشکل تنازع اور خطرے میں ڈال دیا ہے۔

شیئر کریں

Top