شہباز شریف اداروں کے اوپر اثر انداز ہونےکی کوشش کر رہے ہیں، شہزاد اکبر

Fawad-Chaudhry.jpeg

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی پریس کانفرنس کے جواب میں مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہےکہ لندن جانے سے روکے جانے کے بعد شہباز شریف اب چھوئی موئی شریف بن چکے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا حالیہ لطیفہ یہ ہےکہ ان کو ایف آئی اے نے ہراساں کیا، ان کو 15 جون کو طلبی کا نوٹس دیا گیا اور وہ 22 جون کو تشریف لائے، ان کے دور میں کوئی نوٹس نہیں دیا جاتا تھا بلکہ اٹھا لیاجاتا تھا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نیب کے پاس ان کا ٹی ٹی کا کیس ہے اور ایف آئی اے کے پاس دو شوگرملز کے 14 ملازمین کے اکاؤنٹ سے متعلق کیس ہے، شہبازشریف کے ایف آئی اے کے معاملے پرکنفیوژن پھیلائی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر چبھتے ہوئے سوالات سے آپ ہراساں ہوتے ہیں تو ہم معذرت ہی کرسکتے ہیں، ایف آئی اے کے تمام انٹرویوز ریکارڈ ہوتے ہیں،یہ اداروں کے اوپر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ایف آئی اے میں ان سے اکاؤنٹس سے متعلق سوال ہوا ، ایک شخص نے ن لیگ میں شمولیت اختیارکی اور شہبازشریف سے ملاقات میں 1کروڑ روپے کا چیک دیا، وہ چیک اس ملازم کے اکاؤنٹ میں جمع ہوا جو فوت ہو چکا ہے، ایف آئی اے جب یہ سوال شہباز شریف سے پوچھتی ہے تو وہ اسے ہراساں کرنا کہتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شہبازشریف تیار ہی نہیں ہیں جواب دینے کے لیے، شہبازشریف کو خود پر لگے الزامات کا جواب ایف آئی اے کو دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹوزرداری کشمیر کی انتخابی مہم چھوڑ کر فرار ہوچکے، بہت جلد مریم نواز بھی کشمیر میں الیکشن مہم سے راہ فرار اختیار کرلیں گی۔

وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں ہونے والی بجلی کی لوڈشیڈنگ پیداوار کی کمی سے نہیں ترسیلی نظام کی کمزوری کی وجہ سے ہے، شہبازشریف بتائیں، اگر انہوں نے سستے سودے کیے تھے تو 1200 ارب روپے کے گردشی قرضے کیوں بڑھے۔

شیئر کریں

Top