آزاد کشمیر انتخابی معرکہ اور سیاسی رویے (محمد نورالہدیٰ)

آزاد کشمیر میں انتخابی گہما گہمی بالآخر اختتام پذیر ہوئی۔ اس انتخابی معرکہ میں کس کا بیانیہ کامیاب رہا اور کس کے بیانئے کو شکست ہوئی، اس بحث سے قطع نظر، یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ ہم کشمیر پر صرف سیاست کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ہو یا آزاد کشمیر، ہمارے سیاسی ’’شاہینوں‘‘ نے کشمیر کے نام پر بہنے والی گنگا سے ہمیشہ اپنے اپنے ہاتھ دھوئے ہیں اور کشمیر کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر وہاں سیاست کی ہے۔ آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات کی الیکشن مہم میں جو سیاسی قیادت مصروف رہی، اس کی صرف گذشتہ دو ہفتوں کی تقاریر پر نظر دوڑا لیجئے۔ ان کے کُل بیانئے میں کشمیریوں کے حقیقی مسائل سے اظہار دلچسپی کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ متضاد رویوں اور دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کی کردار کشی اور ان کے خاندانی پس منظر پر تنقید سے لے کر سیاسی جماعتوں پر مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں الزامات، بھارت کی جانب جھکاؤ، ریاست دشمن ایجنسیوں سے روابط اور ایسے ہی دیگر الزامات لگا کر کشمیریوں کو گمراہ کرتے کرتے اور نت نئے لالچ دے کر تمام الیکشن مہم گزار دی گئی۔
انتخابی گہما گہمی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے الزام تراشی اپنے عروج پر دکھائی دی۔ یہاں تک کہ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے انتخابی جلسوں کے دوران ملک کی حکمران جماعت کی کشمیر بارے ایسی ایسی پالیسیاں ’’بے نقاب‘‘ کی گئیں، جن کا کوئی سر، پیر نہ تھا۔ فقط آپسی خلش کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا رہا اور تقاریر کے ذریعے سیاسی بھراس نکالی گئی۔ کشمیر کاز کو بنیاد بناتے ہوئے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ لفظی حملے کئے گئے اور مخالف کو کشمیر دشمن ظاہر کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ ناشائستہ زبان استعمال کرنے کے ریکارڈ بنائے گئے۔ الیکشن چرانے اور الیکٹڈ و سلیکٹڈ کا شور کشمیر تک بھی پہنچا دیا گیا۔
قصہ مختصر یہ کہ کشمیر کے گرد گھومتی غیر سنجیدہ سیاست سے ہمارے سیاسی راہنماؤں کی عدم دلچسپی واضح دکھائی دی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بلیم گیم کے اس پورے منظرنامے میں کشمیریوں کو نہ کبھی سنا گیا، نہ سمجھا گیا۔ ماضی میں کشمیر کمیٹیاں بھی کشمیریوں کیلئے فقط لالی پاپ کا کردار ادا کرتی رہیں جبکہ ہمارے سیاستدانوں کی آپس میں نااتفاقی اور مجموعی طور پر ان کے نام نہاد کردار نے انہیں کشمیر پر کبھی اکٹھا ہونے ہی نہیں دیا۔ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ جو بیتی، اس کی بنیادی وجہ بھی ہمارے سیاستدانوں کا مجموعی رویہ اور کردار تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس صورتحال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتے ہوئے حقیقت سے کنی کترانے اور اپنا اپنا دامن بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں روز بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ آزاد کشمیر میں بارڈر کے قریبی علاقوں پر سرحد کے اس پار سے اکثر گولہ باری ہوتی جس سے عام لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ روزانہ کشمیر میں کتنے ہی گھر جلنے اور آبروریزی کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ بھارت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کیلئے ہر حربہ آزما رہا ہے ۔ ۔ ۔ آزاد کشمیر میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے والوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس نے کبھی بھارت کے سفاکانہ اقدامات کے خلاف احتجاج یا مذمت کی ہو ۔ ۔ ۔ ان میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے کبھی آزاد کشمیر میں بھارتی جارحیت کا شکار ہونے والوں کے گھر جا کر تعزیت کی ہو ۔ ۔ ۔ یا سرحدوں پر جا کر بھارت کے خلاف برسر پیکار نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایا ہو ۔ ۔ ۔ یا شہداء کے لواحقین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا ہو ۔ ۔ ۔ یہ صرف اتنا ہی بتا دیں کہ انتخابی مہم کے علاوہ ایل او سی پر آخری بار کب گئے تھے؟ تو گریبان میں شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔
فقط انتخابات کے مواقعوں پر محلوں سے باہر نکلنے والی ممی ڈیڈی لیڈر شپ کشمیریوں پر جب نسلوں نسلوں کے ساتھ کا حق اور احسان جتاتی ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ یہ کس عیاری سے کشمیر میں بھی پاکستانی سیاسی کلچر کی آبیاری کر رہے ہیں اور کشمیریوں کی سادگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کوئی دعویٰ کرتا رہا کہ کشمیر میں الیکشن نہیں سلیکشن ہو رہی ہے۔ کوئی اپنے خاندان پر ہونے والے سیاسی مظالم کا رونا روتا دکھائی دیا۔۔ کسی نے اپنے ادوار میں کشمیریوں کیلئے سب سے زیادہ آواز اٹھانے کا دعویٰ کیا۔ کوئی کشمیر کو صوبہ بنانے کا ’’منصوبہ‘‘ بے نقاب کرتا رہا ۔ ۔ ۔ تو کوئی وہاں ’’کٹھ پتلی‘‘ وزیر اعظم مسلط کرنے بارے کشمیری عوام کو ’’ہوشیار‘‘ کرتا رہا ۔ ۔ ۔ غرض آزاد کشمیر میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے والوں نے جہاں کشمیر کے حوالے سے اپنا سیاسی شعور دنیا کے سامنے آشکار کیا، وہیں آزاد کشمیر کو بھی نہ صرف متنازعہ بنانے کی کوشش کی، بلکہ اپنی تقاریر کے ذریعے ملک دشمن اداروں اور ممالک کو کشمیر اور پاکستان کے درمیان خلیج بڑھانے کیلئے نت نئے نکات بھی فراہم کئے۔ یہ سمجھتے رہے کہ شاید ایسا کرکے یہ ایک دوسرے کی مقبولیت پر اثرانداز ہو جائیں گے۔ حالانکہ غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو وہ تمام تر مہم میں فقط اپنا اپنا گراف ہی گراتے رہے۔
قابل ذکر امر یہ کہ ان میں سے کسی کو بھی بھارت، را، یا مودی سے کوئی تکلیف نہیں تھی، سب شاید آپس میں ہی ایک دوسرے سے خائف تھے۔ کشمیر کی سیاست کو آلودہ کرنے والے سیاستدان شاید بھول بیٹھے کہ کشمیری ایک سنجیدہ، حساس، غیور اور سمجھدار قوم ہے۔ وہ ہمیشہ بہتر فیصلہ کرتی ہے۔ تمام سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے بارے میں ’’اصلیت‘‘ سن کر بھی انہوں نے جو فیصلہ دیا، ان کے نزدیک یقینا درست ہوگا۔
تاہم الیکشن ختم ہو چکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قائدین اپنے اپنے طرز عمل کا جائزہ لیں کہ الزام تراشی اور بہتان بازی کی سیاست سے انہیں کیا فائدہ ہوا۔ اس روش سے کشمیریوں کے کس قدر مسائل حل ہوئے اور جمہوریت کی پائیداری میں کتنا اضافہ ہوا۔ جن کے سامنے انہوں نے بازاری الفاظ اور بے سروپا الزامات عائد کئے، ان لوگوں کو کیا حاصل ہوا؟
اب وقت آگیا ہے کہ جس طرح الیکشن کمیشن انتخابات حوالے سے ضابطہ اخلاق بناتا ہے، اسی طرح انتخابی مہمات میں زبان کے استعمال اور بہتان بازی سے اجتناب کے حوالے سے بھی ضابطہ اخلاق متعارف کروائے۔ تاکہ سیاست میں شائستگی غالب آ سکے اور اشتعال انگیزی اور سیاسی چرب زبانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے سیاستدان اپنا رویہ تبدیل کریں اور ملک میں صحیح معنوں میں جمہوری فضا کو پروان چڑھائیں۔ وگرنہ دشمن تو پہلے ہی تمام صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ آگے بھی اٹھاتا ہی رہے گا۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور ہماری سیاسی قیادتیں ’’’بوجوہ‘‘ اپنے عمل سے دشمن کو بھرپور انداز میں یہ موقع فراہم کئے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں

Top