مجید نظامی مرحوم ایک عہدساز شخصیت اور آبروئے صحافت تھے

وہ ایک سچے پاکستانی تھے وطن کی محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی وہ نظریہ پاکستان کے امین تھے حق بات کہنے سے ذرا بھی نہیں کتراتے تھے اور ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی عملی تفسیر تھے۔ انہوں نے آمریت کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایوب خان، اورپرویز مشرف کی آمریت اور بھٹو دور میں ان کے غیر جمہوری اقدامات کے خلاف آوازبلند کی اس طرح انکی سربراہی میں ان کے ادارہ نے عملی طور پر اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا انہوں نے کشمیر ‘ افغانستان سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں صدا بلند کی پاکستان کیلئے انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مجید نظامی نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کا کردار نہایت جرأت سے ادا کیا۔ مجید نظامی کو تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ رہبر پاکستان اور آبروئے صحافت تھے انکی سوچ کا مرکز و محور اسلام اور پاکستان تھا۔ا نہوں نے ہمیشہ اپنے قلم سے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کیا۔ جناب مجید نظامی نے ہمیشہ کلمہ حق بلند کیا اور شعبہ صحافت میں معیاری‘ تعمیری اور نظریاتی صحافت کو فروغ دی مجید نظامی 3 اپریل 1928کو سانگلہ ہل میں پیدا ہوئے آپ مجید نظامی ٹرسٹ کے چیئرمین ، نوائے وقت گروپ آف پبلیکیشن آف پاکستان کے چیف ایڈیٹر اور ناشر تھے۔ نوائے وقت اخبار کی بنیاد ان کے بڑے بھائی حمید نظامی (3 اکتوبر 1915۔22 فروری 1962) نے 1940 ء میں رکھی تھی ، جو بعد میں پاکستان میں 46 سال کی عمر میں 1962 میں وفات پاگئے اور اب اس کی ملکیت مجید نظامی ٹرسٹ کے پاس ہے۔ مجید نظامی نے اپنا ذاتی اخبار روزنامہ ندائے ملت بھی جاری کیا پھر کچھ عرصہ بعد اسے نوائے وقت میں ضم کردیا 1962 میں نوائے وقت اخبار کے انتظام کا آغاز کیا ۔ مجید نظامی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین بھی رہے انہوںنے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور پھر 1954 میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن چلے گئے۔ برطانوی دور میں اپنے طالب علمی کے دوران انہوں نے فعال طور پر میں شرکت تحریکِ پاکستان میں ایک فعال کارکن کی حیثیت سے بھرپور کردار اداکیا مجید نظامی 48 سال کے لئے ایک اخبار گروپ کے ایک ایڈیٹر، کے ساتھ ساتھ ایک صحافی کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے میں سے ایک تھا .26 جولائی 2014ء کو رمضان المبارک کی ستائیسویں شب وصال فرما گئے تھے۔ مجید نظامی کو اعلیٰ صحافتی اور ملی خدمات پر حکومت پاکستان کی طرف سے 3 مختلف ایوارڈز نشان امتیاز (آرڈر آف ایکسی لینس) ایوارڈ، ستارہ امتیاز (اسٹار آف ایکسی لینس) ایوارڈ،ستارہِ پاکستان (اسٹار آف پاکستان) ایوارڈ،لیونگ لیجنڈ آف جرنلزم ایوارڈ 2010 میں نوازا گیا جبکہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2011 میں دیا جب بھی نامور،نڈر بے باک صحافیوںکا تذکرہ کیا جائے گا مجید نظامی مرحوم کا تذکرہ ناگزیرہوگا۔

شیئر کریں

Top