امریکہ کا افغانستان کے بعد عراق سے بھی اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان

TL_US_War_Afghanistan-1.jpg

عراق سے سال کے اختتام تک اپنے فوجی واپس بلالیں گے، تربیت کار افسران وہیں موجود رہیں گے، امریکی فوج کا کردار داعش سے لڑنے کیلئے عراقی فوج کو عسکری مہارت میں اضافے کیلئے تربیت، مدد اور معاونت دینے تک محدود ہوجائیگا
امریکی صدر جو بائیڈن کی عراقی وزیراعظم مصطفی الخادمی سے اوول میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو
اوول(آئی این پی) امریکی صدر جو بائیڈن نے عراق سے 18برس بعد رواں سال کے اختتام تک اپنے تمام فوجی واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا تاہم تربیت کار افسران وہیں موجود رہیں گے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن سے عراق کے وزیراعظم مصطفی الخادمی سے اوول میں ملاقات کی جس کے دوران عراق سے امریکی فوجیوں کے رواں سال کے اختتام تک انخلا پر اتفاق کیا گیا۔میڈیا سے گفتگو میں صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اس سال کے اختتام تک عراق میں تمام فوجی مشن مکمل کرلیں گے جس کے بعد امریکی فوج کا کردار داعش سے لڑنے کے لیے عراقی فوج کو عسکری مہارت میں اضافے کے لیے تربیت، مدد اور معاونت دینے تک محدود ہوجائے گا۔عراق میں اس وقت ڈھائی ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور ان کا کردار اب بھی معاونت اور مشاورت ہی ہے اس لیے امریکی صدر کے اس بیان سے عراق میں امریکی فوجیوں کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈھائی ہزار امریکی فوجیوں میں سے کتنے وطن واپس لوٹ آئیں گے اور کتنے عراقی فوج کو تربیت دینے اور معاونت کے لیے وہیں موجود رہیں گے۔عراق کے وزیر اعظم مصطفی الخادمی نے امریکی صدر سے ملاقات سے ایک روز قبل انٹرویو میں کہا تھا کہ عراقی فوجی اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کے لیے اب امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں رہی ہے۔واضح رہے کہ داعش کے مضبوط ہونے کے بعد امریکی فوجی مارچ 2003 میں عراق میں داخل ہوئے تھے تاہم داعش کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نصف امریکی فوجیوں کو گزشتہ برس واپس بلالیا تھا اور بقیہ ماندہ کی بھی جلد واپسی کا عندیہ دیا تھا۔

شیئر کریں

Top