تبت کی ترقی مغربی ناقدین کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے: تبصرہ

Tibet.jpg

لہاسہ(شِنہوا)چین کے تبت خود اختیار خطہ رواں سال اپنی پرامن آزادی کی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے، یہ اس کے سوشلسٹ نظام اور گورننس کے لیے فتح کا ایک لمحہ ہے جو مغربی سیاستدانوں کے لئے ایک طاقتور پیغام ہے جو اس کی شاندار ترقی کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔سال 1951میں تبت کی پرامن آزادی کے اقدامات کے لئے مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی مقامی حکومت کے درمیان 17- آرٹیکل معاہدہ کے نام سے معروف معاہدہ نے باضابطہ طور پر تبت کی پرامن آزادی کا اعلان کیا۔اس آزادی نے 1959 میں اس دور کی جمہوری اصلاحات کے ساتھ تبت کو اپنے رجعت پسند ، آمرانہ اور الگ تھلگ ماضی کو خیر آباد کہتے ہوئے ایک خوشگوار اور کھلے مستقبل کو گلے لگانے میں مدد فراہم کی ہے۔اس خطے میں تقریبا 36 لاکھ 50ہزار لوگ آباد ہیں جو 2010 کے مقابلے میں 21.52 فیصد زیادہ ہیں، ان میں سے 86 فیصد سے زیادہ آبادی تبتی ہے۔تبت کی اوسط متوقع عمر 1951 میں 35.5 سال تھی جو کہ بڑھ کر 2019 میں 71.1 سال ہوگئی ہے۔اس علاقے میں تبتی بدھ مت کی سرگرمیوں کے لیے 1700 سے زائد مقامات ہیں جن میں 46 ہزار راہب اور راہبائیں موجود ہیں۔ روایتی تبتی ثقافت کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں ریاست اور خطے نے ثقافتی آثار کی تزئین و آرائش پر 5 ارب یوآن (77 کروڑامریکی ڈالرز) سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ تبتی اوپرا ، گیسر ، سووا رگپا کے لوم دواں کے غسل کو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔تبت میں انتہائی غربت کے خاتمے کے بعد جدید بنیادی ڈھانچے کے ساتھ معاشی ترقی کا ایک تیز رفتار رجحان جاری ہے۔تبت کی کامیابیاں مغرب کے بعض افراد کو جواب دینے کے لئے کافی ہونی چاہئیں کہ وہ شنگریلا کے اس افسانے کے مطابق اپنا جمود ترک کردیں جو کہ ابدی مذہبی حکمرانی اور ایک روحانی دنیا کو مثال بنا کر پیش کرتے ہیں اور کسی بھی جدید ترقی کو قابل مذمت سمجھتے ہیں۔تبت نے گزشتہ 70 برسوں میں اپنے تاریک دور کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ظالمانہ ، جاگیردارانہ نظام کو سوشلسٹ نظام میں تبدیل کر دیا ہے، علاقائی نسلی خوداختیاری کو کام میں لایا گیا اور باقی قوم کے ساتھ اصلاحات اور کھلے پن کے اقدامات کیے ہیں۔ملک کی سلامتی کے نظریہ میں ایک اہم مقام رکھنے والے ایک خطے کے طور پر تبت کو مرکزی حکام کی طرف سے خاص توجہ حاصل ہے اور دیگر صوبوں کی جانب سے اس کی ترقی کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر مدد کی جارہی ہے۔ مرکزی بجٹ نے خطے میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کیلئے فنڈز فراہم کئے ہیں جن میں ریلوے اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔تبت پائیدار ترقی اور دیر پا خوشحالی کو برقرار رکھنے کیلئے علیحدگی پسندگی پرمشتمل سازشوں کی ثابت قدمی سے مخالفت کرتا ہے۔ 14 ویں دلائی لامہ اور ان کے پیروکار جنہیں چین مخالف مغربی قوتوں کی حمایت حاصل ہے، یہ کئی سالوں سے تبت میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے واقعات کو ہوا دے کر “تبتی آزادی” کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان سیاسی جلاوطنوں کے ساتھ ساتھ بعض مغربی سیاستدانوں اور تنظیموں نے تبت کو نشانہ بناتے ہوئے غلط معلومات کی مہم شروع کررکھی ہے۔ وہ آزادی کو “جبر” کہتے ہیں اور خطے میں چین کی پالیسی کو بدنام کرتے ہیں۔ان کی ثقافتی تباہی اور نسل کشی کی چیخیں سچ نہیں ہیں۔ نسلی، مذہبی ، جمہوری اور انسانی حقوق کے مسائل کے حوالے سے ان کے بار بار الزامات در حقیقت چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیلئے “تبتی آزادی” کے خیال سے کارفرما ہیں۔تبت سے متعلق یہ داستانیں 19 ویں اور 20 ویں صدی کے اوائل میں خطے میں سامراجی جارحیت سے جڑی سراسر جہالت یا بالادستی کی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔1980 کی دہائی سے تبت میں ہونے والی بدامنی کو پھیلانے میں مغربی قوتوں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔چین قومی خودمختاری اور نسلی وحدت کی حفاظت کے اپنے عزم و ہمت کے ساتھ “تبت کارڈ” کھیلنے کی کوشش میں مصروف مداخلت کرنے والے ہاتھوں کو حالات بدلنے کی اجازت نہیں دے گا اور تاریخ ،خطے اور پورے ملک میں مختلف نسلی گروہوں کی مشترکہ مرضی کیخلاف ہونے والی کسی بھی علیحدگی کی کوشش ناکام ہو گی۔تبت میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت میں لوگ اب اعتدال پسند خوشحال زندگی گزار رہے ہیں جو کہ خطے کی پرامن آزادی سے پہلے ناقابل تصور تھا، وہ یقین رکھتے ہیں کہ اتحاد ، جدت کی مہم اور مرکزی حکام کی جانب سے مسلسل تعاون کے ذریعے ایک روشن مستقبل تشکیل ہوگا۔

شیئر کریں

Top