پی پی کی بدولت کوئی گورنر،وزیراعلیٰ اور ڈپٹی کمشنر عوامی نمائندوں کو وقت بھی نہیں دیتا تھا:سیکرٹری اطلاعات پیپلزپارٹی

Sadia-Danish.jpg

این سی پی اور دھاندلی زدہ وزیراطلاعات حکومت کی نو ماہ کی نام نہاد کارکردگی اور غیر سنجیدہ حکمرانی پر پردہ ڈالنے کیلئے اپوزیشن لیڈر پر کیچڑ اچھال رہے ہیں،سعدیہ دانش
پی پی نے راجگی نظام کاخاتمہ کرکے عوام کوجینے کاحوصلہ دیا، نلتر اور سدپارہ جیسے بجلی کے عظیم منصوبے دئیے،عوام کوروزگاردیا،لوٹوں اورسیاسی یتیموں کاپی پی سے کیامقابلہ ؟
گلگت(بادشمال نیوز)ممبر اسمبلی و صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہی آج کوئی گورنر،کوئی وزیراعلی اورکوئی وزیراطلاعات بناہواہے ورنہ ڈپٹی کمشنرتو منتخب نمائندوں کو ملاقات کیلئے وقت ہی نہیں دیتے تھے گلگت بلتستان کا بچہ بچہ اور پیپلزپارٹی کا بدترین دشمن بھی گلگت بلتستان کے عوام کیلئے پیپلزپارٹی کی خدمات اور اصلاحات کا معترف ہے یہ پیپلزپارٹی ہی ہے جس نے گلگت بلتستان سے راجگی نظام کو ختم کرکے عوام کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ اور عوام کو جینے کا حق دیا مگر حکمران جماعت واپس اس آمرانہ نظام کو گلگت بلتستان کے عوام پر مسلط کرنے کیلئے سرگرداں ہے۔ این سی پی اور دھاندلی زدہ وزیراطلاعات صوبائی حکومت کی نو ماہ کی نام نہاد کارکردگی اور غیر سنجیدہ حکمرانی پر پردہ ڈالنے کیلئے اپوزیشن لیڈر پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ اور یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بیانات سے ثابت ہو رہا ہے کہ انہیں ابھی تک اس بات کا یقین ہی نہیں کی کہ یہ اب حکومت کا حصہ ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں گلگت بلتستان کو نلتر اور سدپارہ جیسے بجلی کے عظیم منصوبے دئیے انتظامی یونٹس بنائے اور بے روزگار جوانوں کیلئے ملازمت کے بے شمار مواقع پیدا کئے ۔لوٹوں اورسیاسی یتیموں کاپی پی سے کیامقابلہ ہوسکتاہے۔ 1970 سے لیکر 2009 تک شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف زرداری تک پیپلزپارٹی نے ہر دور اور ہر قائد کے زیرسایہ گلگت بلتستان کی آئینی، انتظامی، عدالتی، معاشی، تعلیمی اور تعمیر و ترقی کیلئے جو کام کئے اس کے متعلق موسمی جماعت کے حکمران سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ بڑے بڑے فیصلے کرنے کے لئے عوام کا اعتماد اور سیاسی شعور اور عوامی مینڈیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو الیکٹیڈ نمائندوں کے پاس ہوتا ہے جو خود سلیکٹڈہوں انہیں عوام سے کیا غرض ہوگی۔ پیپلزپارٹی الیکشن میں اپنے منشور اور ان خدمات کو ہی لیکر عوام کے سامنے جاتی ہے جبکہ ہمارے مدمقابل ہر جماعت نے ہر دور میں سیاسی لوٹوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں کو استعمال کرکے اقتدار حاصل کیا۔ گلگت بلتستان میں محض پیپلز پارٹی نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ہوں یا میڈیا کے یا عوام ،سب کی موجودہ صوبائی حکومت کے حوالے سے ایک ہی رائے ہے کہ نااہل ، غیر سنجیدہ اور سیاسی یتیم ہیں اور پیپلز پارٹی کے علاوہ وفاق میں آنے والی ہر جماعت ان سیاسی یتیموں کی وارث ہے۔ آج گلگت بلتستان میں جس شعبے کی طرف اشارہ کیا جائے وہاں مسائل اور بدانتظامی نظر آرہی ہے۔ داریل سے لیکر گانچھے تک صحت کی سہولیات کا فقدان ہے لوگ حکومت کی بے حسی اور نااہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں جبکہ وزیر اعلی اور وزراء میڈیا میں تشہیر کے لیے بیانات تو داغتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد صفر ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام آیے روز احتجاج پر مجبور ہورہے۔ مضر صحت گندم، اشیا خورد و نوش فروخت ہورہے ہیں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے غریب تو دور کی بات سفید پوش طبقے کیلئے زندگی گزارنامشکل ہوچکا اور پینے کا پانی پاکستان کی سطح پر آلودہ ترین اور ٹائیفائیڈ زدہ ہے جہاں پر پانی کی ٹینکیوں سے کہیں مردہ بلیاں اور کہیں مینڈک برآمد ہوں وہاں بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہی ہو گا مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اور وزرا کونسل انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف گروہ بندیوں میں مصروف ہیں اور اگر ان کی نااہلی اور ان کے غیر سنجیدہ طرز حکومت پر بات کریں اس کی نشاندہی کریں تو جواب میں اپنی گورننس بہتر بنانے کی بجائے گالم گلوج بریگیڈ اوٹ پٹانگ بیانات داغناشروع کردیتاہے
سعدیہ د انش

شیئر کریں

Top