ججز تقرریاں سنگین اعتراضات وزیراعظم سیکرٹریٹ نے فائل واپش کر دی

Kosovo-Justice-image-1920x960-1.jpg

حکومت نے چیف کورٹ میں پانچ ججوں کی تعیناتی کیلئے پندرہ ناموں پر مشتمل سمری ارسال کی تھی، پرائم منسٹر سیکرٹریٹ نے تین ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے پر بھی سوال اٹھادیا
چیف کورٹ میں ججوں کی تعداد چھ ہو گئی ، ایک اضافی جج کی آسامی کی وفاق سے منظوری نہیں لی گئی جس کی وجہ سے ، اضافی آسامی کے مالی و انتظامی اموربھی طے نہیں کئے جاسکے
گلگت(بیورو رپورٹ)گلگت بلتستان میں چھ ججوں کی تقرریوں پر سنگین اعتراضات عائد کر کے وزیراعظم سیکرٹریٹ نے فائل واپس کر دی ۔معتبر ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے چیف کورٹ میں پانچ ججوں کی بھرتیوں کے لئے پندرہ ناموں پر مشتمل سمری وزیراعظم سیکرٹریٹ کوارسال کی تھی حکومت کی طرف سے سرکاری افسر کی تعیناتی نہ کرنے کی سفارش پر ،ایک جج کیلئے تین نام کی شرط پوری نہ ہونے اور پانچ میں سے ایک جج کی آسامی کی منظوری نہ ملنے سے درپیش مالی و انتظامی ابہام پر اعتراض اٹھایا گیا ذرائع کے مطابق پرائم منسٹر سیکرٹریٹ نے تین ناموں کو جج کیلئے شارٹ لسٹ کرنے پر بھی سوال اٹھایا بتایا جاتا ہے گلگت بلتستان میں چیف کورٹ میں اب تک صرف چیف جسٹس کی تقرری ہوئی ہے جبکہ پانچ ججوں کی آسامیاں خالی ہیں تاہم ایک جج کی ایک آسامی آرڈر 2018 کے تحت اصلاحات میں منظور کر لی گئی ہے جس سے چیف کورٹ میں ججوں کی تعداد بشمول چیف جج چھ ہو گئی مگر مذکورہ اضافی جج کی آسامی کی وفاق سے منظوری نہیں لی گئی جس سے اس اضافی آسامی کے مالی و انتظامی امور طے نہیں کئے جاسکے ہیں ذرائع کے مطابق مذکورہ وجوہات کو بنیاد بنا کر وفاق نے سمری پر ایک اور سوال اٹھایا ہے۔
اعتراضات

شیئر کریں

Top