‘افغان خواتین کیلئے شریعت کے تحت طاقتور اور مؤثر انتظامیہ قائم کی جائے گی ‘

264344_6910921_updates.jpg

طالبان کے ترجمان اور افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کیلئے شریعت کے تحت طاقتور اور مؤثر انتظامیہ قائم کی جائے گی۔

افغان خبر رساں ایجنسی کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت کی خواتین کی وزارت خواتین کی نام نہاد انتظامیہ تھی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ خواتین کیلئے انتظامیہ اسلامی اصولوں کے فریم ورک میں بنائی جائےگی اور اس انتظامیہ کو کسی وزارت یا وزارت کی سب ڈویژن کا نام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ماضی میں خواتین کی وزارت نے افغان خواتین کی زندگی کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا،وزارت ہونے کے باوجود دیہی علاقوں میں خواتین بنیادی حقوق سے محروم رہیں جبکہ اب افغان خواتین کیلئے شریعت کے تحت طاقتور اورمؤ ثر انتظامیہ قائم کی جائے گی۔

واضح رہے کہ 17 ستمبر کو طالبان نے خواتین کی وزارت کو وزارتِ اخلاقیات میں تبدیل کردیا تھا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب افغانستان میں لڑکیوں کو سیکنڈری اور ہائی اسکولز میں جانے کی اجازت نہیں لیکن طالبان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کے اسکولزکو دوبارہ شروع کرنے کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

Top