ڈی جی آئی ایس آئی کا معاملہ، کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

266453_5670829_updates.jpg

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو ’’ضابطے کی اس کوتاہی‘‘ سے آگاہ نہیں کیا جس کی وجہ سے فوج اور آئی ایس آئی میں ہونے والی حالیہ تقرریوں پر سنگین تنازع پیدا ہوا، لیکن یہ کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ملک کو درپیش بیرونی چیلنجز کے تناظر میں اور افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر آئی ایس آئی کے موجودہ چیف عہدے پر بدستور کام کرتے رہیں۔

ایک وزارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو یقین دہانی کرائی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں، کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے اپنا معمول کا جملہ دہرایا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

دی نیوز نے ایک اور وزیر سے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ ان کے اور آرمی چیف کے درمیان بہترین تعلقات ہیں جو باہمی احترام اور ادارہ جاتی تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج اُن کی حکومت کی حمایت کرتی ہے جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس تعاون، آرمی چیف کے کردار اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ان کی حکومت کی حمایت کا اعتراف کرتے ہیں۔

ذریعے نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی آرمی چیف سے گزشتہ رات ملاقات ہوئی تھی اور وہ منگل کو (کابینہ اجلاس کے بعد) بھی اُن سے ملاقات کریں گے۔

ذریعے کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کچھ عرصہ کیلئے اپنا کام جاری رکھیں کیونکہ آئندہ چند ہفتے عمومی طور پر بیرونی چیلنجز اور خصوصی طور پر افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔

ذریعے کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ جنرل فیض کو افغانستان کی صورتحال کا علم ہے اور ساتھ ہی وہ بیرون ممالک سے اہم متعلقہ عہدیداروں سے بھی رابطے میں ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئے آئی ایس آئی چیف کو صورتحال سمجھنے اور رابطے قائم کرنے میں وقت لگے گا جبکہ آئندہ چند ہفتے اہم ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاملہ طے ہو جائے گا اور پریشانی کی کوئی بات نہیں، وہ صرف چاہتے ہیں کہ جنرل فیض حمید تین سے چار ہفتوں کیلئے کام جاری رکھیں۔

منگل کو وزیر اطلاعات کی پریس بریفنگ میں وہ کچھ تھا جس کا فیصلہ ہوا اور معاملات کابینہ اجلاس میں زیر بحث آئے تھے، اس میں اگرچہ اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وزیراعظم اور آرمی چیف اس معاملے پر کسی بھی طرف سے نقصان ہونے نہیں دیں گے لیکن تمام تر صورتحال کی وجہ سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئے آئی ایس آئی چیف کس کو جوابدہ ہوں گے۔

تاہم انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ نئے آئی ایس آئی چیف کا تقرر وزیراعظم کی صوابدید ہے، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ تقرر کے معاملے میں قانونی ضابطوں پر عمل کیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے چالاکی کے ساتھ تمام ایسے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا جنہیں اگر محتاط انداز سے ہینڈل نہ کیا جائے تو تنازع بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایس پی آر نے جو اعلان کیا ہے اس کی باضابطہ منظوری وزیراعظم دیں گے یا نہیں یا پھر کسی اور کو ڈی جی آئی ایس آئی لگایا جائے گا۔

ضابطوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایک سمری وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھیجی جاتی ہے جس میں تین افسران کے نام شامل ہوتے ہیں جنہیں آرمی چیف عہدے کیلئے موزوں سمجھتے ہیں لیکن اس میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ ایسا صرف چند گھنٹوں میں ہو سکتا ہے۔

دی نیوز نے فوج کے قریبی ذرائع اور ساتھ ہی کچھ وزراء سے رابطہ کیا اور انہوں نے رازداری سے بتایا کہ گزشتہ رات وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات مثبت رہی اور دونوں شخصیات اس معاملے کو مناسب انداز سے انجام تک پہنچائیں گی۔ وزراء اور فوج کے قریبی ذرائع میں سے کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ معاملہ کب تک انجام کو پہنچے گا۔

ایک وفاقی وزیر نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ معاملہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان کا ہے اور وہ ہی فیصلہ کریں گے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی وہی ہوں گے جن کا اعلان آئی ایس پی آر نے کیا یا کوئی اور جسے وزیراعظم مقرر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف ہی اس معاملے کا فیصلہ کریں گے۔ ایک ریٹائرڈ جرنیل، جو اکثر ٹی وی پروگرامز میں آتے رہتے ہیں اور ان کے فوج کے اعلیٰ عہدیداروں سے روابط ہیں، نے دی نیوز کو بتایا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا تو وہ بھی نہ بتا سکے کہ معاملہ حل کیسے ہوا اور کیا آئی ایس آئی میں کوئی تبدیلی ہوگی یا نہیں یا پھر عہدیدار وہی رہیں گے جن کا اعلان آئی ایس پی آر کر چکا ہے۔

شیئر کریں

Top