انٹرن شپ کے دوران طالبہ کو ہتکھڑیاں کیوں لگانا پڑیں؟

266512_7697351_updates.jpg

تعلیم مکمل کرنے کے بعد پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہوتے وقت نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ کا مرحلہ نا صرف دلچسپ ہوتا ہے بلکہ اس میں سخت محنت اور مشقت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم کچھ لوگ اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے یادگار بھی بنالیتے ہیں۔

ایسا ہی کام برطانیہ کی ایک 22 سالہ طالبہ نے کیا ، جس نے انٹرن شپ کے دوران اپنا ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر خود کو پول سے باندھ لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینٹرل لندن میں مینیجمنٹ سائنس کی طالبہ انیا جیکسن کو آئن لائن ڈیٹنگ ایپ کی مارکیٹنگ کا ہدف ملا تھا اور اسے ایک ہزار افراد سے اسے ڈاؤن لوڈ کروانا تھا، جس کو پورا کرنے پر اسے 25 برطانوی پاؤنڈز(5,834 روپے) ملنے تھے۔

سوشل میڈیا پرکی گئی پوسٹ میں انیا جیکسن نے بتایا کہ اس ٹاسک کو پورا کرنے کے لیے اسے کوئی تخلیقی قسم کا طریقہ درکار تھا جس کے لیے اس نے ہتھکڑیوں سے خود کو پول سے باندھ لیا۔

انیا جیکسن نے نیچے ایک بورڈ بھی رکھ دیا جس پر لکھا تھا کہ ‘دنیا کی سب سے شرمناک انٹرن شپ، اگر آپ سنگل ہیں تو یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں’۔

اپنی پوسٹ میں انیا کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ میں جلد ہی اپنا ٹارگٹ پورا کرلوں گی جس کے بعد میرے مینیجر ہتھکڑیاں کھول دیں گے۔

پوسٹ پر جہاں بہت سے لوگوں نے انیا کے تخلیقی ذہن کی تعریف کی ہے وہیں بہت سوں نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔

شیئر کریں

Top