امریکا کا ایک بار پھر افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے انکار

267073_7558620_updates.jpg

امریکا نے ایک بار پھر افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا۔

خبرایجنسی کے مطابق امریکا کے نائب وزیر خزانہ ویلے ایڈیمو نے سینیٹ میں بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا کا طالبان کے حوالے سے اب بھی پرانا مؤقف ہے اور ہمارا امریکی بینکوں میں افغانستان کے 10 بلین ڈالرز کو مستقبل قریب میں بحال کرنے کا کوئی اراد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں ہم طالبان کو ان پیسوں تک رسائی نہیں دیں گے، ہم حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے متعلق پابندیوں پر اپنے مؤقف کو جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے کہ افغانستان کے عوام کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

نائب وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کو انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے نئے راستے لازمی تلاش کرنے چاہئیں، ہم افغان عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا افغان عوام کی انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے پرعزم ہے مگر طالبان اس کی تقسیم میں سہولت کاری کریں۔

واضح رہےکہ طالبان نے امریکا سے افغانستان کے اربوں ڈالرز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ کرے، یہ پیسہ کسی حکومت کا نہیں افغان عوام کا ہے۔

علاوہ ازیں طالبان نے منجمد رقم کے حصول کے لیے سفارتی رابطے بھی استعمال کیے لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی۔

شیئر کریں

Top