گلیشئرز کے پگھلاؤ اور سدپارہ ڈیم میں پانی کی کمی پر ماہرین کا اظہارِتشویش

Satpara-11_0.jpg

شعبہ ریاضی بلتستان یونیورسٹی کم وسائل کے باوجود تحقیق و تدریس کی راہ پر بھرپور طریقے سے گامزن ہے،ڈاکٹر محمد عابد
ریاضی کے فارمولوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک ماڈل تیار کریں گے جو ہماری تحقیق کو پایہ تکمیل پہنچائے گا،خطاب
سکردو(بادشمال نیوز)بلتستان یونیورسٹی شعبہ ریاضی کے تحت دو روزہ سیمینار اختتام پذیر ہوا۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی کامسیٹ یونیورسٹی واہ کیمپس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عابد تھے، وہ خصوصی طور پر واہ سے سکردو تشریف لائے تھے۔ سیمینار کے منتظمین میں ڈاکٹر منور علی، ڈاکٹر سالار علی اور مس صائمہ محمد شامل تھے جبکہ شعبہ ریاضی نے عمومی طور پرسیمینار کے اِنعقاد کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شعبہ ریاضی بلتستان یونیورسٹی اپنی کثیر الجہت تحقیق اور نت نئے نظریات وضع کرنے میں ہمیشہ سے پیش پیش رہا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ تعمیری سیمینار کا اِنعقاد شعبہ ہذا کا خاصا ہے۔ یہ سیمینار بھی ان کوششوں کا نتیجہ تھا جس کا اظہار شعبہ ہذا وقتا فوقتا کرتا رہتا ہے۔ سیمینار میں مدعو شدہ مہمان مقرر اور شعبہ ہذا کے اساتذہ نے زمینی سطح کی بگڑتی ہوئی صورت حال، دریائی بہا میں اضافہ اور برف پگھلنے کی خطرناک شرح پر تفصیلی گفتگو کی۔ علاوہ ازیں مقررین نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ سیلاب کی بڑھتی ہوئی صورت حال ملک کو خشک سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ سیمینار شروع ہوا تو شعبہ ریاضی کے چیئرمین ڈاکٹر ذاکر حسین قمر نے تفصیل کے ساتھ شعبہ ہذا کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے شعبہ ریاضی کی اب تک کی کارکردگی اور نمایاں امور کی نشاندہی کی اور بتایا کہ شعبہ ریاضی بلتستان یونیورسٹی کم وسائل کے باوجود تحقیق و تدریس کی راہ پر بھرپور طریقے سے گامزن ہے۔ گذشتہ سال اور رواں سال شعبہ ہذا کے محققین نے عالمی سطح کے مجلات میں اپنے تحقیقی مقالہ جات شائع کروائے ، بلتستان یونیورسٹی کی تاریخ میں اب تک سب سے زیادہ تحقیقی مقالہ جات شعبہ ہذا کے اساتذہ کے شائع ہوئے ہیں جو کہ شعبہ ریاضی کیلئے ایک اعزاز ہے۔ علاوہ ازیں رواں سال عالمی محققین کی فہرست میں شامل ہونے والوں میں شعبہ ریاضی بلتستان یونیورسٹی کے دو اساتذہ کے نام بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلیشیئرز کے پگھلا اور سدپارہ ڈیم میں پانی کی کم ہوتی صورت حال ایک تشویشناک امر ہے۔ شعبہ ریاضی بہت جلد اس حوالے سے تحقیق شروع کرے گا، ہماری یہ تحقیق مکمل طور پر ریاضیاتی امور پر مبنی ہوگی۔ اِس سلسلے میں ہم اشتراکی تحقیق کا نظام قائم کریں گے۔ خاص طور پر ماحولیات اور ارضیات کے ماہرین سے ہم قریبی تعلق رکھیں گے اور ان کی معاونت سے مذکورہ مسئلہ کا حل تلاش کریں گے۔ خصوصیت کے ساتھ ریاضی کے فارمولوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک ماڈل تیار کریں گے جو ہماری تحقیق کو پایہ تکمیل پہنچانے کا باعث بنے گا۔ ڈاکٹر ذاکر قمر نے جامعات کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ جامعات اپنی بساط کے مطابق بھرپور تعلیم دے رہی ہیں۔ طلبا وطالبات میں شعور اجاگر کرنے کیلئے نت نئے نظریات ترسیل کئے جاتے ہیں لیکن یہ عمل بہت محدود ہے۔ جب تک کہ ہم طلبا و طالبات کے شعور کو عملیات کا خول نہیں پہنائیں گے تب تک مسائل جوں کے توں رہ جائیں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ بلتستان یونیورسٹی کے طلبا و طالبات تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں بھی یقینی حصہ دار بنیں۔ شعبہ ریاضی اِسی نظریہ کو فوقیت دینے کا جذبہ رکھتا ہے۔اپنی گفتگو کے آخر میں ڈاکٹر ذاکر حسین قمر نے تمام مقررین، شرکائے سیمینار باالخصوص مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بلتستان یونیورسٹی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔سیمینار کے چیف آرگنائزر اور شعبہ ریاضی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منور علی عباس نے سیمینار کے اغراض و مقاصد اور تعارف پیش کیا۔ انہوں نے مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قرار دیا کہ اِس قسم کے سیمینار کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر منور علی عباس نے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے زمین کی ساخت بگڑ رہی ہے۔ روز بروز پانی کی قلت ہورہی ہے جبکہ دریائی کٹا کی وجہ سے زمینیں اپنے محور سے ہٹ رہی ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ایک جاندار تحقیق کے ذریعے مذکورہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کامسیٹ واہ کیمپس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عابد نے کہا کہ بلتستان یونیورسٹی شعبہ ریاضی کا یہ اقدام قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے گلیشیئرز کے پگھلا، زمینی کٹا، سیلابی صورت حال اور سدپارہ ڈیم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے قرار دیا کہ ہم زمین کی سطح کو صرف اسی صورت میں بچا سکتے ہیں جب ہم سے ہر ایک اپنے کردار کو بخوبی نبھائیں۔ وگرنہ آنے والا کل ہمارے لئے مسائل کی صورت میں آسکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد عابد نے شعبہ ریاضی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلتستان یونیورسٹی نوزائدہ ادارہ ہے۔ یقینی بات ہے کہ اس وقت بہت سارے مسائل کا سامنا کررہی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ یہ جامعہ بہت جلد نہ صرف اندورنی طور پر بلکہ بیرونی دنیا میں بھی اپنا نام روشن کرے گی۔ انہوں نے جامعات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کسی انڈسٹری کے انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی انڈسٹری ان کے پاس آئے گی اور ایک پروجیکٹ فراہم کرے گی۔ جامعات کا اصل کام ہی یہی ہے کہ وہ خود انڈسٹری کے طور پر اپنی شناخت بنائے۔ انہوں نے بلتستان یونیورسٹی کے نوجوان اساتذہ کی خوب تعریف کی اور کہا کہ ابھی آپ نوجوان ہیں، آپ ملک و قوم کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، خاص طور پر خطہ بلتستان کیلئے آپ کی توانائیاں اکسیرِ اعظم کا کام کریں گی۔ شعبہ ماحولیات کے چیئرمین ڈاکٹر سالار علی نے اپنی گفتگو میں پانی کے حوالے سے گفتگو کی۔ جبکہ جنگلات اور زمینی کٹا کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی۔ سیمینار میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مس صائمہ محمد نے انجام دیئے
گلیشیئر

شیئر کریں

Top