تھر میں سب اللہ کے سہارے ہیں، لوگوں کو مرنے کیلئے چھوڑ رکھا ہے: چیف جسٹس

2150330-cjpgulzarahmedfilex-1580843764-1.jpg

کراچی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار حمد نے تھر میں صحت کی عدم سہولیات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھر میں سب اللہ کے سہارے ہیں اور لوگوں کو مرنے کیلئے چھوڑ رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سیکرٹری صحت ذوالفقار شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے سیکرٹری صحت کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے تھر دیکھا ہے، مٹھی دیکھا ہے ڈیپلو دیکھا ہے؟ وہاں کچھ نہیں ہے سب اللّہ کے سہارے ہیں، وہاں اسپتال صرف کاغذوں میں بن رہے ہیں، ادویات کی خریداری جاری ہے مگر ہے نہیں، وہاں لاکھوں مسائل ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھر کے لوگوں اور حکومت کے درمیان مکمل ڈس کنیکشن ہے، سارے منسٹر مہنگے اسپتالوں سے علاج کراتے ہیں، سارے منسٹر سرکاری اسپتالوں میں علاج نہیں کراتے، بچےمرجاتے ہیں کسی کوپرواہ نہیں، جو بھی رپورٹ آتی ہےتو کہتے ہیں یو این نے یہ کہا یو این نے وہ کہا، وہ یوکے میں بیٹھ کر رپورٹ بناتے ہیں آپ لوگ کیا کررہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری صحت سے مکالمہ کیا کہ آپ سب سرکاری افسران جائیں تھرپارکر کے سرکاری اسپتال میں علاج کرائیں، یہاں سے چار پانچ گھنٹے کا راستہ ہے جس کی قسمت میں ہوگا بچ جائے گا، ہم سب کا آرڈر کردیں گے تمام سیکرٹریز تھر میں علاج کرائیں، سندھ کے کسی بھی شہر چلے جائیں،لاڑکانہ، میر پورخاص یا حیدر آباد چلے جائیں۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ لوگوں کو تھرمیں جانوروں کے طرح مرنے کے لیے چھوڑدیا ہے، اسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے ہیں، لائٹ تک نہیں ہے، دوائی، ایکسرے مشین وغیرہ کی سہولیات تو خواب ہیں، پینے کاوہاں پانی نہیں ہے،اربوں روپے کے آراو پلانٹس لگا دیے سب فیل۔

شیئر کریں

Top