بچوں کو دودھ پلانے کی عادت خواتین کو امراضِ قلب سے بچاتی ہے

1235-1.png

نیویارک(ویب ڈیسک)بچے کو دودھ پلانے والی ماں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اس کے بہت سے زبردست فوائد سمیٹنے کے ساتھ ساتھ وہ امراضِ قلب اور فالج سے بھی محفوظ رہ سکتی ہیں۔امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے اپنے تحقیقی جرنل میں کہا ہے کہ انہوں نے دورانِ حمل، زچگی اور ماں کی بیماری پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کا عمل ایک جانب تو بچے کیلیے بہت مفید ہوتا ہے تو دوسری جانب ماں کو امراضِ قلب، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور فالج وغیرہ سے بھی دور رکھتا ہے۔اس سے قبل ماں اور بچے کے لیے شیرخوارگی کے فوائد سامنے آتے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او کیمطابق باقاعدگی سے شیرخوار بچے سانس کے امراض، اموات اور دیگر انفیکشن سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس سے خود ماں کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور وہ چھاتی سمیت کئی طرح کے سرطان سے بھی محفوظ رہتی ہے۔آسٹریا کی انسبرک میڈیکل یونیورسٹی کیڈاکٹر پیٹر وائلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ تحقیق کی ہے۔ انہوں نے پہلے سے موجود ڈیٹابیس، سائنسی لٹریچر اور دیگر شواہد کو بھی دیکھا ہے۔پہلے 1986 اور 2009 میں کئے گئے آٹھ سروے دیکھے گئے جو کئی ممالک سیتعلق رکھتیہیں۔ اس طرح 12 لاکھ خواتین کا ڈیٹا سامنے آیا ۔ خواتین جب پہلی مرتبہ ماں بنیں تو اوسط عمر 25 سال تھی اور کئی برس تک ان سے رابطہ رکھا گیا۔تحقیق کے دسویں سال معلوم ہوا کہ خاتون بچے کو باقاعدگی سے دودھ پلائے تو امراضِ قلب اور اس سے مرنے کا خدشہ 17 فیسد اور فالج کا خطرہ 12 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ خواتین کم سے کم ایک سال تک یہ معمول جاری رکھیں۔اگر وہ اس سے زائد عرصے تک بچے کو دودھ پلاتی ہیں تو اس کے فوائد بھی اتنے ہی بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین نے تمام ماں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی اور بچے کی صحت کے لیے دودھ پلانے کا عمل جاری رکھیں۔

شیئر کریں

Top