بھارت سے میچز، پاکستان ’’بگ 4‘‘ سیریز میں قحط ختم کرنے کا خواہاں

123-132.jpg

لاہور(ویب ڈیسک) پی سی بی بھارت سے مقابلوں کا قحط بگ فور سیریز میں ختم کرنے کا خواہاں ہے جب کہ چیئرمین رمیز راجہ آئندہ آئی سی سی اجلاس میں پاکستان، بھارت،انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل 4ملکی ٹی 20سیریز کرانے کی تجویز پیش کریں گے۔ماضی میں آئی سی سی میں اجارہ داری قائم کرنے والا بگ تھری منصوبہ بنایا گیا، پہلے سے مالی طور پر مستحکم بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مفادات کا تحفظ ملا،دیگر وسائل کیلیے ان کے محتاج ہوئے،بالآخر عالمی کرکٹ میں پائی جانے والی بے چینی کو دیکھتے ہوئے اس سسٹم سے باضابطہ طور پر جان چھڑالی گئی مگر اب بھی بھاری کمائی کے زیادہ مواقع انہی تینوں ملکوں کو باہمی مقابلوں میں ملتے ہیں،ان کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ آپس میں کھیلتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرلیں۔چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ عالمی کرکٹ میں چوتھی سپر پاور کے طور پر پاکستان کا نام بھی درج کروانے کے خواہاں ہیں،ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق کپتان آئندہ آئی سی سی اجلاس میں 4ملکی ٹی 20سیریز سالانہ طور پر کروانے کی تجویز پیش کریں گے،یوں نہ صرف کہ دیگر بڑی ٹیموں بلکہ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کو بھی آپس میں باقاعدگی سے میچز کھیلنے کا موقع ملے سکے گا۔یاد رہے کہ پڑوسی ملکوں کی مابین آخری باہمی سیریز2012/13 میں ہوئی تھی جب گرین شرٹس نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی حکومت سیاسی کشیدگی کا ملبہ کھیلوں پر گراتے ہوئے کھیلنے سے انکار کرتی رہی ہے،دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی ایونٹس میں ہی مقابل ہوتی رہی ہیں جن سے ریکارڈ کمائی بھی ہوتی رہی۔چیئرمین پی سی بی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ سیاسی مشکلات کے سبب فی الحال باہمی مقابلے تو ہوتے نظر نہیں آتے، سہ ملکی سیریز کے ضمن میں پیش رفت ہوسکتی ہے،بورڈ کے سربراہ اب 4ملکی سیریز کی تجویز پیش کرنے کیلیے تیار ہیں۔اسی انٹرویو میں رمیزراجہ نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم کے رواں سال دورہ پاکستان کا بیتابی سے انتظار کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے کینگرو کرکٹر عثمان خواجہ نے ساتھی کھلاڑیوں کو اس ٹور پر آمادہ کرنے کیلیے دل کو چھولینے والا بیان دیا ہے۔یاد رہے کہ آسٹریلوی ٹیم 24سال بعد پاکستان آرہی ہے،اس دورہ میں 3ٹیسٹ، اتنے ہی ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں 3مارچ سے شروع ہونے والے پہلے طویل فارمیٹ کے مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گی، کرکٹ آسٹریلیا اور کرکٹرز ایسوسی ایشن اس ٹور کے حوالے سے گرین سگنل دے چکے ہیں۔رمیز راجہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کئی بار آسٹریلوی کھلاڑیوں کو باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے دورہ پاکستان سے نئی نسل کے کرکٹرز، شائقین اور کھیل پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوں گے، سیریز بھی ایک ایسے وقت میں شیڈول کی جارہی ہے کہ اسٹار کھلاڑیوں کی دستیابی میں دیگر مصروفیات آڑے نہ آئیں۔

شیئر کریں

Top