فالٹ لائن پر آباد لوگوں کو متبادل جگہ پر آباد کیا جائے……اداریہ

گلگت بلتستان میں زلزلے سے سب سے زیادہ روندو کے عوام متاثر ہوئے ،وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے امداد کی فراہمی کا سلسلہ جا ری ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین کو اشیائے خوردنی، کمبل اور خیمے دینے کے بجائے ان کو فالٹ لائن والے علاقوں سے نکال کرکسی دوسرے جگہ منتقل کیا جائے،گلگت بلتستان ملک کا دور دراز علاقہ ہے اس کا 60فیصد سے زائد رقبہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل ہے،اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے مختلف علاقے زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہ یں ،صوبائی حکومت کو اس حوالے سے باقائدہ ایک سروے کرانا چاہیے گلگت بلتستان میں فالٹ لائن پر آباد لوگوں کا انخلا کر نے کیلئے ایک پلان بنانا چاہیے ،اسی سے ہی مستقبل میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے،وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو فالٹ لائن سے آبادی کا انخلا یقینی بنانے کے منصوبے کے حوالے سے وفاق سے بھی مدد لینی چاہیے ،گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے گنجی روندو اور دیگر متاثرین زلزلہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت زلزلہ زدگان کے نقصانات کی فوری ازالے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،حکومت متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گنجی روندو میں زلزلہ متاثرین کیلئے پاکستان بیت المال کی جانب سے متاثرین میں چیکس تقسیم کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ زلزلہ زدگان کی مکمل بحالی کیلئے صوبائی حکومت دن رات ایک کرے گی،اس موقع پر گورنر گلگت بلتستان نے گنجی روندو کیلئے ایک ڈاکٹر کی اضافی تعیناتی کی بھی ہدایات کردی۔گورنر گلگت بلتستان نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی فوری خبر گیری پر متعلقہ اداروں کی جانب سے کیئے گئے اقدامات کو سراہا۔چیکس تقسیم کے موقع پر صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت راجہ ناصر علی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت زلزلہ متاثرین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔وزیراعلی گلگت بلتستان نے متاثرین کی مکمل بحالی کیلئے خصوصی ہدایت بھی دی ہیں اس لیئے زلزلہ متاثرین خود کو تنہا نہ سمجھیں،حکومت کو دیگر مسائل کا بھی ادراک ہے،جلد بحالی کیلئے کوششیں جاری ہیں،ایمرجنسی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔گورنر گلگت بلتستان کی ذاتی کوششوں سے امدادی سامان کا بروقت حصول ممکن ہوا۔حکومت نے شیڈول ریوائز ریٹس بڑھاکر خطے کے عوام کیلئے بہترین قدم اٹھایا ہے۔اس موقع پر ایم ڈی بیت المال پاکستان ملک ظہیر عباس کھوکھر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو عوام کی درد رکھنے والی حکومت ملی ہے۔وزیر اعظم پاکستان خود بھی ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں کے ساتھ ساتھ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی فوری بحالی کے خواہاں بھی ہیں۔پاکستان بیت المال کیجانب سے متاثرین زلزلہ زدگان کیلئے 41 لاکھ 20 ہزار روپے کا ایک مکمل پیکیج مختص کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی فوری بحالی ممکن ہوسکے۔اس موقع پر گنجی روندو کے زلزلہ زدگان میں پاکستان بیت المال کی جانب سے ریلیف پیکیج کے تحت امدادی چیکس تقسیم کیئے گئے۔
سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکا جائے
سوشل میڈیا کو اگر مدر پدر آزاد کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر نے والوں کیخلاف سخت کارروائی نہ ہونے سے معاشرے میں اخلاقی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ،سائبر کر ائم کے حوالے سے قوانین ہونے کے باوجود اس پر اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں،نسل نو اس کا نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہے،ضرورت اس امر کی ہے والدین بھی بچوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کر نے کے حوالے سے آگاہی دیں،بچوں کے سوشل میڈیا اکائونٹس کو ہفتے میں ایک بار لازمی چیک کیے جانے چاہیں،اس سے معاشرے میں نسل نو کی جانب سے بگاڑ کو ختم کیا جا سکتا ہے،اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گلگت کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نوجوان کو اغوا کے بعد تشدد اور برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر پانچ ملوث مجرموں کو سزائے موت اور قید کے ساتھ جائیداد ضبطی کی سزائیں سنا دی ۔ دنیور تھانے میں 13 اپریل 2020 کو علی احمد نامی شخص کی درخواست پر اغوا اور انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت دنیور تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ جس میں درخواست گزار نے اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور برہنہ کرکے بنائی جانے والی تصاویر کو سوشل میڈیا میں وائرل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے عدالت میں ڈیڑھ سال تک سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر انسداد دہشتگردی کورٹ کے جج رحمت شاہ نے پانچوں مجرموں ساجد حسین ،مقبول حسین ،نعمان علی ،ناصر عباس اور حسنین حسین کو سزائے موت سنا دی۔اور بعض دفعات کے تحت چار مجرموں کو 17 ،17 سال جبکہ ایک مجرم ساجد حسین کو 24 سال قید کی سزائیں بھی سنادی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام مجرموں کی جائدادیں اور اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ضبطی کا بھی حکم دیا ۔انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے حوالے سے فیصلہ بارش کا پہلا قطرہ ہے،دیر آئد درست آئد کے مصداق ہے ،گلگت بلتستان حکومت کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے حوالے سے مانیٹرنگ کیلئے با قاعدہ سے ایک ادارہ قائم کر نا چاہیے ،اس کے دفاتر ضلعی اور تحصیل سطح پر بنائے جانے چاہیے ،اور سوشل میڈیا کے غلط استعما ل کی حوصلہ شکنی کر نے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مثبت سر گر میوں کی جانب راغب کر نے کیلئے ہر ماہ با قاعدگی سے تحصیل سطح تک مقابلوں کا انعقاد کیا جائے تو اس سے نسل نومنشیات کے استعمال سے دور رہے گی اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی توجہ تعلیم کی جانب راغب کر نے کیلئے تقاریر،بیت بازی ،خطاطی کے با قائدہ سے مقابلوں کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔

شیئر کریں

Top