قانون کی حکمرانی کیوں نہیں ؟…تحریر……الیاس محمد حسین

کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا ، ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے کہا” یہ کس قدر ویران گاؤں ہے؟ دور دور تک کوئی بندہ بشرنہیں کتنی وحشت محسوس ہورہی ہے
”طوطے نے کہا لگتا ہے یہاں کسی الو کا گزر ہوا ہے تبھی تو اتنی منحوسیت چھائی ہوئی ہے” جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے اتفاق سے عین اس وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ہوکر بولا، تم لوگ اس گاؤں میں مسافرلگتے ہو لگتاہے کہیں دور سے آرہے ہو نہ جانے کس کوس تمہاری منزل ہے، آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ، میرے ساتھ کھانا کھاؤ، صبح جہاں چاہے چلے جانااْلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے اْلو کی دعوت قبول کرلی رات دیرتک وہ ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے کچھ کھا پی کر جب انہوں نے علی الصبح رخصت ہونے کی اجازت چاہی،تو اْلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا .. جان ِ من تم کہاں جا رہی ہو؟
طوطی پریشان ہو کر بولی یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے ، میں اپنے طوطے کے ساتھ واپس جا رہی ہوں۔۔۔،
یہ سن کر الو نے اپنے گول گول دیدے گھمائے
بڑے عجیب سے اندازمیں ہنسا اور اس کے قریب ہوکر کہا .. یہ تم کیا کہہ رہی ہوتم تو میری ہو اس طوطاچشم کی ساتھ میں تجھے ہرگزنہیں جانے دوں گا. اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی الوجسامت میں دونوںسے بڑا تھا اس نے طوطاطوطی کو اڈھیرکررکھدیا، دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تواْلو نے طوطے کے ایک سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ”ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں، قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ہوگا” بادل ِ نخواستہ اْلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے ، ،قاضی نے فریقین کے بغور دلائل سنے جس کی روشنی میں اْلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کردی، طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اْلو نے اسے آواز دی ،
”بھائی اکیلے کہاں جاتے ہواپنی طوطی کو تو ساتھ لیتے جاؤ”
طوطے نے حیرانی سے اْلو کی طرف دیکھا اور بولا ”اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو، یہ اب میری کہاں ہے عدالت نے تو اسے تمہاری قرار دے دیا ہے” اْلو نے طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا، نہیں دوست طوطی میری نہیں تمہاری ہی ہےـ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے ….. اپنے اردگردغورکریں معاملہ آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی کیوں نہیں۔

شیئر کریں

Top