بھارت؛ عید گاہ میدان میں ہندو تہوار کے انعقاد کی کوشش ناکام

123-195.jpg
بنگلورو(ویب ڈیسک)بھارتی ریاست کرناٹک کی معروف عید گاہ میں ہندو تہوار گنیش چتروتھی کے دس دن کے میلے کے انعقاد کی کوششوں کو مسلم وقف بورڈ نے عدالت کے ذریعے رکوادیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں کرناٹک مسلم وقف بورڈ کی جانب سے بنگلور کی عید گاہ میں گنیش دیوتا کے تہوار کی تقریبات کے انعقاد کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت ہوئی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کرناٹک کی ہائی کورٹ اور حکومت نے عید گاہ میں گنیش دیوتا کے تہوار کی تقریبات کے لیے دو دن کی اجازت دی ہے حالانکہ یہ تہوار 10 دن تک جاری رہتا ہے۔
جس پر مسلم وقف بورڈ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اس عید گاہ کے میدان کو صرف یوم آزادی، یوم جمہوریہ اور کھیلوں کے علاوہ عیدوں کی نمازوں کے اجتماع کے لیے استعمال لایا جا سکتا ہے۔
مسلم وقف بورڈ کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ ریاست میں ایسے کئی اور میدان موجود ہیں جہاں گنیش دیوتا کا تہوار منایا جا سکتا ہے۔ عید گاہ میں دیوتا کا تہوار منانے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوگی اور فسادات کا اندیشہ ہے۔
سپریم کورٹ نے دلیلیں سننے کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ اور حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے گنیش دیوتا کے تہوار کی تقریبات عید گاہ میں کرنے سے روک دیا۔
واضح رہے کہ چند ماہ قبل ریاست کرناٹک میں ہی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی اور ہندو تہواروں پر برسوں سے اسٹالز لگانے والے مسلم دکانداروں کے لائسنس منسوخ کردیئےگئے تھے۔

طالبان حکومت بھی روس سے سستے داموں پیٹرول کی خریداری کیلیے تیار

123-194.jpg
 ماسکو(ویب ڈیسک) پابندیوں کے باجود بھارت اور میانمار کے بعد اب طالبان حکومت نے بھی سستے داموں پیٹرول کی خریدنے کے لیے روس سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت کی وزارت تجارت کے ترجمان حبیب الرحمان حبیب کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ پیٹرول اور بینزین کی خریداری کے لیے معاہدے کی شرائط پر تقریباً اتفاق ہوچکا ہے اور معاہدے کی تکمیل جلد ممکن ہے۔
طالبان حکومت کے وزارت صنعت وتجارت نے ’’رائٹرز‘‘ کو مزید بتایا کہ تیل کے علاوہ گندم اور گیس کی خریدری کے لیے بھی معاہدوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں جس کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد روسی فریق کے ساتھ بات چیت کے لیے ماسکو میں موجود ہے۔
ترجمان حبیب الرحمان حبیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاہدے کی تکمیل کے بعد میڈیا کو تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ روسی وزارت خارجہ اور وزارت توانائی کے ترجمانوں نے اس پیش رفت پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئے ایک سال ہوگئے لیکن تاحال کسی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی 10 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب؛ دورِ رسالتﷺ سے متعلق 5 یادگار مساجد کی بحالی کا فیصلہ

123-193.jpg
ریاض(ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تاریخی اہمیت کی حامل 5 قدیم مساجد کی اپنی اصلی حالت میں بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی 5 قدیم اور تاریخی مساجد کو اصلی حالت میں بحال کرنے اور مزید توسیع و ازسر نو تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ وہ مساجد ہیں جو نبی کریم ﷺ کے دور میں پیش آنے والے اہم تاریخی واقعات کے تناظر میں عباسی دور میں بطور یادگار تعمیر کی گئی تھی تاہم اب صدیوں پرانی یہ مساجد ماحولیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہیں۔
ان مساجد میں ’’مسجد بیعہ‘‘ بھی شامل  ہے جو مسجد شعب منیٰ میں جمرہ العقبہ کے قریب عباسی خلیفہ عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہجرت مدینہ سے قبل اسی مقام پر نبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے قبائل اور یہود کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔
علاوہ ازیں مکہ معظمہ کہ 700 سال پرانی مسجد الخضر کو بھی اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا اور اس میں مزید توسیع بھی کی جائے گی۔ یہ مسجد الحرام سے تقریباً 66 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسی طرح جدہ کی دو تاریخی مساجد کی بھی اصلی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے تعمیر نو کی جائیں گی ان میں سے ایک ’’ ابو عنابہ‘‘  مسجد ہے جو 900 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ الجموم گورنری میں واقع ’’الفتح مسجد‘‘ کو بھی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔

عراق جھڑپوں میں 23 افراد ہلاک، ملک میں کرفیو نافذ

123-192.jpg
 بغداد(ویب ڈیسک) عراقی رہنما مقتدیٰ الصدر کے سیاست سے کنارہ کش ہونے کے اعلان کے بعد ان کے حامی اورمخالفین میں جھڑپوں میں 23 افراد ہوگئے جس کے بعد ملک میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق عراق کے مختلف شہروں میں مقتدیٰ الصدر کے حامی اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں 23افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔امن وامان کی بحالی کے لئے بغداد سمیت ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔
بغداد میں مقتدیٰ الصدر کے سیاست سے علیحدگی کے اعلان پران کے سیکڑوں حامیوں نے انتہائی سخت سیکورٹی والے علاقے میں واقع صدارتی محل پر دھاوا بول دیا۔صدارتی محل کے عالیشان سوئمنگ پول میں مظاہرین کی سوئمنگ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
عراق میں گزشتہ سال انتخابات کے بعد سیاسی تعطل جاری ہے اور سیاسی جماعتیں اتحادی حکومت بنانے میں نام ہوگئی ہیں۔

بھارت کے دلت اور چین کے ایغورغلامی کی جدید شکلیں ہیں، اقوام متحدہ

123-176.jpg

جنیوا(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ چین کے ایغور، بھارت کے دلت، خلیجی ممالک، برازیل اور کولمبیا کے گھریلو ملازمین جدید دنیا میں غلامی ایک شکل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق ٹومویا اوبوکاٹا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی اپنی نئی شکل میں موجود ہے۔
خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق ٹومویا اوبوکاٹا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور جبری مزدوری کرائی جاتی ہے اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں خصوصی طور پر بھارت کی نچلی ذات سمجھے جانے والے دلتوں کا زکر ہے جن کا نہ صرف سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے بلکہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کے دروازے بھی بند ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موریطانیہ، مالی، نائیجر اور افریقہ کے ساحل علاقے میں تو اقلیتوں کو روایتی طورپر غلام بناکر رکھنے کے واقعات کا بھی ذکر موجود ہے جب کہ خلیجی ممالک، برازیل اور کولمبیا کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بچوں سے جبری ملازمتوں کے حوالے سے ہولناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ ایشیا اور بحرالکاہل، مشرق وسطیٰ، امریکہ اور یورپ میں چار سے چھ فیصد، افریقا میں 21.6 فیصد جب کہ سب سے زایدہ سہارا افریقا میں 23.9 فیصد واقعات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں جنسی غلامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسانی بحران کا شکار علاقوں میں اس کا رجحان پریشان کن ہے۔

بھارت کے بعد میانمار کا بھی روس سے سستے داموں پٹرول خریدنے کا فیصلہ

123-175.jpg

ینگون(ویب ڈیسک) میانمار کے قابض فوجی حکمراں نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر روس سے تیل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس طرح جنوبی ایشیائی ممالک میں میانمار بھارت کے بعد روس سے تیل خریدنے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق میانمار میں گزشتہ برس جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر قابض ہونے والے فوجی حکمراں کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے باعث روس سے سستے داموں تیل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فوجی حکمراں کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس سے ملنے والا پٹرول نہ صرف معیاری ہے بلکہ سستا بھی ہے۔ ہمارے ملک کو عالمی پابندیوں کی وجہ سے معاشی بحران کا سامنا ہے اس صورت حال کم قیمت تیل کی خریداری ضروری ہے۔
میانمار کے فوجی حکمراں من آنگ نے گزشتہ ماہ روس کا دورہ کیا تھا جس کے دوران تیل کی درآمد سے متعلق معاملات طے پائے تھے۔ اس کے علاوہ میانمار، چین اور روس کئ تعاون سے تیل کے کنوؤں کی تلاش کا کام بھی کرے گا۔
دوسری جانب یورپ کی جانب سے تیل نہ خریدنے پر پریشانی کے شکار روس نے تیل کی فروخت کے لیے نئے خریدار کے لیے کوشاں ہے۔ اس لیے میانمار سے تیل معاہدہ بغیر کسی دشواری کے طے پاگیا۔
خیال رہے کہ میانمار میں گزشتہ ہفتے پٹرول پمپس بند ہوگئے تھے اور ملک میں تیل کی قلت کا سامنا ہے تاہم روس سے تیل کی کھیپ سمتبر تک آنے کی توقع ہے جس سے ملک میں پٹرول کی کمی دور ہوجانے کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ کا طالبان کے 13 رہنماؤں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا امکان

123-174.jpg

جنیوا(ویب ڈیسک) سلامتی کونسل کے کسی حتمی میں نتیجے پر نہ پہنچنے کے باعث اقوام متحدہ نے طالبان کے 13 سرکردہ رہنماؤں پر عائد سفری پابندیوں کے استثنیٰ کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں امریکی سفارت کاروں نے بتایا کہ اقوام متحدہ طالبان کے 13 سرکردہ رہنماؤں کو سفری پابندیوں پر حاصل استثنیٰ کو ختم کرکے سفری پابندی عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا استثنیٰ ختم کرنے کا یہ فیصلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک سلامتی کونسل کے اراکین سفری پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ عین ممکن ہے کہ سلامتی کونسل اس بات کا فیصلہ 22 اگست تک کرلے گی۔
خیال رہے کہ طالبان کے 13 سرکردہ رہنماؤں کو اقوام متحدہ کی جانب سے عائد سفری پابندیوں سے حاصل استثنیٰ کی میعاد 19 اگست ختم ہوگئی۔ استثنیٰ میں توسیع کے لیے طلب کیا گیا اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا۔
سلامتی کونسل میں روس اور چین نے تمام 13 طالبان رہنماؤں کے سفری پابندیوں میں استثنیٰ پر توسیع کے حق میں ہیں جب کہ امریکا 7 رہنماؤں پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے اور 6 رہنماؤں کو استثنیٰ دینا چاہتا ہے وہ بھی صرف قطر کے لیے سفر کر سکیں گے تاکہ عالمی رہنماؤں سے مذاکرات کر سکیں۔
امریکا اور مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں خواتین کی ملازمتوں میں واپسی، لڑکیوں کے اسکول کھلنے اور کابینہ تمام قومیتوں کی شمولیت کے وعدوں کے پورا نہ ہونے تک طالبان رہنماؤں پر سفری پابندیاں عائد رکھی جائیں۔
اسی طرح روس اور چین کی تجویز ہے کہ ان طالبان رہنماؤں کو 90 دن کے لیے روس، چین، قطر اور علاقائی ممالک کے سفر کے لیے چھوٹ دیدی جائے۔
عالمی قوتوں کے کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے باعث ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا جو پیر 22 اگست تک برقرار رہ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2011 کی قرارداد کے تحت 135 طالبان عہدیداروں پر پابندیاں عائد ہیں جن میں اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے 13 کو سفری پابندی سے استثنیٰ دیا گیا تاکہ وہ بیرون ملک دوسرے ممالک کے وفد کے ساتھ مذاکرات کرسکیں۔

اجتماعی زیادتی کرنے والے جنونی ہندوؤں کی رہائی دل چیر دینے والا دکھ ہے،متاثرہ مسلم خاتون

123-156.jpg
گجرات میں مسلم کش فسادات کے دوران اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی بلقیس بانو نے سفاک مجرموں کی رہائی کو ناقابل تلافی صدمہ اور دل چیر دینے والا دکھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کی ہار ہوئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2002 کو گجرات فسادات میں ہندو جنونیوں نے احمد آباد میں خاندان کے 14 افراد کو قتل کرنے کے بعد حاملہ بلقیس بانو سے لپٹی 3 سالہ بیٹی کو فرش پر گرا کر سر پر پتھر مار کر قتل کیا اور 11 افراد نے بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی۔
اس انسانیت سوز اور سفاکانہ عمل کے مرتکب 11 ملزمان کو جنوری 2008 میں ممبئی کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی اور بعد میں ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی تھی۔
تقریباً 15 سال قید کاٹنے کے بعد مجرموں میں سے ایک نے سپریم کورٹ میں رہائی کی درخواست دائر کی جس پر رواں ماہ 15 اگست یعنی بھارت کے یوم آزادی پر عدالت نے مجرموں کو رہا کردیا۔
سپریم کورٹ نے تمام مجرموں کو 1992 کی معافی کی پالیسی کے تحت ملزمان کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت کی جس پر گجرات حکومت نے تمام 11 مجرموں کو رہا کر دیا۔
درندہ صفت مجرموں کی رہائی پر متاثرہ خاتون بلقیس بانو نے اپنے بیان میں کہا کہ جب میں نے سنا کہ میری 3 سالہ بیٹی سمیت خاندان کے 14 افراد کو قتل اور مجھ سے اجتماعی زیادتی کرکے میری زندگی تباہ کرنے والے 11 سزا یافتہ مجرموں کو بری کردیا گیا تو مجھے ایسا لگا کہ 20 برس قبل ہونے والا واقعہ مجھ پر دوبارہ دہرایا گیا۔
بلقیس بانو نے کہا کہ اس فیصلے پر اپنی تکلیف کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں۔ میں ابھی تک صدمے میں ہوں۔ میرا اعلیٰ عدالتوں اور انصاف کے نظام سے اعتماد اُٹھ گیا۔ کیا میں اب بھی ان غنڈوں سے محفوظ ہوں۔
واضح رہے کہ 2002 کے گجرات فسادات میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا جب کہ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکا میں رشوت کے الزام میں دو ججوں پر 20 کروڑ ڈالرز جرمانہ

123-155.jpg
ہیرسبرک(ویب ڈیسک) امریکی ریاست پنسلوانیا کی عدالت نے دو سابق ججوں مائیکل کوناہن اور مارک سیواریلا کو رشوت لینے کے جرم میں 20 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ریاست پنسلوانیا کے دو سابق ججوں کے خلاف ’کِڈز فار کیش‘ کیس میں بھاری رشوت لینے کے الزام کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان پر 28 لاکھ ڈالرز رشوت وصول کرنے کا الزام ثابت ہوگیا۔
عدالت میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ رقوم دونوں ججوں نے بچوں کی منافع بخش جیلوں میں بچوں کو زبردستی بھیجنے کے عوض بطور رشوت وصول کیں۔ ان ججوں نے 8 سال عمر تک کے بچوں کو سخت سزائیں سنائی تھیں۔
اس عدالتی اسکینڈل کے سامنے آنے پر دونوں ججوں مائیکل کوناہن اور مارک سیواریلا کو منصب سے برخاست کردیا گیا تھا اور سزائیں بھی دی گئی تھیں تاہم اب عدالت نے دونوں ججوں کو حکم دیا ہے کہ سیکڑوں متاثرین کو 20 کروڑ رقم بطور جرمانہ ادا کریں۔

سعودی عرب میں برقع پوش گلوکارہ کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا

123-154.jpg
ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں برقع پوش خاتون کی گانا ریکارڈ کراتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی جس پر اکثر صارفین نے کڑی تنقید کرتے ہوئے خاتون کو آڑے ہاتھوں لے لیا جب کہ کچھ نے خاتون کی ہمت افزائی بھی کی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی عرب کے اداکار عبداللہ السدحان نے ویڈیو شیئر کی جس میں ایک برقع پوش خاتون کو گانا گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو کی کیپشن میں اداکار عبداللہ السدحان نے لکھا کہ آواز بہت خوبصورت ہے۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے۔ یقیناً رزق کی تلاش مشکل ہے۔ آگے بڑھتے رہو چاہے جتنی مشکلات آئیں۔
اس ویڈیو پر جہاں کئی صارفین نے خاتون کی تعریف کی وہیں اکثر سعودی شہریوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے برقع پوش گلوکارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
خاتون کی حمایت کرنے والے صارفین نے لکھا کہ حجاب، برقع یا پردہ کسی بھی صلاحیت کے اظہار میں رکاوٹ نہیں۔ آپ ایک فنکار ہیں اور باپردہ ہوکر بھی اپنی آواز کا جادو جگا سکتی ہیں۔
دوسری جانب تنقید کرنے والے ایک صارف نے لکھا کہ موسیقی اور گانا گانا مذہبی طور پر جائز نہیں۔ اگر روزی ہی کمانا ہے تو ایسا پیشہ اپناؤ جس پر سب کو آپ پر فخر ہو۔
صارفین نے گلوگاری کے پیشے اور برقع کو دہرا معیار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یا تو مکمل مذہب کی پاسداری کریں یا پھر ایک گلوکارہ جیسا بھیس اپنالیں۔
Top