حکومت کا پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے اضافے کا اعلان

2327326-petrol-1653583937-343-640x480-1.jpg

اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کردیا، جس کا نفاذ آج رات 12 بجے سے ہی ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آج مہنگائی ہے، ماضی کی حکومت کے فارمولے پر جاتے تو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 205 روپے ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے البتہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سے روپے کو استحکام ملے گا، آئی ایم ایف نے بھی پیٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف دینے سے انکار کیا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا مگر سابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، جس کی وجہ سے
آج ہمیں مشکلات کا سامنا ہے مگر وزیراعظم شہبازشریف نے قیمتوں میں اضافے کا یہ مشکل فیصلہ لیا ہے۔
وزیرخزانہ کا مزید کہنا تھا کہ جیسےہی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آئیں گی، ہم سمجھتے ہیں فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان پہنچے گا مگر ہمارے لیے ملک اور معاشی صورت حال زیادہ اہم ہے۔
واضح رہے کہ دوحہ میں پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان چار روزہ جائزہ مذاکرات گزشتہ ختم ہوئے، جس میں عالمی مالیاتی فنڈز نے نئی قسط جاری کرنے کے لیے پیٹرول اور بجلی پر دی گئی سبسڈی ختم کرنے کی شرط عائد کی۔
ساتویں جائزہ مذاکرات کے اختتام پر عالمی مالیاتی فنڈز کی جانب سے اعلامیہ میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں پالیسی ریٹ (شرح سود) میں اضافے کا خیر مقدم کیا اور واضح کیا کہ ایک ارب ڈالر قرض کی قسط کے لیے پاکستان کو پیٹرول اور بجلی پر دی گئی سبسڈی کو ختم کر کے قیمتوں کو بڑھانا ہوگا۔

عمران خان کا لانگ مارچ ریڈزون پہنچ کر ختم، انتخابات کے اعلان کیلئے حکومت کو 6 روز کی مہلت

2326511-imrankhandharna-1653537232-647-640x480-1.jpg

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 6 روز میں عام انتخابات کروائے جائیں تاہم اگر ایسا نہیں ہوا تو اگلی مرتبہ 20 لاکھ لوگوں کے ساتھ اسلام آباد واپس آؤں گا۔
جناح ایونیو پر عوام سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ سارے پاکستانی پہلی مرتبہ متحد دیکھے ہیں، جس طرح آنسو گیس کا مقابلہ کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری قوم خوف سے آزاد ہوگئی ہے اور اب امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس آزادی کی تحریک کو ناکام کرنے کے لیے ہر قسم کا طریقہ استعمال کیا گیا، اب ہماری قوم مجرموں کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے گی، موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کا بیٹا حمزہ شہباز سنگین جرائم کے مرتکب ہیں اور انہیں ملک کی باگ دوڑ دے دی گئی۔
انہوں نے سپریم کورٹ کو مخاطب کرکے کہا کہ گزشتہ رات سے ابتک 5 کارکنوں کو جاں بحق کردیا گیا، ہم پر امن احتجاج کے لیے نکلے ہیں اور کبھی انتشار کی ترغیب نہیں دی، ہمارے جلسوں میں ہمیشہ فیملیز آتی ہیں، احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ان پر آنسو گیس کا آزادانہ استعمال کیا اس لیے سپریم کورٹ پی ٹی آئی کارکنوں پر تشدد کا نوٹس لے۔
اس سے قبل شرکا اور پولیس کے درمیان رات بھر مختلف اوقات میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تاہم پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کی شیلنگ کا جواب شدید پتھراؤ سے دیا۔ پی ٹی آئی کارکن ڈی چوک سے کنٹینر ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوگئے جبکہ حکومت نے ریڈ زون میں پاک فوج کے دستوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صوابی سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا آغاز کیا اور 8 گھنٹے قبل اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے والا سابق وزیرا عظم عمران خان کا قافلہ صبح سویرے ایچ نائن پہنچا اور بتدریج ڈی چوک کی جانب گامزن ہوا لیکن جناح ایونیو پر پہنچ کر چیئرمین پی ٹی آئی نے عوام سے خطاب کیا اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو پی ٹی آئی کارکنوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی تھی لیکن جمعرات کی صبح سویرے کارکنوں کی بڑی تعداد ڈی چوک پر جمع ہونا شروع ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے، جو رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں، شرکا کو روکنے کے لیے انتظامیہ بھی متحرک نظر آئی جس کے باعث کراچی، لاہور، راولپنڈی میں تصادم بھی ہوا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا، مریم نواز

2327242-maryamnawaz-1653570975-969-640x480-1.jpg

لاہور: مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف سے بات کی تو انہوں ںے ہمیں عمران حکومت سے کیا گیا معاہدہ تھمادیا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔
لاہور گرین ٹاؤن میں شہید کانسٹیبل کی بیوہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید کانسٹیبل کی بیوہ اور پانچ بچوں سے مل کر آئی ہوں، خود ماں ہوں، کیفیت سمجھ سکتی ہوں، چھوٹا بچہ نو ماہ کا ہے، کانسٹیبل کی شہادت کا ذمہ دار عمران خان ہے، کانسٹیبل کی بیوہ اور بچوں کو گھر ہماری حکومت دے گی، شہید کانسٹیبل کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اطمینان ہے کہ پوری قوم نے انتشار مارچ کو مسترد کر دیا، حقیقی آزادی کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے جب کہ عمران خان نے اپنے بچوں کو لندن میں رکھا ہوا ہے، لوگوں کو اگر آزادی دلانی ہے تو اپنے بچوں کو یہاں بلاؤ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے لیے چھ دن کا وقت شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ہے، 25 لاکھ لوگ لانے کا دعوی کرنے والاعمران خان 20 ہزار لوگوں کو بھی جمع نہیں کر سکا، لوگوں نے آزادی مارچ کو بربادی مارچ بنا کر واپس پشاور پھینک دیا، پاکستان بالخصوص پنجاب کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا، ، ان کا انتشار اور فتنہ ایکسپوز ہوگیا، عمران خان بنی گالا واپس جاؤ اور قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے باقی زندگی اللہ اللہ کرو۔
مریم نواز نے کہا کہ رات تک ہر چیز قابو میں تھی، ان کا اصل ایجنڈا فساد اور انتشار ہے، اسلام آباد کو نذر آتش کیا گیا، کئی گھنٹے اسلام آباد جلتا رہا، ان کا رہنما جلاؤ گھیراؤ کی ترغیب دیتا رہا، یہ لوگ کہتے تھے کہ مارچ خونی ہوگا، حکومت کو عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرانا چاہیے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے انہیں شہ ملی سپریم کورٹ سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

مریم نواز نے کہا کہ رات تک ہر چیز قابو میں تھی لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں آزادی ملی اور فتنہ فساد کا کھیل سامنے آگیا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دارالخلافہ کو نذر آتش کیا گیا، کئی گھنٹے تک اسلام آباد جلتا رہا، ان کا رہنما سارا دن ٹوئٹس کرتا رہا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ ڈی چوک تک نہیں آسکتے تو انتشار کیوں برپا کیا؟

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو یاد دہانی کروانا چاہتی ہو شیخ رشید سے لےکر تمام وزراء کے بیانات موجود ہیں کہ خونی لانگ مارچ ہوگا، لیڈر لیس انقلاب نہیں تھا لیڈر موجود تھے سامنے گھیراؤ جلاؤ کرواتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہیے، ہلاکتوں، زخمیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے بات کی تو انہوں ںے ہمیں عمران حکومت سے کیا گیا معاہدہ تھمادیا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم ختم

2327141-parlimn-1653557072-500-640x480-1.jpg

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے انتخابات ترمیمی بل 2022ء کے ذریعے سابق حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ترامیم ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے الیکشن اصلاحات ایوان میں پیش کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن اصلاحات بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ای وی ایم سے متعلق قانون سازی پر کافی اعتراضات تھے، قانون میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے، 2018ء کے انتخابات میں کچھ کمی بیشی رہ گئی تھی جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں ںے کہا کہ الیکشن ریفارمز کی آڑ میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لے کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کہا گیا، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے الیکشن کمیشن، فافن اور پلڈاٹ کا بھی موقف دیا گیا، تحریک انصاف کی حکومت میں اس قانون میں بہت سی ترمیم کی گئیں، ای وی ایم مشین پر الیکشن کمیشن نے بہت سے اعتراضات اٹھائے۔
وزیر قانون نے کہا کہ بہت کم فرق سے اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا، یہ بل سینیٹ میں آیا تو اسے کمیٹی میں بھیجا گیا، ہم نے اس کے اوپر بہت سے اجلاس کیے لیکن رولز کو بلڈوز کرتے ہوئے اس بل کو منظور کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو کوئی بھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں کرسکتا، اس حوالے سے ہمارے بارے میں افواہ ہے کہ شاید ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں، ہم ای وی ایم ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہم صرف ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے صرف وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو باہر درختوں اور املاک کو آگ لگا رہے ہیں۔
وزیر قانون کے اظہار خیال کے بعد اسپیکر نے انتخابات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کرتے ہوئے انتخابات ترمیمی بل 2022ء کی ترامیم پیش کرنے کی اجازت دے دی بعدازاں اسے شق وار منظور کرلیا گیا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سمیت اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم کردی گئیں۔
بل کے مطابق انتخابات ایکٹ 2017ء کے سیکشن 94 اور سیکشن 103 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کرے، الیکٹرانک اور بایو میٹرک ووٹنگ مشینوں کا بھی ضمنی انتخابات میں پائلٹ پراجیکٹ کیا جائے۔

انتشار کی سازش کو ناکام بنانا ہے، وزیراعظم کی ریڈزون میں سیکیورٹی اہلکاروں سے گفتگو

2327149-shahbaz-1653557718.gif

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ریڈ زون کا دورہ کرکے لانگ مارچ میں ڈیوٹی کرنے والے پاک فوج، رینجرز اور پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی اور انہیں سراہا۔
اس موقع پر انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے ملک خوش حالی، امن ، ترقی اور یکجہتی کی طرف بڑھے، ہم نے انتشار اور تقسیم کو روکنا ہے، قوم کے اندر تقسیم در تقسیم پیدا کرنے کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔

قوم نیوٹرلز کو دیکھ رہی ہے، ملکی تباہی کے آپ بھی ذمہ دار ہوں گے، عمران خان

2326209-fbfe-1653389284-287-640x480-1.jpg

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عدلیہ نے ملک کی جمہوریت کا تحفظ نہ کیا تو اس کی ساکھ ختم ہوجائے گی جبکہ حکومت اپنے غیر قانونی اقدامات سے فوج کو متنازع بنارہی ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کے حکومتی فیصلے پر ردعمل میں پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مجرموں کی کابینہ نے یہ غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، بلاول اور مولانا نے ہماری حکومت میں لانگ مارچ کیا ہم نے روکنا تو دور کی بات انہیں سہولیات دیں، یہ اداروں کا امتحان ہے، اداروں اور عدلیہ نے ملک کی جمہوریت کا تحفظ نہ کیا اور اس کی اجازت دی تو اس کی ساکھ ختم ہوجائے گی، اس کا مطلب ہوگا یہاں جمہوریت نہیں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ نیوٹرلز، ججز سے پوچھتا ہوں کونسی حکومت اس طرح کے اقدامات کرتی ہے، سب کےلیے فیصلہ کن وقت ہے، کسی کے پاس نیوٹرل رہنے کی گنجائش نہیں، بیچ میں ہونے کا مطلب مجرموں کی مدد کررہے ہیں، ملک تباہی کی طرف گیا تو آپ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے، ساری قوم نیوٹرلز کو دیکھ رہی ہے، آپ پر بھی فیصلہ سنایا جائے گا، جو نیوٹرل کہتے ہیں ان کو واضح کرتا ہوں ان کا حلف پاکستان کی سالمیت اور خودداری کا تحفظ کرنا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے فاشسٹ حکومت کے غلط اور غیر قانونی کاموں پر عوام کا نزلہ فوج اور اداروں پر گر رہا ہے، عوام کا غصہ ان کی طرف جارہا ہے اور اسے متنازع بنارہے ہیں۔
ایک ایک کا نام نوٹ کر رہے ہیں
عمران خان نے بیورو کریسی اور پولیس کو خبردار کیا کہ ایک ایک کو دیکھ رہے ہیں اور ایک ایک کا نام نوٹ کر رہے ہیں، کس بنیاد پر گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ ہے ہی نہیں، وہ توکل فارغ ہوجائے گا، آپ اس کے غیر قانونی احکامات کیسے مان رہے ہیں، آئی جی اسلام آباد ایک مجرم ہے۔
عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت اور ڈکٹیٹروں میں کوئی فرق نہیں، فاشسٹ حکومت نے گزشتہ رات سے ہمارے خلاف کارروائیاں کی گئیں، ہم پرامن احتجاج کررہے ہیں پھر یہ کیوں ہورہا ہے، جسٹس ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ ماراگیااور ویڈیو پھیلائی گئی، ایسا صرف مجرموں کی حکومت کرسکتی ہے، حماداظہر کے گھرپرچھاپہ ماراگیا، میری جان کو خطرہ ہے پھر بھی نکل رہاہوں، مجرموں کی حکومت کو ماننے سے موت بہتر ہے۔
فوری الیکشن
عمران خان نے فوری الیکشن کا مطالبہ دہراتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان سری لنکا جیسی صورتحال کی طرف جارہا ہے، کل خیبرپختون خوا سے جلوس لے کر اسلام آباد روانہ ہوں گا، یہ فیصلہ کن موڑ ہے، جو روکنا چاہے وہ روک کر دکھائے، عوامی سمندر کو کوئی نہیں روک سکتا، نہ پولیس نہ رینجرز اسے روک سکتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے دورِ حکومت میں سب کو احتجاج کا حق دیا مگر یہ لوگ انتقامی کارروائیوں پر اتر آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پکڑ دھکڑ کریں گے اور ڈرائیں گے مگر کچھ بھی کرلیں لانگ مارچ ہوکر رہے گا اور ہم انتخابات کی تاریخ لے کر آئیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ’ہم ملک بھر کے نوجوانوں کو ہدایت جاری کریں گے کہ یہ جتنا مرضی چاہیے موبائل انٹرنیٹ سروس بند کریں ہم نے نوجوانوں کو متبادل بندوبست کرنے اور ہر قسم کی تیاری کی ہدایت کردی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم کوئی دھرنا یا جلوس نہیں بلکہ جہاد کررہے ہیں، ہماری تحریک اس وقت جاری رہے گی جب تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا اور امپورٹڈ حکومت نہیں جاتی۔
عمران خان نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ لندن میں نوازشریف نے سازش کی یہاں بیٹھے میرجعفر نے حکومت گرائی مگر قوم آزاد ہے اور وہ امپورٹڈ حکومت کو کبھی قبول نہیں کرے گی، جو بھی عوام کے سمندر کو روکنے کی کوشش کرے گا وہ بہہ جائے گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام اور پولیس کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا، کل رات کی تاریکی میں پنجاب اور سندھ میں کریک ڈاؤن کیا گیا ، آج نیوٹرلز اور عدلیہ کاامتحان ہے کہ وہ چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں یاحقیقی آزادی کے ساتھ، پی ٹی آئی یوتھ کی کل کے لیے پوری تیاری ہے۔

وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ عمران خان کو آنے دیں، گرفتار نہ کریں، مریم نواز

2326292-mariamnawaz-1653397238-421-640x480-1.jpg

لاہور: مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پولیس کانسٹیبل کی شہادت کا ذمہ دار سابق وزیراعظم عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا لٹکا ہوا چہرہ بتا رہا ہے کہ لانگ مارچ کا غلط فیصلہ کرکے پھنس گیا۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف کا لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے کہتی ہوں کہ عمران کو اسلام آباد آنے دیں، گرفتار نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کررہا ہے، میں اداروں کو پیغام دیتی ہوں کہ عمران خان پاکستان کا سب سے بڑا فتنہ ہے وہ قوم کے بچوں کو مروانا چاتا ہے، اداروں کو چاہیے کے ملک کو فتنہ گر کے ہاتھوں یرغمال ہونے سے بچائیں۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہےکہ عمران خان لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کررہے ہیں، عمران خان نے کہا کہ میں میر جعفر اور میر صادق کو پہچان گیا، یہ اس نے ہمیں نہیں کہا، یہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو کہتا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پہلے نواز شریف نے عمران خان کی حکومت ختم کی اور اب عمران خان کی سیاست بھی ختم کریں گے۔
رہنما مسلم لیگ نواز کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست کا آغاز ڈی چوک سے ہوا تھا اور اب ڈی چوک پر ہی تمہاری سیاست دفن ہوگی۔
نائب صدر مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف پر الزام لگایا کہ تحریک انصاف نے اداروں پر حملہ کرنے کےلیے آنسو گیس کے شیل اور اسلحہ جمع کرکے رکھا ہے اور اس حوالے سے ہمارے پاس خفیہ اطلاعات موجود ہیں، جس کا واضح ثبوت ماڈل ٹاؤن میں کانسٹیبل کی شہادت ہے جس کے سینے میں گولی ماری گئی۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ یہ کونسی آزادی چاہتے ہیں؟ عمران خان نے کرسی اور فرح گوگی کا نام آزادی رکھا ہوا ہے، عدلیہ کو بہت ادب سے یہ بات کہناچاہتی ہوں، یہ روایت مت ڈالیں کہ جو شخص سب سے بڑھ کر اداروں کو گالیاں نکالے گا، اسی کے حق میں فیصلے ہوں گے، قوم کے حق میں فیصلے کریں، ملک کے حق میں فیصلےکریں، سوشل میڈیا کو مت دیکھیں، میڈیا کو مت دیکھیں اورقوم کے مستقبل کے حق میں فیصلےکریں۔
عمران خان تو کہتا تھا کپتان ڈٹ کر کھڑا ہے لیکن اب گرفتار کے ڈر سے پشاور کے بنکر میں چھپ کر بٹھا ہے اور ملک بھر میں کارکن گرفتار ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے الیکشن کروانے کا سوچا تھا مگر دھمکی میں آکر الیکشن نہیں کروائیں گے، چیئرمین تحریک انصاف کی دھمکی اور شرائط پر الیکشن ہوں گے اور نہ ہی حکومت تبدیل ہوگی، فیصلے آئین و قانون کے مطابق عوام کے حق میں ہوں گے۔
رہنما ن لیگ مریم نواز سربراہ پی ٹی آئی پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے متعلق مولانا فضل الرحمٰن بلکل ٹھیک کہتے ہیں کہ عمران کی سیاست زندہ لاش ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سازش کا کوئی ذکر نہیں کیا اور یہاں امریکی سازش کا رونا رہا ہے، ایک دن عمران خان خود بولے گا کہ میں استعمال ہوا۔

پی ٹی آئی کے خلاف پولیس کا ملک گیر کریک ڈاؤن، 247 سے زائد کارکنان گرفتار

2325553-PT-1653338936-377-640x480-1.jpg

اسلام آباد / کراچی / لاہور: حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کے لیے پارٹی عہدے داروں اور کارکنوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں 247 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔
حکومت نے گرفتار کارکنوں اور رہنماؤں کو 16 ایم پی او کے تحت جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت روپوش ہوگئی ہے۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی لال حویلی پر پولیس نے چھاپا مارا لیکن شیخ رشید اور ممبر قومی اسمبلی راشد شفیق نہ ملے۔
پولیس نے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت، ممبر صوبائی اسمبلی اعجاز خان جازی، واثق قیوم، چوہدری امجد، چوہدری عدنان، راجہ راشد حفیظ کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے، لیکن ابھی تک کوئی سرکردہ رہنما گرفتار نہیں ہوسکا۔
پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان، حماد اظہر، فردوس عاشق اعوان، علی نوید بھٹی، جمشید اقبال چیمہ، ایم پی اے ملک ندیم عباس بارا، یاسر گیلانی ، میاں اسلم اقبال ، ایم پی اے سعدیہ سہیل، اعجاز چوہدری ، میاں اکرم عثمان ، عقیل صدیقی، سابق ڈپٹی سیکرٹری لاہور عامر ریاض قریشی، یوسی چیئرمین امیدوار شیخ محمد حیدر صاحب اور دیگر کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے گئے۔
ادھر کراچی پولیس نے گلشن اقبال میں رکن نیشنل اسمبلی اور پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری سیف الرحمان محسود کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لیا، وزارت داخلہ سندھ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو نقصِ امن کے تحت ایک ماہ کے لیے سینٹرل جیل بھیجنے کی سفارش کی ہے۔
پولیس نے رکن سندھ اسمبلی و پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر کراچی سعید آفریدی، پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار، رکن قومی اسمبلی و انفارمیشن سیکریٹری سندھ ارسلان تاج گھمن ، رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی کے گھروں پر بھی چھاپے مارے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
اس کے علاوہ قصور پولیس نے ایم این اے کے ٹکٹ ہولڈر (این اے 138) سردار راشد طفیل کے گھر پر چھاپہ مارا۔ سردار راشد گھر پر موجود نا تھے۔ دوسری جانب یاسر گیلانی کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران سادہ اور پولیس وردی میں ملبوس اہلکاروں نے گھر کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی۔
پولیس نے شیراکوٹ میں پی ٹی آئی رہنما سعید احمد خان کے گھر چھاپہ مارا۔ سعید خان کا کہنا تھا کہ پولیس سیڑھی لگا کر چھت سے گھر میں داخل ہوئی اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا۔
راستوں کی ممکنہ بندش کے لیے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔ آزادی مارچ روکنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری کو راولپنڈی پہنچا دیا گیا ہے، آنسو گیس، قیدی گاڑیاں اور دیگر سامان بھی پولیس دستوں کو فراہم کردیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے 350 افراد کی فہرست تیار کی گئی اور سی سی پی او دفتر کی جانب سے کارکنوں کی فہرستیں متعلقہ تھانوں کو فراہم کردی گئیں ہیں جبکہ تمام ڈویژنل ایس پیز کریک ڈاون کی خود نگرانی کریں گے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا مقصد 25 مئی کے لانگ مارچ کو روکنا ہے اور کارکنوں کو پکڑ کر متعلقہ پولیس اسٹیشن میں نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے خارجی اور داخلی راستوں پر بھی پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

حکومت کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

2326048-ranasanaullahphotoafp-1653403850-689-640x480-1.jpg

اسلام آباد: حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو خونی مارچ قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ یہ لوگ پشاور سے لوگ لے کر وفاق پر حملہ کرنا چاہتے ہیں جس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ کے نام پر فتنہ و فساد قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، یہ لوگ گالیوں سے گولیوں پر آگئے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ لاہور میں پولیس اہلکار شہید ہوا، ویسے تو پی ٹی آئی قیادت بہت بہادر بنتی ہے اور اب ساری گھروں سے غائب ہوکر پشاور میں جابیٹھی ہے، یہ لوگ وہاں سے صوبائی فورسز لے کر بڑے جتھے کی صورت میں وفاق پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو۔
انہوں ںے کہا کہ ایسا جتھہ جو وفاق پر حملہ آور ہونے والا ہو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فتنہ و فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس لیے حکومت نے انہیں لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، نالائق ٹولہ خونی مارچ کے بیانات دیتا رہا جو کہ ریکارڈ پر ہیں، یہ لوگ جس آزادی مارچ کی بات کررہے ہیں وہ خونی مارچ ہے اس لیے انہیں لانگ مارچ سے روکا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اگر یہ لوگ اسے خونی مارچ کا نام نہ دیتے تو ہم انہیں مارچ کرنے سے نہیں روکتے، یہ لوگ پرامن مارچ کے لیے نہیں آرہے بلکہ فتنہ و فساد پھیلانے آرہے ہیں، اب وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا لانگ مارچ روکا جائے۔

لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب میں موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

2326359-mobilephoneserviceban-1653403583-213-640x480-2.jpg

لاہور: حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کےلیے پنجاب بھر میں جزوی طور پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 25 مئی کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا جسے روکنے کےلیے لاہور سے اسلام آباد جانے والے تمام راستے سیل کردئیے گئے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب بھر میں جزوی طور پر موبائل فون سروس بند کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ صوبے بھر میں 350 مقامات پر موبائل فون سروس بند کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی، جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے لاہور کے 20 اور پنجاب کے 350 مقامات پر موبائل فون سروس بند کر نے کی منظوری دے دی
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کیلئے اسلام آباد، پنجاب اور سندھ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور لاہور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جانے والے تمام راستے سیل کردئیے گئے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب کو تجویز بھیجی جائے گی جس کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب عملدرآمد کیلئے پی ٹی اے کو ہدایات بھیجنے کیلئے ایم او آئی کو ایڈوائس بھیجے گا۔

Top