عمران خان کا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان

3-5.png

اہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت کا شوق پورا کردیں گے، ملک کی ساری جیلوں کو بھر دیں گے۔

اپنے ویڈیو بیان میں عمران خان نے کہا کہ ہم جس طرف جا رہے ہیں مجھے خوف ہے ہم بچیں گے بھی نہیں۔ سازش کے تحت ہم پر مجرموں کی حکومت مسلط کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے بغیر کسی ریاست میں خوشحالی نہیں آ سکتی۔ معیشت کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی ہو۔ ہم نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بات کی ہے۔ پاکستان کا قیام لوگوں کا خواب تھا۔ قرار داد پاکستان مدینہ کی ریاست پر مبنی ہے۔اسلام کےنام پرپاکستان کے سوا اورکوئی ریاست نہیں بنی۔ریاست مدینہ کی بنیادعدل اورانصاف پررکھی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم نہ جاگےاورجدوجہدنہ کی توصورتحال کے ذمے دار ہوں گے۔ دبئی اور ملائیشیا میں پیسہ لگانے والوں کو وہاں رُول آف لانظرآتاہے۔ ہماری سب سےبڑی طاقت 10 ملین اوورسیز پاکستانی ہیں، جو یہاں نہیں آتے کیوں کہ انہیں ہمارے نظام پر اعتمادنہیں۔
15 سے 20 لاکھ پاکستانی سرمایہ کاری شروع کریں تو پاکستان ترقی کرےگا ۔ عدم اعتماد کے دن پاکستان میں ڈالر 178 کا تھا، آج 100 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔ ہمارے 3 سال 8 ماہ میں ڈالر 55 اور موجودہ ایک ہفتے میں 50 روپے مہنگا ہوا۔ ڈالر مہنگا ہونے کے عام لوگوں پر اثرات آنے لگے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی 50 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ڈالر مہنگا ہونے کے برے اثرات ابھی آئے نہیں،آنے والے ہیں۔ آٹا،گیس،بجلی پہلے ہی مہنگی ہے، مزیدمہنگی ہونے جارہی ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ تیل ہمارے دور میں 110 سے 115 ڈالر فی بیرل تھا،آج 85 ڈالر فی بیرل ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمات اور گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم حکومت کا یہ شوق بھی پورا کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ساری جیلیں بھر دیں گے۔

شیخ رشید کو سندھ منتقل کرنے کی درخواست مسترد

123-153.jpg

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سندھ پولیس کی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے راہداری ریمانڈ کی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کو عدالت سے مشروط کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں میں سندھ پولیس کی جانب سے دائر راہداری ریمانڈ کی سماعت پر جج نے شیخ رشید احمد کو سندھ منتقل کرنے اور راہداری ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کردی جبکہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر پیر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جانب سے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ مسترد ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نے ایک صفحے پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ تھانہ موچکو کراچی نے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی، شیخ رشید کو آج جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا ہے، جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب ملزم ابھی کورٹ کی کسٹڈی میں ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ شیخ رشید کی گرفتاری اس عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی، نہ متعلقہ عدالت نے شیخ رشید کی گرفتاری کی اجازت دی نہ ہی کوئی عدالت سے اجازت مانگی گئی، تھانہ موچکو کراچی کی جانب سے شیخ رشید کا راہداری ریمانڈ مانگنا طریقہ کار کی خلاف وزری ہے، اس لیے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔
اُدھر رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے ساتھ شیخ رشید کی ضمانت کیلیے درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی، جس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری پیر کو سماعت کریں گے۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھایا کہ دوسرے صوبوں میں درج مقدمات ہم کیسے دیکھ سکتے ہیں ؟ مقدمات درج کرنے سے روکنے کا آرڈر کیسے دے سکتے ہیں ؟۔
شیخ رشید نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیاکہ عمران نے آصف زرداری پر قتل کا الزام لگایا جس کا میں نے حوالہ دیا ، سیاسی بیان بازی کی بنا پر مزید مقدمات درج کرنے سے روکا جائے، آبپارہ ، مری اور کراچی کے مقدمات غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دیے جائیں اور کیس کے حتمی فیصلے تک کراچی منتقلی سے روکا جائے۔

پشاور پولیس لائنز دھماکا؛ شہدا کی تعداد 84 نکلی حتمی فہرست جاری

123-152.jpg

پشاور: محکمہ پولیس نے پشاور پولیس لائنز دھماکے میں شہید ہونے والے افراد سے متعلق حتمی فہرست جاری کردی، جس کے مطابق شہدا کی حتمی تعداد 84 ہے۔

سی سی پی او نے کہا کہ فہرست محکمہ پولیس نے جاری کی جس کے مطابق خود کش دھماکے میں کُل 84 افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مردہ خانے، فرانزک شواہد اور وقوعہ سے معلومات اب مکمل ہوچکی ہیں۔
سی سی پی او کا کہنا تھا کہ واقعہ سے متعلق ابتدائی رپورٹس میں ناموں کی غلطیاں ہوئیں جبکہ اب رپورٹ مکمل ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہدا میں 82 پولیس اہلکار و افسران اور دو شہری شامل ہیں۔
خیال رہے کہ یکم فروری کو تھانہ پولیس لائنز کی مسجد کے اندر خود کش دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد شہید ہوگئے تھے۔

جس طرح مجھے رکھا ہے اس سے بہتر ہے موت کی سزا سنا دیں، شیخ رشید

123-151.jpg

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پولیس نے جس طرح مجھے رکھا ہے، اس سے بہتر ہے مجھے موت کی سزا سنا دیں۔

پولیس نے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کو اسلام آباد کچہری میں پیش کرکے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔ اس موقع پر اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ 5 نام دیے ہیں، میرے قاتل وہی ہوں گے۔ پانچ افراد کے نام بتاتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف، محسن نقوی، شہباز شریف، آصف زرداری اور رانا ثنا اللہ میرے قتل میں ملوث ہوں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ مجھے رات کو کہیں لے کر گئے، مجھ سے پوچھا کہ عمران خان کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں وہ نااہل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اسپتال بھیجا جائے، میری پٹی کی جائے ، میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھے گئے۔ مجھے رینجرز کی سکیورٹی دی جائے، اسپتال بھیجا جائے، پیروں اور ہاتھوں پر خون ہے۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میں ان سے بھیک نہیں مانگوں گا، بس میری پٹیاں کروا دی جائیں۔ مجھے کرسیوں سے باندھے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے پر لعنت بھیجتا ہو ں۔ 3 سے 6 بجے تک میرے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں باندھی رکھی گئیں۔اس موقع پر عدالت کے حکم پر شیخ رشید کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔
شیخ رشید نے کہا کہ جس طرح پولیس نے مجھے رکھا ہے، اس سے بہتر ہے مجھے موت کی سزا سنا دیں۔ عدالت میں شیخ رشید کی جانب سے پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی گئی جب کہ تفتیشی افسر نے کہا کہ شیخ رشید کے 2 ٹیسٹ کروائے ہیں۔ وائس میچنگ بھی ہوئی ہے اور ابھی فوٹوگرامیڑک ٹیسٹ کروانا باقی ہے۔
دوران سماعت جج نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ مجھے خون دکھا دیں گے؟ آپ کے ہاتھ پر تو خون ہی نہیں ہے، جس پر شیخ رشید نے کہا کہ وہ خون میں نے صاف کردیا ہے۔ اس موقع پر شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرزاق نے کیس ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی۔

عمران خان کو جیل جانے کا شوق ہے تو وہ ضمانتیں کیوں کروا رہے ہیں، وزیر مملکت

123-150.jpg

اسلام آباد: وزیرمملکت فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ عمران خان کو جیل جانے کا شوق ہے تو وہ ضمانتیں کیوں کرواتے پھر رہے ہیں۔

عمران خان کی جیل بھرو تحریک شروع کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جیل بھرو تحریک چلانے سے پہلے چار دن کیلئے جیل جانے والوں کا رونا تو بند کراو، ان صاحب جیل جانے کا شوق ہے تو ضمانتیں کیوں کراتے پھر رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی عمران خان کے اعمال اور زبان انہیں جیل پہنچائیں گے، پی ٹی آئی والے تڑیاں دینے بعد ترلے کرتے ہیں، عمران خان جیل بھرو تحریک کے اعلان پر بھی یوٹرن لیں گے۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ خان صاحب کو کسی نے شاید جیل بھرو تحریک کا مطلب غلط بتایا ہے، ایسی تحریک چلنے پر تمام زیر سماعت اور زیر التوا مقدمات میں درخواست کی ضمانتیں واپس لی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا خان صاحب فارن فنڈنگ کیس، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس میں ضمانت کی درخواستیں واپس لیں گے اور دیگر رہنما بھی جیل جائیں گے؟۔

شیخ رشید کی حوالگی کیلیے کراچی کا ایس ایچ او صحافی بن کر اسلام آباد کی عدالت پہنچ گیا

123-149.jpg

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کے دوران کراچی کے تھانہ موچکو کے ایس ایچ او اسلام آباد کی عدالت میں صحافتی ادارے کے نمائندے کے روپ میں داخل ہوا اور پکڑا گیا۔

شیخ رشید کے خلاف کراچی کے تھانہ موچکو میں درج مقدمہ کے تفتیشی اور انسپکٹر راہداری ریمانڈ کی درخواست پر عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر تفتیشی افسر نے معزز جج کو بتایا کہ پولی کلینک میں شیخ رشید نے جو گفتگو کی تھی اس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے، شیخ رشید کو کراچی منتقل کرنا ہے۔
شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ پر درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے اور ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا۔ جس پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں، دفعات کیونکہ قابل ضمانت ہیں عدالت سے استدعا ہے کی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی جائے، ضمانتی مچلکے متعلقہ عدالت میں بھیج دیے جائیں گے۔
شیخ رشید کے وکلا نے راہداری ریمانڈ کی مخالفت کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور پھر سندھ پولیس کی راہداری ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کردیا۔
اس موقع پر کمرہ عدالت میں ایک شخص موجود تھا جس نے اپنا تعارف معروف صحافتی ادارے کے نمائندے کے طور پر کروایا تاہم عدالت میں موجود صحافیوں نے انہیں روک کر سوال کیا۔

وہاڑی، چلتی بس میں بس ہوسٹس کے ساتھ زیادتی

123-148.jpg

وہاڑی: لاہور سے کراچی جانے والی بس میں بس ہوسٹس کو گارڈر نے چلتی گاڑی میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے بس کو قبضے میں لے لیا۔

لاہور سے کراچی جانے والی بس میں سوار تمام مسافر میلسی کے قریب اترے تو ڈرائیور سے بس کا دروازہ بند کردیا اور وہاڑی کے مقام پر گارڈ نے بس ہوسٹس کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق گارڈ نے ڈرائیور کو ساتھ ملا کر اسلحے کے زور پر چلتی بس میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ دانیوال تھانے کی پولیس نے لڑکی کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے گارڈ کو گرفتار کر کے بس کو قبضے میں لے لیا جبکہ لڑکی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کردیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ملزم کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی تاہم ابھی اُس سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق لڑکی نے بتایا ہے کہ اُس نے متعدد بار ڈرائیور سے مدد کرنے اور گاڑی روکنے کی التجا کی مگر اُس نے ایک نہ سنی۔

پی ٹی آئی کا حکومت کی دعوت پر آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت پر غور

123-147.jpg

لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے دعوت کے بعد آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اے پی سی میں شرکت کے لیے شیخ رشید احمد اور اعظم سواتی کو بطور پارٹی نمائندہ نامزد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مشورہ دیا ہے کہ اے پی سی میں شیخ رشید احمد اور اعظم سواتی کو پارٹی کی نمائندگی کرنی چاہیے۔
فواد چوہدری کی جانب سے دیے گئے مشورے میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید سابق وزیر داخلہ رہ چکے ہیں،وہ سکیورٹی صورت حال سے بخوبی واقف ہیں۔ ذرائع کے مطابق نمائندگی کے لیے اعظم سواتی کا نام بھی دیا گیا ہے، ان سے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ سینئر سیاست دان ہیں اور اے پی سی میں پارٹی کی بہترین نمائندگی کر سکتے ہیں۔
عمران خان سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت کو ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا اندازہ ہی نہیں ہے۔خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے متعلق ہمارے لوگ بار بار توجہ دلاتے رہے۔ ہماری بات سننے کے بجائے ہمارے ارکان پر غداری اور بغاوت کے مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت میں ہر معاملے پر سنجیدگی کا فقدان ہے۔ یہ اس معاملے میں بھی فوٹو شوٹ کی حد تک سنجیدہ ہیں۔

شیخ رشید اڈیالہ جیل کی ہائی سیکیورٹی بیرک میں منتقل

123-146.jpg

سلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت کے حکم پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا جہاں جیل مینئول کے مطابق اُن کا طبی معائنہ بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ شیخ رشید کو اسلام آباد پولیس کی سخت سیکورٹی میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، شیخ رشید کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے بکتر بند گاڑی کا استعمال کیا گیا، جیل پہنچنے پر شیخ رشید کا طبی معائنہ کیا گیا جس کے مطابق شیخ رشید کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ شیخ رشید بلڈ پریشر کے مریض ہیں اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ضروری ادویات کے ساتھ اڈیالہ جیل کی ہائی سیکورٹی بیرک میں بند کردیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد پولیس کی جانب سے شیخ رشید کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شیخ رشید کے 2 ٹیسٹ کروائےہیں، وائس میچنگ بھی ہوئی ہے اور ابھی فوٹوگرامیٹرک ٹیسٹ کروانا باقی ہے۔
دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرزاق نے کیس ڈسچارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ طلب کرنے کی مخالفت کی، جس پر عدالت نے پراسیکیوٹر کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ بھجنے کا حکم دیا۔
پراسیکیوٹر نے شیخ رشید کے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔
دوران سماعت تھانہ موچکو کراچی میں درج مقدمے کے تفتیشی اور انسپکٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولی کلینک میں شیخ رشید نے جو گفتگو کی تھی اس پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ شیخ رشید کو کراچی منتقل کرنا ہے۔
شیخ رشید کے وکیل نے راہداری ریمانڈ کے مطالبے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی جائے۔ضمانتی مچلکے متعلقہ عدالت میں بھیج دیے جائیں گے۔ شیخ رشید کے وکیل نے راہداری ریمانڈ کی مخالفت کی۔
بعد ازاں عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد راہداری ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر پیر کے لیے نوٹس جاری کردیا۔ درخواست ضمانت پر سماعت پرسوں ہوگی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نے شیخ رشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے سے متعلق 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ عدالت میں پراسیکیوشن اور شیخ رشید کے وکلاء کی جانب سے تین درخواستیں دائر کی گئیں، پولیس کی جانب سے شیخ رشید کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، شیخ رشید کے وکلاءکی جانب سےملزم کی جان کی حفاظت اور مقدمہ خارج کرنے کےلئے احکامات جاری کرنے کی درخواست دائر کی گئی جبکہ پولیس نے بتایا کہ شیخ رشید کا وائس میچنگ ٹیسٹ ہوگیا ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ پولیس نے شیخ رشید کا فوٹوگرامیڑک ٹیسٹ کروانے کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، شیخ رشید نےکہاکہ رات تین بجے سے صبح تک انہیں رسیوں سے کرسی سے باندھے رکھا، شیخ رشید کے مطابق ان کے ہاتھوں اور پیروں سے خون رس رہا تھا، ضرورت پڑنے پر شیخ رشید کو میڈیکل ٹریٹمنٹ کے لیے اسپتال لےکر جایا جائے، پولیس کے مطابق وقت کی کمی کے باعث شیخ رشید کو فوٹوگرامیڑک ٹیسٹ کے لیے لاہور نہیں لےکرجاسکے۔
فیصلے کے مطابق پولیس نےشیخ رشیدکو دوپہر 2:40 پر عدالت کے روبرو پیش کیا، پولیس کے پاس شیخ رشید کا فوٹوگرامیڑک ٹیسٹ کروانے کے لیے کافی وقت میسر تھا، پولیس کے مطابق شیخ رشید سے سازش کے بیان پر تفتیش کرنی ضروری ہے، پولیس کے پاس شیخ رشید کے بیان پر تفتیش کرنے کے لیے کافی وقت میسر تھا، پولیس کے پاس شیخ رشید کے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے ٹھوس وجوہات نہیں تاہم شیخ رشید کے مطابق انہیں بلاول، آصف زرداری، شہبازشریف، راناثناللہ اور نوازشریف سے جان کا خطرہ ہے، شیخ رشید نے استدعا کی انہیں سندھ اور پنجاب کے ائی جی اور ہوم سیکرٹری جی جانب سے سیکورٹی فراہم کی جائے۔
تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں شیخ رشید کی سیکیورٹی کی زمہ داری جیل پولیس کی ہے، پہلی پیشی کے دوران عدالت شیخ رشید کو مقدمے سے خارج کرنے کی استدعا سے متفق نہیں ہوئی تھی، شیخ رشید کی جانب سے کیس سے خارج کرنے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

پاکستان کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ایک اور منصوبہ ناکام

123-145.jpg

پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے منشیات اوراسلحہ اسمگل کرکے الزام پاکستان اورآزاد کشمیر کے شہریوں پرلگانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

رپورٹس کے مطابق اپنے ہی عوام کو چونا لگانے میں پیش پیش بھارتی فوج سینئر افسران کو دھوکہ دینے لگی۔
جھوٹ، جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل ہندوستانی فوج کی پہچان بن چکے ہیں۔ عصمت دری، بے گناہ شہریوں کو قتل، خودکشیوں اور گلوان سے پسپائی نے ہندوستانی فوج کو اوچھے ہتھکنڈوں کے استعمال پر مجبور کر دیا۔
بھارتی فوج، را اور جموں کشمیر پولیس کے درمیان مودی سرکار کے سامنے نمبر بنانے کا سخت مقابلہ جاری ہے۔
انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج مودی سرکار کی خوشامد کے چکر میں اپنے ہی ہتھیار اسمگل کر کے آزادی پسندوں کے سر منڈھنے لگی۔ بھارتی فوجی افسروں نے اپنا کیرئیر بنانے کے چکر میں خطے کا امن داؤ پر لگا دیا۔
فوجی افسران پروموشن، تمغوں اور رپورٹ کے چکروں میں کشمیریوں کے خون سے کھیلنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔
منصوبے کے مطابق مجبور کشمیریوں کو پیسے کا لالچ دے کر اسمگلنگ پر آمادہ کیا جاتا، موقع ملنے پر بے خبر اسمگلرکو جعلی آپریشن میں مار دیا جاتا ہے، بعد ازاں اسے آپریشن کارنگ دے کر ذاتی تشہیر کی جاتی اور الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر اسمگل کیا جاتا ہے۔ کامیابی کی صورت میں ایک بڑی کھیپ (50 رائفل، 30 پستول، 20 دستی بم، 50 کلوگرام منشیات) کا آزاد کشمیر سے اسمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا۔
اسمگلنگ کے دوران جعلی اسمگلرز کو بھارتی فوج کے ہاتھوں مروا دیا جاتا اور اسے آپریشن کا رنگ دے کر پاکستان پر در اندازی اور دہشتگردی کا الزام لگایا جاتا۔ آپریشن میں ملوث افسران کو انعام کے طور پر ہتھیار اور آؤٹ اسٹینڈنگ رپورٹ سے نوازا جاتا ہے۔ سی آئی ڈی کشمیر کا جموں و کشمیر پولیس کے سر براہ کو مراسلہ منظر عام پر آگیا۔
مراسلے میں سی آئی ٹی کشمیر کا سربراہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ کو منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے اسے نظر انداز کرنے کی ہدایات دے رہا ہے۔
مراسلے میں 3 راجپوت کے حاجی پیر سیکٹر، 12 جاٹ کے اڑی سیکٹر اور لیفٹیننٹ کرنل اکشنت کا ضلع کپواڑہ میں جعلی آپریشن کا ذکر ہے۔ ایک اورمراسلے میں CID ‘K’فورس کا اہلکار کمانڈنگ آفیسر کے غیر آمادہ رویے کو مبینہ طور پر SPبارہ مولا اور 12 جاٹ رجمنٹ کے درمیان ہونے والے آپریشن کی ناکامی کی وجہ بتا رہا ہے۔
مراسلے میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ کمانڈنگ آفیسر کے چھٹی پر جانے کی صورت میں سیکنڈ ان کمانڈ اس جعلی آپریشن پر رضا مند ہے۔ بھارت تحریکِ آذادی کے کشمیر کو دبانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے پہلے بھی یہ حربے آزما چکا ہے۔
26 فروری 2019 کو بی جے پی کی انتخابات میں جیت یقینی بنانے کیلئے جعلی سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچایا گیا۔
16 جنوری 2021 کو The Wire کی رپورٹ میں ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ حملے میں مودی سرکار خود ملوث تھی۔ 18 جولائی 2020 کو بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کر ڈالا، شور مچنے پر نام نہاد انصاف کا پرچار کیا۔ لیکن جنوری 2021 میں اسی واقعے میں ملوث بریگیڈیر کٹوچ کو ’یدھ سیوا میڈل‘ سے نوازا گیا۔
3 فروری 2022 کو بھارتی فوج نے شبیر احمد کو چند گیر، بانڈی پورہ سے اسلحہ سمیت گرفتار کیا جبکہ کشمیر سی آئی ڈی کے مطابق شبیر احمد 19 جنوری سے زیرِ حراست تھا۔ 2010 میں مچھل میں تین نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر ڈالا۔ 14 مارچ 2022 کو جعلی مقابلے میں ابرار نامی شخص کو اسلحہ سمیت زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ 28 نومبر 2022 کو بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے گاؤں پنج ترن میں ایک گھر کے نزدیک اسلحہ چھپایا، جسے مکان مکین نے فون میں ریکارڈ کر لیا۔
30 نومبر کو بھارتی فوج نے چھاپہ مار کر وہی ہتھیار برآمد کرلیے اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔ ہندوستانی فوج کے افسران، سینئر افسران کی چاپلوسی کے لئے منشیات اور اسلحہ اسمگل کر رہے ہیں۔ کشمیر میں 1279 دن کے غیر قانونی محاصرے کے باوجود بہادر کشمیری آج بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی سے توجہ ہٹانے اور 2023 میں 9 ریاستوں کے انتخابات جیتنے کے لئے ہندوستانی فوج ان ہتھکنڈوں کا استعمال کر رہی ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ پاکستان مخالف موقف پر ہندوستانی انتخابات جیتتا ہے۔ عالمی میڈیا کئی بار ان جعلی مقابلوں پر آواز اٹھا چکا ہے۔ 2010 اور 2015 میں بی سی سی نے کشمیر میں ہونے والے جعلی مقابلوں پر سوال اٹھایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 25 مارچ 2020 کو کابل میں سِکھ گُردوارے پر حملے میں بھی بھارتی دہشتگرد ملوث تھے اور بھارتی قوانین ایسے جرائم میں ملوث فوجیوں کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کو بے نقاب کیا تھا جس میں داعش اور بھارتی روابط کو دُنیا کے سامنے لایا گیا تھا اور اس گٹھ جوڑ کو عالمی اور علاقائی خطرہ قرار دیا گیا۔

Top