پیٹرول مزید 30 روپے لیٹر مہنگا ہونے کا امکان

123-135.jpg

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول مزید 30 روپے مہنگا کرنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے پر غور کررہی ہے جس کے بعد پیٹرول مزید 30 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان تکنیکی مذاکرات ختم ہوگئے، مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے بجلی، گیس کا ٹیرف بڑھانے، پیٹرولیم پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کیا جبکہ خسارے کا شکار سرکاری اداروں کی نجکاری پر زور دیا ہے۔

جنوری 2023، سیمنٹ کی فروخت میں 1.15 فیصد اضافہ

123-134.jpg

کراچی: آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق جنوری 2023 میں سیمنٹ کی فروخت میں 1.15فیصد اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2023 میں سیمنٹ کی مقامی فروخت 3.587 ملین ٹن رہی جبکہ جنوری 2022 میںسیمنٹ کی مقامی فروخت 3.409 ملین ٹن رہی تھی اس طرح مقامی فروخت 5.24 فیصد زائد رہی۔
جنوری 2023 میں سیمنٹ کی ایکسپورٹ 4 لاکھ 18ہزار 67 ٹن رہی جو جنوری 2022 کی 5 لاکھ 51 ہزار ٹن ایکسپورٹ سے 24.13 فیصد کم رہی۔
جنوری 2023 میں شمالی علاقوں کی سیمنٹ فیکٹریوں سے سیمنٹ کی فروخت 6.08 فیصد اضافہ سے 2.892 ملین ٹن رہی جبکہ جنوری 2022 کے دوران شمالی علاقوں کی سیمنٹ فیکٹریوں سے 2.726 ملین ٹن سیمنٹ فروخت کی گئی تھی۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

123-133.jpg

راچی: بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی سونے کے نرخ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46ڈالر کی کمی سے 1865 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 4000 روپے اور 3429روپے کی بڑی کمی واقع ہوئی۔
حالیہ کمی کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر دو لاکھ چالیس ہزار 500 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت گھٹ کر ایک لاکھ 75 ہزار 326 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 100 روپے گھٹ کر 2250روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت 85.74روپے گھٹ کر 1929 روپے کی سطح پر آگئی۔

ڈالر کی لمبی چھلانگ، انٹربینک میں 276 اور اوپن مارکیٹ میں 283 روپے کی تاریخی سطح پر

123-101.jpg

کراچی: ڈالر کی بلند پرواز کا تسلسل برقرار ہے آج انٹربینک میں ڈالر کی قدر 276 روپے 57 پیسے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے، آج انٹربینک میں ڈالر کی قدر ایک دم 5 روپے 65 پیسے کے اضافے سے 277 روپے کی بلند ترین سطح پر آگئی تھی تاہم مارکیٹ بند ہونے تک یہ اضافہ پانچ روپے 22 پیسے ہوگیا جس کے بعد آج ڈالر کی نئی انٹربینک قیمت 276.57 روپےکی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف حکام ماضی میں کیے گئے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے سے خائف ہیں اور انہی عوامل کے سبب آئی ایم ایف حکام نے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ نئی شرط بھی عائد کردی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قرض پروگرام سے متعلق ہم آہنگی کی بھی ضمانت دی جائے لیکن پاکستان میں جاری کشیدہ سیاسی ماحول کے تناظر میں تجارت وصنعتی شعبے اس حوالے سے غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہوگئے ہیں اور زرمبادلہ کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے جس سے ڈالر کی اڑان دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹرز فارورڈ پر بھی کیش کرارہے ہیں جس سے مارکیٹ میں سپلائی بڑھ گئی ہے۔ بینکنگ سیکٹر میں اوورسیز ورکرز کا لیگل ریمی ٹینسز انفلو بڑھ گیا ہے۔
بینکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بینکوں کی ترسیلات زر کی گذشتہ چند روز میں یومیہ ترسیلات زر کی آمد 10 سے 12ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح ایکسپورٹرز نے بھی بیرونی ممالک سے اپنی برآمدی آمدنی کی 4 سے 5 ملین کے چھوٹے چنکس منگوا کر کیش کرانا شروع کردئیے ہیں جس سے ڈالر کی سپلائی قدرے بہتر ہوگئی ہے تاہم مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر کاروباری دورانیے میں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

روپے کی قدر میں کمی سے آئل سیکٹر کا کاروبار خطرے سے دوچار، ریفائنریز بھی متاثر

123-100.jpg

کراچی: زرمبادلہ کے بحران اور روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے سرمائے کی قلت کا سامنا ہے جس سے آئل سیکٹر کا کاروبار خطرے میں پڑگیا اور ریفائنریز بھی متاثر ہونے لگیں۔

اس حوالے سے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ہنگامی مراسلے کے ذریعے وزارت توانائی اور اوگرا سے مدد مانگ لی۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کی ٹریڈ فنانس کی حد میں اضافہ کیا جائے بصورت دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل جاری رکھنا دشوار ہوگا۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وزارت توانائی اور چیئرمین اوگرا کے نام ایک ہنگامی مراسلہ میں آئل انڈسٹری کو درپیش سنگین بحرانی کیفیت سے آگاہ کرتے ہوئے فوری طور پر اجلاس بلانے اور سرمائے کی شدید قلت کا شکار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کی ٹریڈن فنانس کی حد بڑھانے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ روپے کی قدر میں یک دم بڑی گراوٹ نے انڈسٹری کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جس کے لیٹر آف کریڈٹ ابھی موجودہ شرح مبادلہ کے لحاظ سے سیٹل ہونے ہیں جبکہ درآمد کی گئی مصنوعات فروخت کی جاچکی ہیں۔
اس نقصان سے نہ صرف پہلے سے دباؤ کا شکار آئل انڈسٹری کے منافع پر اثر پڑے گا بلکہ سیکٹر کی بقاء بھی خطرے میں پڑ جائے گی کیونکہ کچھ کیسز میں نقصان کا حجم پورے سال کے منافع سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ او سی اے سی نے حکام سے اپیل کی ہے کہ آئل انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئل انڈسٹری کو 60روز کی مد میں ایل سی پر شرح مبادلہ کے فرق کے نقصان کی تلافی کے مکینزم کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے یکم اپریل 2020کو منظوری دی گئی تاہم یہ تلافی پی ایس او کو بینچ مارک بناکر دی جاتی ہے او سی اے سی کے اراکین پی ایس او کے امپورٹ کے حجم کے مقابلے میں اپنے پورے نقصانات ریکور نہیں کرسکتے اس لیے ضروری ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر شرح مبادلہ کے فرق کے نقصانات کی تلافی کے اس مکینزم کو تبدیل کیا جائے اور نجی مارکیٹنگ کمپنیوں کے مکمل نقصانات کی تلافی کی جائے تاکہ انڈسٹری کو جاری رکھتے ہوئے خوردہ سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں اوگرا شرح مبادلہ کے فرق کو مکمل طور پر منتقل کرنے سے اجتناب کرتی ہے اور اس فرق کا بوجھ آئل سیکٹر پر ڈالا جاتا ہے۔ آئل سیکٹر پہلے ہی شرح مبادلہ کے دھچکے کو برداشت نہ کرسکا ہے اور اب ایک اور بڑے دھچکے کا سامنا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اوگرا شرح مبادلہ کے فرق کو قیمتوں میں ایک وقت میں مکمل منتقل کرے۔
اوسی اے سی نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے آئل انڈسٹری کے لیے بینکنگ سیکٹر سے حاصل ٹریڈ فنانس کی حد ناکافی ہوچکی ہے۔ روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی لہر سے ایل سی کی مالیت کی حد میں یک دم 15 سے 20 فیصد تک کمی آچکی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدات کے تسلسل کو جاری رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ ایل سی کے لیے ٹریڈ فنانس کی حد میں عالمی مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کے مطابق بڑھا جائے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہر کمپنی کی ضروریات اور سرمائے کی قلت کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ٹریڈ فنانس کی حد پر فوری نظر ثانی کرے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر او سی اے سی کی مجوزہ تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو ملک کی آئل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔

عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت میں حیرت انگیز کمی

123-99.jpg

لاہور: عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت میں حیرت انگیز کمی کر دی گئی ہے۔

چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ قیمت 132 ڈالر فی میٹرک کم ہوگئی، اب اگر حکومت اقدامات کرے تو پاکستان میں قیمت 48 روپے فی کلو تک کم ہو سکتی ہے۔
عرفان کھوکھر نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کرے، ایل پی جی غریب کا فیول ہے لہٰذا حکومت سے فوری اقدامات کی درخواست ہے

روپے کی مسلسل بے قدری سے ٹیلی کام سیکٹر بھی متاثر

123-98.jpg

کراچی: معاشی بحران، روپے کی قدر میں بھاری کمی اور بے یقینی نے ٹیلی کام سیکٹر کو بھی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

ٹیلی کام لائسنس فیس کو ڈالر سے منسلک کرنے کے منفی نتائج سامنے آرہے ہیں، اس صورتحال کی نشاندہی ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام اور ڈیجیٹل کمپنی ’’جاز‘‘ کے سی ای او عامر حفیظ ابراہیم نے اپنے ایک ٹویٹ میں کی ہے۔
سی ای او ’’جاز‘‘ کے مطابق گزشتہ سال لائسنس کی تجدید کی 50 فیصد ادائیگی کی مد میں 44.5 ارب روپے ادا کیے، رواں سال 10 فیصد قسط کی مد میں 13 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ روپے کی قدر میں عدم استحکام اور بے یقینی نے آئندہ سال قسط کی مالیت کا تعین مشکل بنا دیا۔
روپے کی قدر کے بارے میں بے یقینی نے ٹیلی کام کمپنیوں کے بزنس پلان درہم برہم کر دیے ہیں۔ ٹیلی کام لائسنس فیس کو ڈالر سے منسلک کرنے کی وجہ سے پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کا سفر رک جانے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں خدمات فراہم کرنے والی ایک ٹیلی کام کمپنی نے اپنا کاروبار سمیٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور متحدہ عرب امارات کا گروپ اس کمپنی کے پاکستان میں کاروبار کو خریدنے میں دلچسپی لے رہا ہے۔

گندم کی یکساں امدادی قیمت پر پاسکو، پنجاب اور سندھ میں ڈیڈلاک برقرار

123-97.jpg

لاہور: گندم کی یکساں امدادی قیمت کے تعین پر وفاقی محکمہ پاسکو، محکمہ خوراک پنجاب اور سندھ میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، پاسکو اور پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ نے سندھ کی اعلان کردہ 4 ہزار روپے امدادی قیمت پر تحفظات کا تحریری اظہار کر دیا ہے۔

پاسکو نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ 4 ہزار قیمت برقرار رہی تو سندھ سے ایک دانہ بھی نہیں خرید سکیں گے جبکہ محکمہ خوراک پنجاب نے واضح کیا ہے کہ امدادی قیمت میں فرق سے سرکاری خریداری کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔
سندھ اور پنجاب کی امدادی قیمت میں ایک ہزار روپے کا فرق اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو بڑھائے گا، سرکاری ہدف کی تکمیل کیلیے کسانوں سے زبردستی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ بڑی ذخیرہ اندوزی ہوئی تو گندم امپورٹ پر کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا۔
لہٰذا وفاقی وزارت نیشل فوڈ سیکیورٹی یکساں امدادی قیمت کے ساتھ صوبوں کے گندم خریداری اہداف مقرر کرے اور پنجاب کیلیے سرکاری ہدف پہلے سے موجود گردشی قرضے کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا جائے۔
محکمہ خوراک پنجاب نے یہ بھی کہا ہے کہ سندھ میں گندم ریلیز قیمت 3400 اور پنجاب میں 2300 ہونے سے اسمگلنگ بڑھ رہی ہے، سرکاری گندم آٹا کی قیمتوں کو تمام صوبوں میں یکساں مقرر کیا جائے۔

روس نے ہمیں دیگر ممالک سے زیادہ سستا تیل دینے کا کہا ہے، وزیر پیٹرولیم

123-96.jpg

اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ امید ہے اپریل تک روس سے تیل کی فراہمی شروع ہوجائے گی، روس نے ہمیں دیگر مقابلے سے بھی زیادہ سستا تیل دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے وزیر مملکت پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ روس کے ساتھ سستے تیل کی خریداری کے لیے مذاکرات 45 دنوں میں مکمل کیے، مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پاچکا ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام کمرشل تفصیلات مارچ سے پہلے طے پا جائیں گی، روس نے پاکستان کو دوسروں ملکوں سے بھی زیادہ سستا تیل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، امید ہے کہ اپریل تک روسی تیل ملنا شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی پابندیوں کے باعث ایران سے براہ راست تیل اور گیس نہیں خرید سکتے، ایران ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کو فروغ دیں گے۔

ملکی برآمدات میں 7.16 فیصد کمی

123-60.jpg

اسلام آباد: رواں مالی سال 2022-23 کے پہلے سات ماہ میں ملکی برآمدات میں 7.16 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ تجارتی خسارہ 32 فیصد کی ریکارڈ کمی کے ساتھ 19 ارب 63 کروڑ ڈالرز پر آگیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری 2022-23) کے دوران برآمدات 7.16 فیصد کمی کے ساتھ 16 ارب 46 کروڑ ڈالرز رہیں۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر کی نسبت جنوری میں ملکی برآمدات 4.31 فیصد کمی سے دو ارب 21 کروڑ ڈالرز رہی ہیں۔ جنوری 2022 کے مقابلے گزشتہ ماہ برآمدات میں 15.42 فیصد کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران درآمدات کا حجم 22.53 فیصد کمی سے 36 ارب 10 کروڑ ڈالرز رہا ہے، اس لحاظ سے پہلے سات ماہ میں تجارتی خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔
جولائی تا جنوری تجارتی خسارہ 19 ارب 63 کروڑ ڈالرز پر آگیا ہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں تجارتی خسارے کا حجم 28 ارب 85 کروڑ ڈالرز تھا۔

Top