برطانیہ میں ماؤں سے بچوں میں ہیپاٹائٹس کی منتقلی کے خاتمے میں اہم پیش رفت

123-127.jpg

ندن: عالمی ادارہ صحت (ڈبیلو ایچ او) کے مطابق برطانیہ میں ماؤں سے بچوں میں ہیپاٹائٹس بی کی منتقلی کا خاتمہ کردیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے متعین کردہ ہدف ماؤں سے نومولود کو منتقل ہونے والے ہیپاٹائٹس بی کی شرح کو دو فی صد سے کم کرنا ہے، برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں یہ شرح 0.1 فی صد ہوچکی ہے۔
برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت وائرل انفیکشن سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ یہ وائرل انفیکشن جگر کے خراب ہونے، کینسر اور اگر علاج نہ کرایا جائے تو موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) میں آٹھ، 12 اور 16 ہفتے کی عمر کے بچوں کو ’سِکس ان ون‘ ویکسین لگائی جاتی ہے۔
ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا تھا کہ ویکسین کے لگائے جانے کی شرح بلند رہی لیکن ہیپاٹائٹس بی کا زیادہ خطرہ رکھنے والے بڑی عمر کے افراد کو یہ ویکسین لگوانا ضروری ہے۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں 2 لاکھ 6 ہزار افراد دائمی ہیپاٹائٹس بی انفیکشن کے ساتھ زندہ ہیں۔زیادہ تر کیسز ان مہاجرین میں سامنے آئے ہیں جنہیں برطانیہ آنے سے قبل دوسرے کسی ملک میں یہ انفیکشن ہوا۔

آواز دہرے طریقے سے سرطان کا علاج کرسکتی ہے

123-126.jpg

مشی گن: سرطان کے مریض چوہوں میں آواز کی لہروں سے حیرت انگیز علاج کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ اہم کام جامعہ مشی گن میں کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ عمل ’ہسٹوٹرپسی‘ کہلاتا ہے جو دو طرح سے کینسر پر حملہ کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ جسم میں چھپے رہنے والے سرطانی خلیات سے ایک طرح کا خلوی دیوار کا نقاب اتارتا ہے جس کے بعد کینسر کے خلیات ظاہر ہوجاتے ہیں اور علاج میں آسانی ہوجاتی ہے۔ دوم، یہ عمل جسم کے اندرونی دفاعی (امنیاتی) نظام کو بڑھاتا ہے اور اس سے ریڈیو یا کیموتھراپی کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔
اگرچہ ہسٹوٹرپسی کوئی نئی ٹیکنالوجی نہیں تاہم ماہرین نے اس کے امنیاتی نظام پر اثرات پر اب گہری تحقیق کی ہے۔ اس میں چوہے کے جگر میں سرطانی رسولیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر آواز کی لہروں سے سرطانی پھوڑے اور خلیات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ 80 فیصد چوہے کینسر سے پاک ہوگئے اور امنیاتی نظام مضبوط ہونے سے ان میں سرطان کا دوبارہ حملہ نہیں ہوا۔
یہ تحقیق’فرنٹیئرز اِن امیونولوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔ ہسٹوٹرپسی میں آواز کی لہریں سرطانوی خلیات کی دیواروں کو توڑ دیتی ہیں اور اندر موجود سرطان کی وجہ بننے والا اینٹی جِن باہر آجاتا ہے جو جسم کو سرطان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ عمل کیمواور ریڈیوتھراپی میں نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ ایک چوہے کے اینٹی جن کو انجیکشن میں بھر کر دوسرے چوہے کو لگایا گیا تو اس میں بھی سرطان کے خلاف امنیاتی قوت پیدا ہوگئی اور گویا اس نے کینسر ویکسین کے طور پر کام کیا۔
یہ اہم کام پروفیسر زین شو نے کیا ہے جو گزشتہ 22 برس سے ہسٹوٹرپسی پر تحقیق کررہے ہیں۔ تاہم اس کے دیگر پہلوؤں پر تحقیق ابھی باقی ہے۔

سویا بین کولیسٹرول کو 70 فی صد تک کم کرسکتا ہے، تحقیق

123-83.jpg

لینوائے: ’خاموش قاتل‘ کے طور پر جانے جانی والی کیفیت بلند کولیسٹرول ہمارے لیے امراضِ قلب اور فالج کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔ ان نقصانات سے بچاؤ کے پیشِ نظر جسم میں کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے اسٹیٹنس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ، ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں سویا بین بھی کافی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

چاہے کافی میں سویا دودھ کا شامل کیا جانا ہو یا گوشت کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جانا، سویا بینز نے پودوں پر مبنی غذا کے طور پر اپنی اہم جگہ بنائی ہے۔ متعدد وٹامنز اور منرلز سے بھرپور سویا میں فالج اور دیگر قلبی مسائل کے کم خطرات ہوتے ہیں۔
جرنل اینٹی آکسیڈنٹس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بی-کونگلائسِینِن پروٹین سے بھرپور سویا کے آٹے کا استعمال مضر کولیسٹرول کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیق میں محققین کی ٹیم کو معلوم ہوا ہے کہ سویا کے استعمال سے کولیسٹرول اور دیگر چکنائی کی سطحیں 70 فی صد تک کم ہوجاتی ہیں۔
مزید یہ کہ سویا جگر پر جمع ہونے والی چکنائی جیسی دیگر میٹابولک بیماریوں اور ایتھروسکلیروسِس(جس میں خون کی شریانوں میں چکنائی جمع ہوجاتی ہے) کے خطرات بھی کم کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف الینوائے اربانا کی پروفیسر اور تحقیق کی مصنفہ الویرا ڈی میجیا نے بتایا کہ سویا بین کے کولیسٹرول میٹابولزم پر اثرات کا تعلق صرف پروٹین کی مقدار سے نہیں بلکہ اس میں موجود پیپٹائڈز سے بھی ہے جو دورانِ ہاضمہ خارج ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہضم شدہ سویا بینز کے پیپٹائڈز 50 سے 70 فی صد تک چکنائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ بہت اہم چیز ہے۔

کالا موتیا کی کیفیت جانچنے اور علاج کرنے والے کانٹیکٹ لینس

123-82.jpg

جنوبی کوریا: گلوکوما یا سبزموتیا ایک ایسی کیفیت ہے جس میں مستقل اندھے پن کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ماہرین نے ایک جدید کانٹیکٹ لینس بنایا ہے جو نہ صرف اس مرض کی گھٹتی بڑھتی کیفیت کو نوٹ کرتا ہے اور وقفے وقفے سے دوا بھی خارج کرتا رہتا ہے۔

گلوکوما میں آنکھوں سے پانی کے اخراج کے راستے بند ہوجاتے ہیں اور یوں آنکھ کے اندر مائع بڑھنا شروع ہوجاتا ہے جس سے اندرونی دباؤ بڑھتا ہے۔ اب یہ پریشر بڑھ کر آنکھ کی حساس رگوں کو دباتا ہے اور یوں دھیرے دھیرے بینائی زائل ہوتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنکھ کے اندر بڑھتے ہوئے پریشر (انٹراوکیولرپریشر یا آئی اوپی) کو نوٹ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
خوش قسمتی سے اس دباؤ کو کم کرنے والے قطرے دستیاب ہیں۔ لیکن اس کی مقدار آئی اوپی بڑھنے سے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ آنکھ کا اندرونی دباؤ ضرور معلوم کیا جائے۔ اسی لیے یہ لینس بنائے گئے ہیں۔
ماہرین نے اس لینس میں یہ صلاحیت پیدا کی ہے کہ وہ پریشر کو دیکھ کر ازخود دوا کی کم یا زیادہ مقدار خارج کرتا رہتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لینس آنکھ میں نصب ہونے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔
پہلے مرحلے پر اسے خرگوشوں پر لگایا گیا ہے اور اس کےبہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی پوہانگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر سائے کوانگ ہان اور ڈاکٹر ٹائے یون کِم نے یہ لینس بنایا ہے۔ یہی ٹیم اس سے پہلے زیابیطس سے بینائی کے خطرے کو ٹالنے والے کارآمد لینس بناچکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس لینس میں غیرمعمولی صلاحیت موجود ہے جو دھیرے دھیرے دوا خارج کرتی رہتی ہے۔

ہفتے میں ایک سے تین انڈے کھانا قلبی مرض کے خطرات کم کرتا ہے، تحقیق

123-44.jpg

ایتھنز: ایک نئی تحقیق کے مطابق ہفتے میں ایک سے تین انڈے کھانا قلبی مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات کو 60 فی صد تک کم کردیتا ہے۔

قلبی مرض ہر اس صورت کو کہا جاتا ہے جو دل یا خون کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے جس میں فالج اور کورونری ہارٹ ڈیزیز (جب شریانیں آکسیجن کی مناسب مقدارکے حامل خون کو دل تک نہیں پہنچاتی) شامل ہیں۔ لیکن صحت کے دیگر مسائل کی طرح قلبی امراض کے خطرات کو بھی صحت مند طرزِ زندگی سے کم کیا جاسکتا ہے۔
جرنل نیوٹریئنٹس میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں ایک سے تین انڈے کھانا قلبی امراض سے بچا سکتا ہے۔
3000 افراد سے زائد افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ وہ افراد جو اس مقدار میں انڈے کھاتے تھے ان کے قلبی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات 60 فی صد کم تھے۔
مطالعے میں یونان سے تعلق رکھنے والے 3042 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔ سروے میں ان افراد نے بتایا کہ وہ ہفتے میں کسی بھی صورت میں کتنے انڈے کھاتے ہیں۔
ایک دہائی تک جاری رہنے والے مطالعے کے دوران 317 افراد قلبی امراض میں مبتلا ہوئے۔ وہ افراد جنہوں نے ہفتے میں ایک سے کم انڈا کھایا ان کے قلبی مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات 18 فی صد تھے۔
جبکہ وہ افراد جنہوں نے ہفتے کے دوران میں ایک سے چار انڈے کھائے تھے ان کے قلبی مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات نو فی صد تھے اور جنہوں نے ہفتے میں چار سے سات انڈے کھائےان میں یہ شرح آٹھ فی صد تھی۔

دباؤ والے دستانے جو مردہ بچوں کی پیدائش کم کرسکتے ہیں

123-43.jpg

لندن: یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے ایک سرجیکل دستانہ بنایا ہے جو دباؤ محسوس کرسکتا ہے اور اس سے ماں کے پیٹ میں بچے کی حرکت اور پوزیشن معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس سے اسقاطِ حمل کا خطرہ کم ہوسکتا ہے اور مردہ بچوں کی تعداد میں کمی ہوسکتی ہے۔

تجرباتی طورپربنائے گئے دستانے سے رحمِ مادر میں بچے کی کیفیت اور پوزیشن معلوم کی جاسکتی ہے۔ وسائل والے ممالک میں یہ کام الٹراساؤنڈ سے لیا جاتا ہے تاہم غریب ممالک کے دوردرازعلاقوں میں کبھی بجلی نہیں ہوتی، کبھی مشینیں نہیں ہوتیں تو ماہرین بھی کم ہوتے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق یہی وجہ ہے کہ غریب ممالک میں مردہ بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے اور اس کی قیمت صرف ایک ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اس میں انگلیوں کے مقامات پر حساس سینسر چھاپے گئے ہیں۔ یہ سینسر میٹل آکسائیڈ نینوکمپوزٹ مادوں پر مشتمل ہیں۔ یہ اتنے حساس ہیں اور باریک ہیں کہ انہیں روایتی دستانوں کے اوپر بھی پہنا جاسکتا ہے۔
دستانہ پہن کرزچہ و بچہ کے ماہررحم میں ہاتھ پھیر کر بچے کے سر کی پوزیشن معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پھر دستانے کے سینسر بتاتے ہیں کہ کتنی قوت لگانے کی اجازت ہے اور کس قدر قوت بچے کو متاثر کرسکتی ہے۔ تاہم سینسر کمپیوٹر اسکرین پر اس پورے منظر کی ایک دھندلی سی تصویر بھی دکھاسکتےہیں اور اگلے مرحلے میں سینسر کا عکس اسمارٹ فون پر بھی دیکھا جاسکے گا۔
یہ دستانہ ڈاکٹر شیریں جعفر علی نے بنایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ دستانہ ہمیں بچے کے سر کی درست پوزیشن اور راستے سے آگاہ کرتا ہے جس بچے کی بحفاظت پیدائش میں مدد مل سکتی ہے۔
اسے سیلیکون سے بنے ہوئے ماں کے پیٹ کے ماڈل اور ان میں پھنسے بچوں پرآزمایا گیا ہے اور اس میں بہت کامیابی بھی ملی ہے۔ اس اہم ایجاد کی رپورٹ فرنٹیئرز ان گلوبل وومن ہیلتھ میں شائع ہوئی ہے۔

بھارت نے ناک کی پھوار والی پہلی کووڈ ویکسین بنالی

123-2.jpg

نئی دہلی: کووڈ ویکسین کی دوڑ میں کئی ممالک شامل ہیں اور اب بھارت نے ناک میں قطرے ٹپکانے والی ویکسین بنائی ہے جو سانس کی نالیوں میں پہنچ کر اضافی (امنیاتی) تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اس سے قبل ستمبر 2022 میں چین نے بھی سانس کے ذریعے بدن میں پہنچانے والی ویکسین بنائی تھی جسے ایک اسپرے میں ڈھالا گیا تھا۔ اسے بنانے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ ناک کے اندرونی پرتوں اور سانس کی گزرگاہوں میں جذب ہوکر مزید تحفظ اور امنیاتی قوت فراہم کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کووڈ وائرس اسی جگہ سے زیادہ حملہ آور ہوتا ہے۔
نومبر2022 میں بھارتی ریگولیٹری اداروں نے اس نئی ویکسین کی منظوری دی ہے جسے انکوویک (iNCOVACC) کا نام دیا گیا ہے، جو حقیقت میں ایک بوسٹر ڈوز ہے۔ یہ ایسے افراد کو دی جائے گی جو بھارت میں رائج کووشیڈ اور کوویکسن کی دو دو خوراکیں لگواچکے ہیں۔ تاہم اسے ہنگامی حالت میں بھی دیا جاسکے گا۔
نجی ہسپتالوں کے لیے اس کی قیمت 800 بھارتی روپے اور سرکاری ہسپتالوں کے لیے 325 روپے ہے اور اسے آن لائن پلیٹ فارم سے خریدا جاسکتا ہے۔ اس کی دونوں خوراکیں 28 دن کے فاصلے سے لگائی جاسکتی ہے۔
انکوویک بوسٹر میں ایڈینووائرس شامل ہے جس میں جینیاتی کوڈ موجود ہے جو جسم کو انفکیشن سے لڑنا سکھاتا ہے۔

گاڑیوں کا دھواں صرف دو گھنٹے میں دماغی روابط تبدیل کرسکتا ہے

123-1.jpg

آسٹریلیا: گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں نہ صرف پورے بدن کے لیے نقصاندہ ہوتا ہے تاہم اب معلوم ہوا ہے کہ گاڑیوں کا دھواں صرف دو گھنٹے بعد ہی دماغ پر ایسے مضر اثرات مرتب کرتا ہے کہ اس سے دماغی روابط کمزور ہوجاتے ہیں۔

جامعہ برٹش کولمبیا اور جامعہ وکٹوریا،کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کسی کار کا دھواں دماغی عصبیوں (نیورون) کے باہمی روابط کو کمزور کردیتا ہے۔ اسے دماغی روابط یا برین کنیکٹووٹی کہا جاتا ہے۔
اس ضمن میں سائنسدانوں نے اٹکل (رینڈم) انداز میں 25 تندرست اور بالغ افراد کو شامل کیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو کاروں کے دھویں کے سامنے لایا گیا اور دوسرے کو صاف ہوا کے ماحول میں رکھا گیا اور انہیں نہیں بتایا گیا تھا کہ تحقیق کا مقصد کیا ہے۔
دھویں والے ماحول میں وقت گزارنے والے رضاکاروں کے دماغی اسکین لیے گئے اور ان کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ جن افراد کو دھویں کا سامنا تھا ان کے دماغ کے باہمی رابطے کمزور دیکھے گئے جنہیں ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک ( ڈی ایم این) کہا جاتا ہے۔ دماغ کے یہ مقامات اس وقت بہت سرگرم ہوتے ہیں جب ہم اپنی سوچوں میں گم ہوتے ہیں مثلاً اپنا جائزہ لینا، کچھ یاد کرنا وغیرہ۔
ماہرین یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ڈی ایم این کمزور ہونے سے کیا ہوتا ہے تاہم بعض تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس طرح عملی یادداشت میں کمی اور خود کام کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں شامل سائنسداں، جوڈی گوریالک کہتی ہیں کہ گاڑیوں کی آلودگی دماغ کو متاثرکرسکتی ہے۔
تاہم اچھی بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی عارضی ہے اور دماغ کے روابط دوبارہ مضبوط ہوجاتے ہیں لیکن ماہرین نے طویل عرصے تک اس ماحول میں رہنے والوں پر مزید تحقیق کا عندیہ دیا ہے۔ ان میں ٹریفک اہلکار اور سڑک کے کنارے کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کےنئے ویریئنٹ بی ایف سیون کی تصدیق

123.jpg

راچی: پاکستان میں کورونا وائرس کی اس تبدیل شدہ قسم واقعہ رونما ہوا ہے جو اس سے قبل چین میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کرچکا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسِس سےوابستہ ماہرین نے کراچی میں کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ (جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس) کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔
واضح رہے کہ اس کا نام بی ایف 7 رکھا گیا تھا جو پہلے ہی چین میں بڑے پیمانے پر متاثرکرچکا ہے اور اب بھی وہاں موجود ہے۔ ماہرین نے اس نئے ویریئنٹ کی جینیاتی سیکوئینسنگ کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح یہ پاکستان میں رونما یا پہنچنے والا بی ایف سیون کا پہلا کیس بھی ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر پروفیسر سعید خاں نے کہا ہے کہ ان کی جدید تجربہ گاہ میں نت نئے ویریئنٹ کی مسلسل سیکویئنسنگ کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام شہری کورونا سے وابستہ تمام حفاظتی اقدامات (ایس او پیز) کی پر عملدرآمد کرے۔
ڈاکٹر سعید خان نے کہا کہ اس نئے تبدیل شدہ وائرس کے پھیلاؤ پر غور کرنا ہے۔ شہری سماجی فاصلے، ماسک لگانے اور بوسٹرڈوز سے خود کو محفوظ بناسکتےہیں۔ شہری اگر اپنے اندر علامات محسوس کریں تو خود کو فوری طور پر قرنطینہ کریں

فوری طور پر خون روکنے والی پٹی

123-904.jpg

امریکی سائنس دانوں نے ایک ایسی پٹی بنائی ہے جو چوٹ لگنے کے بعد بہنے والے خون کو فوری طور پر روک سکتی ہے۔

امریکا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر عامر شیخی اور ان کے ساتھی سائنس دانوں کی جانب سے بنائی جانے والی اس پٹی کا نمونہ اپنے نئے مقالے میں پیش کیا گیا۔
پروفیسر عامر شیخی کے مطابق کثرت سے خون کا بہہ جانا انسانی صحت کے لیے ایک سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے۔ ایسی چوٹیں جس میں خون بہتا ہو، ان کے سبب ہونے والی اموات کی وجہ چوٹ کے بجائے اکثر خون کا زیادہ بہہ جانا ہوتی ہے۔ طبی میدان میں ایسے بائیو مٹیریل کے استعمال کی ضرورت ہے جو فوری طور پر چوٹ سے بہنے والے خون کو جما سکیں۔
عامر شیخی کی اس ہیمو اسٹیٹک (خون کو بہنے سے روکنے والا عمل) مائیکرو نِڈل ٹیکنالوجی کو فوری خون روکنے کے لیے روایتی چپکنے والی پٹیوں کی طرح لگایا جاسکتا ہے۔ پٹی پر موجود جراثیم سے پاک اور خون میں گھل جانے والی چھوٹی چھوٹی سوئیوں کا مجموعہ پٹی کی سطح کا خون سے رابطہ بڑھاتا ہے اور خون جمانے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ یہ سوئیاں جِلد سے جُڑ کر چپکنے کی خصوصیت بھی بڑھاتی ہیں تاکہ زخم کو بند کیا جا سکے۔
پروفیسر عامر شیخی کا کہنا تھا کہ شیشے کی تشتری میں کیے گئے تجربے میں ان سوئیوں نے خون جمنے کے وقت کو 11.5 منٹ سے کم کر کے 1.3 منٹ کر دیا اور چوہے کے خون بہتے جگر سے خون کا بہاؤ 90 فی صد تک کم کردیا۔ یہ 10 منٹ زندگی اور موت کے درمیان فرق ہوسکتے ہیں۔
مائیکرو نِڈل ایرے (ایم این اے) کا موازنہ ہائیڈرو جیل ٹیکنالوجی سے کیا جا سکتا ہے جس کا استعمال فی الحال اسپتالوں میں زخموں سے رستے خون کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن ہائیڈروجیل کے استعمال کے لیے تیاری اور طبی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
عامر شیخی کے مطابق پہلے سے تیار شدہ چھوٹی سوئیوں والی اس پٹی کو خون روکنے کے لیے کوئی بھی آسانی سےاستعمال کر سکتا ہے۔
اس پٹی کو بنانے کے بعد محققین اب اس کو مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں ساتھ ہی اس ٹیکنالوجی کو مزید آزمائشوں سے گزارنے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں۔

Top