پہلی مرتبہ انسانی امنیاتی نظام کا مکمل نقشہ تیار

01.png

کیمبرج(ویب ڈیسک)سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جدید ترین اسکریننگ ٹٰیکنالوجی کی بدولت انفرادی خلیات کے درمیان روابط اور جوڑ کو نوٹ کرتے ہوئے انسانی امنیاتی نظام کا اب تک مکمل ترین اور مربوط نقشہ تیار کیا ہے۔
اس طرح کینسر سمیت کئی امراض کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور توقع ہے کہ اگلی نسل کی ادویہ اور طریقہ ہائے علاج میں مدد ملے گی۔ لیکن واضح رہے کہ اس کی پشت پر ہماری وہ سمجھ بوجھ شامل ہے جس کے تحت ہم برسوں سے بدن کے امنیاتی خلیات پر غور کررہے ہیں جو اندرونی دفاعی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔
اس عمل میں ایک اہم ترین شے وہ رابطے ہیں جو امنیاتی خلیات کی سطح پر موجود پروٹین انجام دیتے ہیں اور ریسپٹرپروٹین سے جڑتے ہیں۔
اگرچہ ہم ریسپٹر سے جڑنے والے کئی خلیات سے تو واقف ہیں لیکن اب ویلکم سینگرانسٹٰی ٹیوٹ اور ای ٹی ایچ زیورخ کے سائنسدانوں نے بڑی محنت سے امنیاتی خلیات کا تفصیلی ڈائیگرام بنایا ہے اور اس پر عشروں سے کام جاری ہے۔ لیکن جدید ٹٰیکنالوجی سے اس میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک ٹیکنالوجی کو’ہائی تھروپٹ سرفیس ریسپٹر اسکریننگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی بدولت امنیاتی خلیات کے پروٹین کے ایک دوسرے سے راوبط کو ایک نقشے سے بیان کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق امنیاتی خلیات کے باہمی رابطوں کا یہ نقشہ اس نظام کو سمجھنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس سے نت نئے علاج اور تھراپی کی راہیں کھلیں گی۔
اس وائرنگ کو دکھانے والا ڈائیگرام میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آخرکسطرح خلیات ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور باہمی تفاعلات کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس طرح خود امنیاتی نظام کو بھی مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارا بدن کئی بیماریوں سے ازخود لڑنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے جسے امنیاتی نظام کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 20 برس سےماہرین مختلف طریقوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کررہے تھے جس میں اب نمایاں کامیابی ملی ہے۔ اس سے خود امنیاتی یعنی آٹوامیون بیماریوں کو بھی سمجھا جاسکے گا۔

دومنٹ کی چہل قدمی کے صحت پر حیران کن مثبت اثرات

1234-5.png

لِمریک(ویب ڈیسک) روزانہ چہل قدمی کے فوائد سے تو ہم میں سے اکثر افراد بخوبی واقف ہیں، توانائی کی سطح میں اضافے سے لے کر دل کے صحت مند ہونے تک، چہل قدمی ہماری صحت پر متعدد مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔
ماہرینِ صحت عرصہ دراز سے کھانے کے بعد چہل قدمی کے مفید ہونے کے متعلق بتاتے آئے ہیں۔ اب حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے بعد چہل قدمی بلڈ شوگر کے ایک دم اضافے کو قابو کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس کے سبب ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی پیچیدہ صورتحال سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ بڑی عمر کے افراد جن کو ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرات تھے، ان کے کھانے کے بعد 15 منٹ تک ٹریڈ مِل پر چلنے کے نتیجے میں بلڈ شوگر میں کم اضافہ ہوا۔
حقیقیت میں ان فوائد کو حاصل کرنے کے لیے صرف دو منٹ کا وقت ہی کافی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد دو سے پانچ منٹ کی چہل قدمی بلڈ شوگر کی سطح میں معقول کمی لاسکتی ہے۔
اسپورٹس میڈیسن جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے بتایا ہے کہ ساکت کھڑے رہنے سے بھی بلڈ شوگر میں کمی ہوتی ہے لیکن اس اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا چہل قدمی سے پڑتا ہے۔
محققین کو معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد کچھ منٹوں کی کم مشقت والی چہل قدمی غیر فعال رہنے کی بہ نسبت بلڈ شوگر کی سطح میں معقول بہتری لاتی ہے۔ یہ بہتری ان شرکاء میں زیادہ واضح تھی جنہوں نے چھوٹے دورانیے کی چہل قدمی کی تھی۔
مطالعہ کی گئی پانچ تحقیقوں میں شریک کوئی بھی فرد ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے سے پہلے وقت (جس کو پری ڈائیبیٹیز کہا جاتا ہے) یا ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا نہیں تھا۔ جبکہ دیگر دو میں بیماری میں مبتلا اور جو مبتلا نہیں تھے دونوں موجود تھے۔

دونوں بازوؤں سے بلڈ پریشر کی پیمائش نہ کرنا مہلک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین

1234-4.png

ایکسیٹر(ویب ڈیسک)سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فشار خون کی پیمائش ایک بازو کے بجائے دونوں بازوؤں سے کی جانی چاہیئے۔ ماہرین کو ڈر ہے کہ بلڈ پریشر کی پیمائش کا موجودہ طریقہ کار سے ہائپر ٹینشن کے لاکھوں کیسز سامنے آنے سے رہ سکتے ہیں۔
بلند فشار خون دل کے دورے اور فالج کا سبب ہوسکتا ہے۔ یہ دونوں طبی صورت حال دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہیں۔
50 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق میں فشار خون کی ایک بازو سے لی جانے والی پیمائش اور دونوں بازوؤں سے لی جانے والی پیمائش کے درمیان فرق کا تجزیہ کیا گیا۔ جب دونوں پیمائشیں لے لیں گئیں تو 12 فی صد مریض جن کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے دی گئی تھی ان کو بلند فشار خون کے مریض کے طور پر دوبارہ شمار کرلیا گیا۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کرسٹوفر کلارک کا کہنا تھا کہ بلند فشارخون ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے اتار چڑھاؤ پر توجہ نہ دینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں بازوؤں سے پیمائش کا نہ لیا جانا اور بلند پیمائش کو استعمال کیا جانا نہ صرف نامکمل تشخیص اور بلند فشار خون کے علاج کا سبب بنتا ہے بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو لاحق خطرے کا کم اندازہ سامنے لاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کس کے کس بازو سے بہتر پیمائش لی جاسکتی ہے یہ بتانا ناممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں بازوؤں کو چیک کرنا اہم ہے۔

آپ کے بال بھی ذہنی تناؤ کی خبر دے سکتے ہیں

1234-3.png

آئس لینڈ(ویب ڈیسک) دماغی تناؤ(اسٹریس) کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس کا اثر آپ کے بالوں پر بھی ہوسکتا ہے یا بالوں کو دیکھ کر دباؤ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اس ضمن میں میکسکو اور آئس لینڈ میں 18 سال سے زائد عمر کی 1200 سے زائد خواتین کے بالوں کا جائزہ لیا گیا اور ان سے ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کے سوال نامے بھی بھروائے گئے جن میں ذہنی تناؤ کے درجے (اسٹریس اسکیل) کا تعین بھی کیا گیا۔
معلوم ہوا کہ جو خواتین ڈپریشن اور تناؤ میں متبلا تھیں ان کے بالوں میں کارٹیسول کی اتنی ہی زیادہ مقدار پائی گئی۔ یعنی ذہنی تناؤ کا ایک بڑھتا ہوا درجہ بالوں میں کارٹیسول کی 1.4 فیصد زائد مقدار ظاہر کررہا تھا۔
کارٹیسول ایک ہارمون ہے جو گردوں کے اوپر موجود ایڈرینل غدود سے ذہنی تناؤ کی صورت میں خارج ہوتا ہے۔ پھر خون میں گھل کر بالوں کی جڑ تک جاپہنچتا ہے۔
سب سے پہلے یہ بالوں کی جڑ میں ایک جگہ میڈیولا تک جاتا ہے جہاں اس کی مقدار کو نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ہم ذہنی تناؤ کی صورت میں اس کی مقدار معلوم کرچکے تھے لیکن اب ماہرین نے اسے ایک قابلِ اعتبار بایومارکر کی صورت میں بیان کیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مسلسل ذہنی تناؤ کے شکار افراد کے بالوں میں کارٹیسول کی مقدار بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ ایک حیاتیاتی علامت بھی ہوتی ہے۔ کیونک بالوں میں کارٹیسول اور ڈپریشن کے درمیان ایک واضح فرق سامنے آچکا ہے۔
تحقیق میں زیادہ ترتعداد اسکول کی استانیوں کی تھیں جو مختلف شرح کی ذہنی تناؤ سے گزررہی تھیں۔
دوسری جانب ماہرین نے کہا ہے کہ ذہنی تناؤ کئی امراض، دیرینہ بیماریوں اور یہاں تک کہ قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بن سکتی ہے لیکن اس تحقیق سے ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ قدرے عمررسیدہ خواتین کے مقابلے میں نوجوان خواتین میں ذہنی تناؤ کا تناسب زیادہ تھا جو بالوں کے ہارمون میں بھی دکھائی دے رہا تھا۔

ملیریا کے خلاف نئی اینٹی باڈی تھراپی کے حوصلہ افزا نتائج برآمد

123-29.jpg

سان فرانسسكو(ویب ڈیسک) ملیریا اس وقت بھی عالمی سطح پر جانوں کا خراج وصول کرنے والی اہم ترین بیماری ہے۔ اس ضمن میں اینٹی باڈی تھراپی کی انسانی آزمائش شروع کی گئی تھی۔ اس طرح فیزون ہیومن ٹرائل کے بہت امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
شائع شدہ نتائج کے مطابق سائنسدانوں نے ملیریا سے بچانے والی اینٹی باڈی بنائی اور اسے ویکسین کی طرح رضا کاروں کو لگایا گیا ۔ اس کے بعد تمام تندرست افراد کو جان بوجھ کر ملیریا والے ماحول میں رکھا گیا جس کا مقصد انہیں ملیریا کا مریض بنانا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ایک بھی رضاکار ملیریا کے چنگل میں نہیں آسکا۔
بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے ’میڈیسن فور ملیریا وینچر‘ نامی تنظیم کے اشتراک سے یہ اینٹی باڈیز بنائی ہے جو ویکسین کی جگہ استعمال کرائی گئی۔ ایل نائن ایل ایس نامی مونوکلونل اینٹی باڈیز ایک ٹیکے سے رضاکاروں کو دی گئی۔ فیزون مرحلے میں کل 17 تندرست افراد بھرتی ہوئے۔ انہیں مختلف خوراکیں دی گئیں۔
ایل نائن ایل ایس نامی اینٹی باڈیز کے انجکشن کی بدولت ملیریا سے لڑنے والے پروٹین کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ لیکن ویکسین کے مقابلے میں اینٹی باڈیز کی افادیت کا وقت بہت کم ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے بدن میں اثرات ماند پڑجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ چند ہفتوں یا مہینوں تک ہی مؤثر رہتی ہیں۔
اینٹی باڈیز کے ٹیکے کے دو سے چھ ہفتے بعد تمام شرکا کو ملیریا والے مچھروں سے کٹوایا گیا اور 17 میں سے دو افراد بیمارے ہوئے۔ ان میں سے ایک شخص کی رگ میں انجکشن لگا کر کم ترین خوراک دی گئی تھی اور دوسرے کو جلد میں سوئی لگائی گئی تھی۔
یہ بہت حوصلہ افزا نتائج ہیں جو اگلی نسل کی ایل نائن ایل ایس مونوکلونل ایںٹی باڈیز کی افادیت ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے بالخصوص بچوں کو جان لیوا ملیریا سے بچایا جاسکے گا۔ انداز ہے کہ اگر پانچ سال سے کم عمر کے بچے کو اس کا ایک ٹیکہ لگایا جائے تو وہ اگلے چھ ماہ تک ملیریا سے بچاؤ حاصل کرسکے گا۔
اگرچہ ویکسین کے مقابلے میں ان کا دورانیہ کم ہے لیکن واضح رہے کہ گزشتہ برس ملیریا کی ایک ویکسین ’موسکیرکس‘ کے بارے میں بہت دعوے کiے گئے تھے لیکن ابتدائی آزمائش ناکام ثابت ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اینٹی باڈیز کم وقت کی افادیت کے باوجود ملیریا سے تحفظ فراہم کرسکتی ہیں۔

سانس اور پھیپھڑوں کی صحت بتانے والا لباس

1234-2.png

جرمنی(ویب ڈیسک)جرمن کے کئی سائنسی اداروں نے مشترکہ کوشش سے ایک ویسٹ کوٹ یا صدری بنائی ہے جو پہننے والے کی سانس اور پھیپھڑوں کی کیفیات نوٹ کرتی ہیں۔ اسے نیومو ویسٹ کا نام دیا گیا ہے جو بطورِ خاص کووڈ 19 کے مریضوں کے لئے وضع کی گئی ہے۔
جرمنی میں فرونیفر ریسرچ گروپ کے دس اداروں نے مشترکہ طور پر یہ پوشاک بنائی ہے جو سانس کے اتار چڑھاؤ کو کسی اسٹیتھواسکوپ کی طرح نوٹ کرتی ہے اور اس کی خبر متعلقہ ڈاکٹروں تک بھی پہنچاسکتی ہے۔
اگرچہ یہ پہننے میں تھوڑی تنگ ہیں لیکن اس کی پشت اور سامنے کی طرف کئی داب برق (پیزوالیکٹرک) سینسر لگے ہیں۔ یہ سینسر پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں سے آنے والی خفیف ترین آواز بھی سن سکتے ہیں۔ چونکہ سینسر کی پوزیشن عین سینے اور پھیپھڑوں کی درست جگہوں پر ہوتی ہے تو ماہرین فوراً معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے اور اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟
اس کا سافٹ ویئر تمام ڈیٹا اور آوازوں کو جمع کرتا ہے اور اس بنا پر پھیپھڑوں کی ایک تصویر بناتا ہے جس میں متاثرہ مقامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس تصویر کو موبائل فون میں دیکھا جاسکتا ہے یا کسی سرور پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح مسلسل ایک شرٹ نما صدری سے پھیپھڑوں کا مکمل احوال معلوم کیا جاسکتا ہے خواہ وہ گھر میں ہو یا کسی دفتر میں۔
اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سینے کے مرض کے ماہر کی جگہ نہیں لے سکتی لیکن اس سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ سانس لینے کے عمل میں کس مقام پر خرابی ہے۔

روشنی سے کینسر سمیت کئی امراض کے علاج میں پیش رفت

1234-1.png

سنسناٹی(ویب ڈیسک)سائنس اب اس امر کو ماننے لگی ہے کہ مخصوص روشنی سے خلیات اور جسمانی اعضا پر مثبت اثرات ہوتے ہیں، تازہ تحقیق میں جامعہ سنسناٹی کے سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ روشنی سے کینسر سمیت بعض امراض کا علاج بھی ممکن ہے۔
جامعہ نے یونیورسٹی آف الینوائے اور یونیورسٹی آف بفلیو کے اشتراک سے ثابت کیا ہے کہ روشنی سے سرگرم پروٹین خلیات کے اندر اثرڈال کر انہیں معمول پر لاسکتے ہیں۔ تحقیق میں مرکزی اہمیت مائٹوکونڈریا کو دی گئی ہے جسے خلیے کا پاور ہاؤس بھی کہا جاتا ہے جو دیگرا ہم کام بھی کرتا ہے۔
پی ایچ ڈی طالب علم جیا جی ڈیاؤ اور ساتھیوں نے ثابت کیا کہ کسی تندرست خلیے میں سیکڑوں مائٹوکونڈریا کے گچھوں (فیوژن) اور ان کے ٹوٹنے (فشن) کے قدرتی عمل میں توازن بہت ضروری ہوتا ہے، جب یہ توازن بگڑتا ہے تو کینسرسمیت طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، دیگر امراض میں ڈیمنشیا جیسے اعصابی نقائص بھی شامل ہیں۔
لیکن جیا جی نے پہلے ثابت کیا کہ خلیات کے اندر ایک قدرتی قینچی ’لائسوسوم‘ پائی جاتی ہے جو مائٹوکونڈریا کاٹنے اور چھوٹے حصوں میں بانٹنے(فشن) کا کام کرتی ہے۔ اگلے مرحلے میں فشن عمل کو مزید بہتربنانے کے لیے سائسوسوم اور مائٹوکونڈریا پر ایک ساتھ عمل کیا گیا جس کے لیے روشنی استعمال کی گئی اور یہ عمل طب کی زبان میں اوپٹوجنیٹکس کہلاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق کئی پروٹین روشنی میں سرگرم ہوجاتے ہیں اور پودوں میں یہ عمل عام دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایک اور سائنسداں ڈاکٹر کائی زینگ نے حساس آلہ بنایا ہے جو پروٹینی سطح پر روشنی پھینکتا ہے۔ یہ نیلی روشنی سے لائسوسوم اور مائٹوکونڈریا کو قابو کرتا ہے۔ اگلے مرحلے میں مائٹوکونڈریا سے پروٹین چپکایا گیا اور اس پر روشنی ڈال کر مطلوبہ عمل انجام دیا گیا۔
مزید تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) میں مائٹوکونڈریا اور لائسوسوم سے دو الگ الگ پروٹین چپکائے۔ جب ان پر نیلی روشنی ڈالی گئی تو دوپروٹین مل کر ایک نئے پروٹین میں ڈھل گئے جنہوں نے لائسوسوم اور مائٹوکونڈریا سے بھی رابطہ کیا۔ اس طرح لائسوسوم نے مائٹوکونڈریا کو توڑنا یا کاٹنا شروع کردیا۔
اس طرح مائٹوکونڈریا اصل صورتحال پر واپس آگیا اور درست کام کرنے لگا۔ یہاں تک کہ بعض متاثرہ خلیات تو بالکل ہی اصل اور تندرست حالت پر واپس آگئے۔ یہ ٹیکنالوجی ان مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہوسکتی ہے جن کے خلیات میں مائٹوکونڈریا غیر معمولی طور پر بڑھ جاتے ہیں اور انہیں چھوٹا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح روشنی سے یہ علاج کیا جاسکتا ہے۔

سبز چائے، ذیابیطس اور جسمانی سوزش میں مفید ثابت

123-7.jpg

کولمبس، اوہایو(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سبز چائے کے بہت سے فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ جادوئی مشروب ذیابیطس میں مفید ثابت ہوسکتا ہے اور معدے کے نظام میں موجود بیکٹیریا کو صحت مند رکھتے ہوئے اندرونی جسمانی سوزش (انفلیمیشن) بھی کم کرتا ہے۔
اس ضمن میں ماہرین نے میٹابولک سنڈروم کے مریض اور تندرست افراد پر سبزچائے کے اجزا آزمائے اور ان کے نتائج دیکھے ہیں۔ یہ تحقیق اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا کہ سبز چائے انسانی معدے اور نظامِ ہاضمہ میں مفید بیکٹیریا بڑھاتی ہے جس سے میٹابولک سنڈروم سے وابستہ طبی خطرات کم ہوتے ہیں۔
ان امراض میں ذیابیطس، امراضِ قلب اور فالج وغیرہ قابلِ ذکرہیں۔ نئی تحقیق میں جامعہ اوہایو نے پروفیسر رچرڈ برونو نے چوہوں پر تجربات کئے ہیں۔ جب انہوں نے سبز چائے کے مفید اجزا چوہوں کی غذا میں ملائے تو پہلے آنتوں اور معدے میں مفید بیکٹیریا بڑھے۔ ان سے پورا نظام بہتر ہوا۔
اس کے بعد چوہوں میں کارڈیو میٹابولک یعنی دل سے وابستہ مسائل کم دیکھے گئے جو ایک اہم دریافت ہے۔ گرین ٹی سے محروم چوہوں میں کارڈیو میٹابولک امراض کی شرح زیادہ تھی۔ اس کے بعد انسانوں پر آزمائش شروع ہوئی۔ اس مطالعے میں کل 40 افراد شامل کئے گئے جن میں سے 21 میٹابولک سنڈروم کے شکار تھے جبکہ بقیہ 19 افراد تندرست تھے۔
شرکا کو 28 روز تک کیٹاچن سے بھرپور چیونگ گم جیسی شے کھلائی گئی جس میں پانچ کپ گرین ٹی کے برابر غذائیت تھی۔ اس کے بعد تمام شرکا کو مزید 28 روز تک فرضی دوا دی گئی اور ان کے درمیان ایک ماہ کا وقفہ رکھا گیا۔
اس دوران شرکا کے خون میں شکر، چکنائی اور دیگر اجزا کو نوٹ کیا گیا اور آنتوں میں جلن ناپنے کے لیے فضلے کے ٹیسٹ بھی لئے گئے۔ جن افراد نے گرین ٹی کے اجزا استعمال کئے ان کے خون میں گلوکوز کی شرح کم تھی اور اندرونی سوزش بھی نمایاں طور پر کم ہوئی تھی۔

چقندر کا رس ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کتنا مؤثر ہوسکتا ہے؟

123-2.png

پورٹس ماؤتھ(ویب ڈیسک) سائنس دان ایک نئی تحقیق شروع کرنے جارہے ہیں جس میں وہ یہ مطالعہ کریں گے کہ چقندر کا رس پی کر ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں سے چکنائی کتنے مؤثر انداز میں کم کی جاسکتی ہے۔
محققین نے جانوروں پر کیے جانے والے گزشتہ مطالعوں میں یہ بتایا تھا کہ نائٹریٹ چکنائی کے سفید خلیوں کو بھورے خلیوں میں تبدیل کرسکتے ہیں جن کو ختم کرنا آسان ہوتا ہے۔
لیکن اب یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ اور بورن ماؤتھ یونیورسٹی کی محققین کی ٹیم نائٹریٹ سے بھرپور چقندر کے رس کو پینےسے انسانوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا معائنہ کریں گے۔
یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے اسکول آف اسپورٹس، ہیلتھ اینڈ ایکسرسائز سائنس کے ڈاکٹر اینٹ شیفرڈ کا کہنا تھا کہ انسانوں اور اکثر دیگر مملیوں میں دو قسم کے چکنائی کے خلیے ہوتے ہیں۔ چکنائی کے سفید خلیے توانائی کو ذخیرہ کرتے ہیں اور بھورے خلیے حرارت پیدا کرنے کے لیے اس توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چکنائی کے بھورے خلیوں کو ختم کرنا کافی آسان ہوتا ہے لہٰذا محققین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اگر نائٹریٹ ان چکنائی کے سفید خلیوں کو بھورے خلیوں میں بدلنے میں مدد دے سکتے ہیں تو کیا لوگوں کو مزید کیلوریز کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔
محققین فی الحال ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا رضا کار تلاش کر رہے ہیں۔ یہ ایک دائمی بیماری ہوتی ہے جو انسانی جسم کی بلڈ شوگر کی سطح پر نگرانی کو روک دیتی ہے۔ تحقیق میں شامل شرکاء کو روزانہ 14 دن تک دو علیحدہ دورانیوں میں آدھا گلاس جوس پینے کا کہا جائے گا۔
ایک دورانیے میں چقندر کا رس پلایا جائے گا جبکہ دوسرے دورانیے کوئی دوسرا فرضی رس(پلیسیبو) پلایا جائے گا جس کا ذائقہ بالکل چقندر کے رس کی طرح ہی ہوگا۔
دو ہفتوں کے بعد تمام شرکاء بورن ماؤتھ کی ریسرچ فیسیلٹی کا دورہ کریں گے جہاں یہ جاننے کے لیے ان کا ایم آر آئی کیا جائے گا کہ ان کے جسم میں کتنے چکنائی کے بھورے خلیے موجود ہیں۔

کامیاب آپریشن کے بعد سر سے جُڑے بھائیوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھا

1234-28.jpg

برازیلیا(ویب ڈیسک)سر سے جُڑے ہوئے جڑواں بھائیوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا، جس کے بعد دونوں بھائیوں کے لیے پہلی بار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا ممکن ہو سکا۔
خبر رساں ادارں کے مطابق برازیل میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سر سے جُڑے 2 بچوں کو کامیاب آپریشن کے بعد علاحدہ کردیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن تھا، کیونکہ دونوں بھائیوں کے جسم کی کئی خون کی شریانیں آپس میں جُڑی ہوئی تھیں۔
برازیلی شہر ریوڈی جنیرو کے اسپتال میں 3 سال سے زیادہ زندگی گزارنے والے جڑواں بھائی آرتھر اور برنارڈ کو علاحدہ کرنے کا آپریشن جون میں شروع کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ابتدا میں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ دونوں بھائی انتہائی پیچیدہ آپریشن کے بعد زندہ رہ پائیں گے۔
جڑواں بھائیوں کو علاحدہ کیے جانے کے بعد ان کی والدہ نے اشک بار آنکھوں سے بتایا کہ ہم 4 سال تک اسپتال میں اِس اُمید کے ساتھ رہے کہ ہمارے بچے کامیاب آپریشن کے بعد صحت مند حالت میں ہمارے ساتھ ہوں۔ واضح رہے کہ جسمانی طور پر الگ ہونے والے دونوں بھائی تاحال اسپتال میں ہیں، جہاں طبی عملہ مکمل تن درستی تک ان کی نگرانی کرے گا۔

Top