باقاعدگی سے ورزش کووڈ-19 کے امکانات کو کم کردیتی ہے، تحقیق

123-189.jpg

پیمپلونا: عالمی سطح پر کیے جانے والے ایک تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنا کووڈ-19 میں مبتلا ہونے یا اس وائرس سے سنگین نوعیت کے متاثر ہونے کے امکانات کو کم کردیتا ہے۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی کا کووڈ-19 کے کم خطرات، اس کی شدت، اسپتال میں داخلے اور اموات کے درمیان تعلق پایا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہفتے میں 150 منٹ کی معتدل مشقت کی یا 75 منٹ کی شدید مشقت کی جسمانی سرگرمیاں بہترین حفاظت کے طور پر سامنے آئیں۔
تحقیق میں ہسپانوی محققین کی ٹیم نے لکھا کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کا تعلق منفی کووڈ-19 نتائج سے دِکھتا ہے۔ ٹیم کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افراد جو مستقل ورزش کرتے ہیں ان کےکووڈ میں مبتلا ہونے، انفیکشن سے اسپتال میں داخلے، کووڈ میں شدت اور اس سے ہونے والی اموات کے امکانات ان لوگوں کی نسبت کم ہوتے ہیں جو ورزش نہیں کرتے ہیں۔
ماہرین یہ بات جانتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش اپنے اند تنفس کے شدید انفکیشنز کے خلاف حفاظتی اثرات رکھتی ہے، بلا ناغہ جسمانی ورزش متعدد صحت کے فوائد سے جُڑی ہے جس میں موٹاپے یا ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے میں امکانات میں کمی شامل ہے۔
پچھلی تحقیقوں میں یہ بتایا جاچکاہےکہ ورزش تنفس کے انفیکشز کے خطرات اور شدت دونوں کو قوتِ مدافعت کو مضبوط کر کے کم کرسکتی ہے۔

سیاہ فام اور ایشیائی افراد کو کینسر کی تشخیص کیلیے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے، تحقیق

123-188.jpg

ایکسیٹر(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سیاہ فام اور ایشیائی افراد کو کینسر کی تشخیص کے لیے سفید فام افراد کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
کینسر ریسرچ یوکے کے تعاون سے یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں کی جانے والی نئی تحقیق میں سات مختلف کینسرکی اقسام کی تشخیص کے لیے درکار انتظار کے اوقات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں10 سال کے اندر ایک لاکھ 26 ہزار کیسز کا تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ اپنے معالج سے پہلی بار معائنہ کرانے کے بعد سفید فام لوگوں میں بیماری کی تشخیص کا اوسطاً دورانیہ 55 دن تھا۔ سیاہ فام لوگوں میں یہ دورانیہ 11 فی صد طویل یعنی 61 دن جبکہ ایشیائی لوگوں کے لیے یہ دورانیہ 9 فی صد زیادہ یعنی 60 دن تھا۔
مجموعی طور پر تحقیق میں معلوم ہوا کہ اقلیتی گروہوں نے بریسٹ، پروسٹیٹ اور کولوریکٹل (colorectal cancer) کے کینسر سمیت دیگر اقسام کی تشخیص کے لیے زیادہ عرصہ انتظار کیا۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات غذائی نالی یا معدے کے کینسر کی تشخیص میں برتا جانے والا امتیازی سلوک تھا، یعنی سفید فام مریضوں میں تشخیص کا دورانیہ 53 دن تھا جبکہ ایشیائی لوگوں کو اوسطاً 100 دن (چھ ہفتے سے زیادہ) انتظار کرنا پڑا تھا۔
تاہم مطالعے میں مختلف قوموں میں تشخیص کے دورانیے میں فرق کی وجوہات کے متعلق نہیں بتایا گیا۔

الارم کی بار بار تکرار صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، تحقیق

123-187.jpg

اِنڈیانا(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ صبح کے وقت بار بار الارم کو اسنوز پر لگانا صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف نوٹری ڈیم میں کی جانے والی تحقیق میں محققین کو معلوم ہوا کہ جو لوگ الارم کو اسنوز پر بار بار لگاتے ہیں ان کے دل کی دھڑکن کی شرح ممکنہ طور پر ان لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے جو الارم بجنے پر فوراً اٹھ جاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ الارم اسنوز کرنے والے مستقل الارم کی مداخلت کے سبب بیداری سے قبل ایک گھنٹہ ہلکی نیند میں گزارتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اپنے الارم کو اسنوز پر نہیں لگاتے ان کو آخری گھنٹے میں گہری نیند کا فائدہ ہوتا ہے یعنی وہ مجموعی طور پر زیادہ اور بہتر نیند حاصل کرتے ہیں۔
اس ہی یونیورسٹی کی گزشتہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دل کے دھڑکن کی بلند شرح خراب نیند اور قلبی امراض کے درمیان تعلق کی وجہ ہوسکتی ہے۔
ان محققین کو ایک اور تحقیق میں یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ لوگ جو اپنی عمومی نیند کے اوقات سے 30 منٹ بعد میں سوتے ہیں ان کے دل کی دھڑکن کی شرح پوری رات اور بعض اوقات آئندہ دن میں بڑھی ہوئی رہتی ہے۔
سونے کی یہ عادات اس لیے بھی تشویشناک ہے کیوں کہ دل کی دھڑکن کی بلند شرح، دل کے مرض کے ساتھ ذیا بیطس کے خطرات بھی رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ الارم کو اسنوز پر لگانا ایک ایسا آپشن ہوتا ہے جس سے الارم تھوڑی دیر کے لیے بند ہوجاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد پھر بجنا شروع ہوتا ہے۔

سیکنڈ ہینڈ کے بعد اب تھرڈ ہینڈ اسموکنگ بھی نقصان دہ قرارداد

123-170.jpg

برکلے، کیلیفورنیا(ویب ڈیسک) اگر آپ سگریٹ پی رہے ہیں اور سامنے بیٹھے شخص تک اس کا مضر دھواں جارہا ہے تو یہ سیکنڈ ہینڈ تمباکو نوشی ہوگی تاہم اب کہا گیا ہے کہ تھرڈ ہینڈ تمباکو نوشی بھی سگریٹ نہ پینے والے افراد کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے یہاں تک کہ اس سے کینسر کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جس جگہ سگریٹ نوش رہتے ہیں اور تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ وہاں کے کپڑے اور فرنیچر مستقل طور پر نکوٹین سے آلودہ رہتے ہیں۔
علاوہ ازیں دیگر مضر کیمیائی مرکبات بھی جمع ہوتے رہتے ہیں جو ممکنہ طور پر تندرست افراد میں کینسر سمیت کئی امراض کا طرہ پیدا کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہی ٹیم اس سے قبل بھی ایسی ہی تحقیقات کرچکی ہے۔ تاہم اب اس ضمن میں مزید گہری تحقیق کی گئی ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ گھر کے اندر کی اشیا سگریٹ کے زہریلے مرکب کو جذب کرتی ہیں اور ہوا میں پہلے سے موجود ایک مرکب نائٹرس ایسڈ (ایچ او این او) سے ملاپ کرتی ہے۔ یہ ملاپ ایک خوف ناک کیمیکل میں بدل جاتا ہے جو کینسر کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس مرکب کو ٹی ایس این اے یا ٹوبیکو اسپیسفک نائٹروسیمائنز کہا جاتا ہے۔
اس کی پوری تفصیل سب سے پہلے 2010ء میں سامنے آئی تھی۔ اس طرح تھرڈ ہینڈ یا تیسرے درجے کی تمباکو نوشی بھی کسی نہ کسی درجے میں مضرِ صحت ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوش افراد کے گھر والے بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
اب یہ بھی جان لیں کہ ٹی ایس این اے کس طرح جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ گھر کے اندر اڑتے ہوئے گردوغبار سے یہ سانس کی بدولت بدن میں جاتے ہیں اور سرطان کی وجہ بن سکتے ہیں تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ آلودہ کپڑوں سے جلد کے راستے بھی اندر جاسکتے ہیں۔
ماہرین نے اس کا بغور مطالعہ کیا ہے اور سگریٹ نوشی والے کمروں میں ٹی ایس این اے کی زائد مقدار بھی دریافت کی ہے۔ اس طرح یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ کس طرح تھرڈ ہینڈ اسموکنگ صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتی ہے۔

دھنیے کے بیج امراضِ قلب سے بچنے کے لیے مفید قرار

1234-17.png

راک ویلی(ویب ڈیسک) عالمی سطح پر لوگوں کو درپیش صحت کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ کولیسٹرول کا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 44 لاکھ اموات کولیسٹرول کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں، اب ایک نئی تحقیق میں دھنیے کے بیج کولیسٹرول ختم کرنے اور دل کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔
کولیسٹرول کے زیادہ ہونے کا مطلب خون میں چکنائی کی زیادتی ہونا ہے۔ اگر اس سے نہ نمٹا جائے تو یہ شریانوں کو بند کرتے ہوئے امراضِ قلب اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
کولیسٹرول کی زیادتی عموماً چکنائی سے بھرپورغذا، ناکافی ورزش اور زیادہ وزن اور تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اس حالت کا سامنا جینیاتی طور پر بھی ہوسکتا ہے تاہم، متعدد مطالعات کے مطابق ایک جڑی بوٹی ایسی ہے جس میں صحت کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دھنیے کے بیج جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے ساتھ قلبی امراض کے خطرات کو بھی کم کرتے ہیں۔
بھارت کی شری رام چندرا یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے تحقیقی مقالے میں بتایا گیا ہے کہ دھنیے کے بیج مضر کولیسٹرول اور چکنائی کو کم کرسکتے ہیں۔
مقالے میں بتایا گیا کہ تجربے میں جب جانوروں کو دھنیے کے بیج کھلائے گئے تو ان کے ٹشوز میں موجود کولیسٹرول اور چکنائی کی سطح میں واضح کمی آئی۔
مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ جانوروں میں مضر کولیسٹرول میں کمی کے ساتھ مفید کولیسٹرول میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔
سال 2009ء میں ایتھنو فارماکولوجی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دھنیے کے بیج فشار خون کو کم کرنے کے لیے بھی کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بلند فشارخون بھی دل کی صحت کے لیے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

گرم راتیں اموات میں 60 فیصد اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، تحقیق

123-169.jpg

حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرم راتیں عالمی سطح پر اموات میں 60 فیصد اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ٹیمپریچر نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح موسمیاتی تغیر سونے کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے جس کے سبب انسان وبائی امراض کے لیے مزید آسان ہدف بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس، کے پروفیسر اور تحقیق کے مصنف مائیکل آر اِروائن نے مطالعے میں لکھا کہ ماضی میں کی جانے والی تحقیقوں میں بتایا گیا تھا کہ لوگوں میں تھرموریگولیشن اور اطراف کے درجہ حرارت میں اضافہ نیند میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔
تھرموریگولیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں مملیے اپنے جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بنیادی مدافعت نظام کے ذریعے نیند جسم کو ان تمام زخموں یا انفیکشنز کے لیے تیار کرتی ہے جو آئندہ دن پیش آسکتے ہیں۔
نیند میں خلل سوزش کی علامات میں اضافہ اور مدافعتی نظام کے توازن میں مداخلت کر سکتی ہے۔
اروائن نےتحقیقی مقالےمیں لکھا کہ ان کیفیات کے تحت نیند میں خلل میں مدافعتی نظام کے اثر کو کم کرنے، ویکسین کے اثر کو ختم کرنے اور انفیکشن والی بیماریوں کے مزید آسان ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بڑھتےدرجہ حرارت کے سبب خراب نیند کے اثرات یک طرفہ طور پر ان لوگوں کو زیادہ متاثر کرسکتے ہیں جن کی ایئر کنڈشنرز تک رسائی نہیں ہے اور وہ گرمی سے متعلقہ صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے خطرات سے زیادہ دوچار ہیں۔
اس ریویو میں 7 لاکھ 65 ہزار افراد پر ایک سروے کیا گیا جس میں شرکاء نے رات کے اوقات میں بڑھتے درجہ حرارت کے سبب خراب نیند کے متعلق خود بتایا۔ تحقیق کے نتائج میں بوڑھے اور کم آمدنی والی کمیونیٹیز زیادہ متاثر دِکھائی دیں۔

منکی پاکس کے ایک مریض کی ناک گلنا شروع ہوگئی

123-150.jpg
برلن: جرمنی میں منکی پاکس سے متاثر ایک شخص کی ناک گلنا شروع ہوگئی، حالیہ وباء میں ریکارڈ کیا جانے والا یہ معاملہ اپنی نوعیت کا سب سے تشویش ناک معاملہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 40 سالہ مریض (جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی) کچھ روز قبل اپنی ناک پر سرخ نشان کا معائنہ کرانے اپنے معالج کے پاس گیا تو اسے سن برن قرار دے کر واپس بھیج دیا گیا۔
تین دن میں مریض کی ناک کی جِلد مردار ہوکر سیاہ ہونی شروع ہوگئی، جس کے بعد ناک پر تکلیف دہ کھرنٹ جم گیا۔ اسی دوران متاثرہ شخص کے جسم پر پس سے بھرے دانے بھی نکل آئے۔
ایک پی سی آر ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ منکی پاکس سے متاثر ہے جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا اور اینٹی وائرل ادویات کی خوراک دی گئی۔ مزید معائنوں سے علم ہوا کہ مریض سائیفلِس اور ایچ آئی وی سے بھی متاثر تھا۔
مریض کو انفیکشن کے علاج کے لیے دوائیاں دی گئیں جس سے زخم تو سوکھ گئے لیکن ناک کی تکلیف میں جزوی طور پر بہتری آئی۔ متاثرہ شخص نے طبی ماہرین کو بتایا کہ اس سے قبل اس نے کبھی جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشنز کے متعلق ٹیسٹ نہیں کرایا تھا۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کا معاملہ ایچ آئی وی کا علاج نہ کیے جانے کی وجہ سے انتہائی شدت اختیار کرچکا تھا جس کی وجہ سے ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوچکا تھا جس کے سبب اسے نیکروسِس کا زیادہ خطرہ لاحق تھا۔
نیکروسِس ایک ایسی حالت ہوتی ہے جس میں ٹشو کسی انفیکشن کے سبب مردار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

30 سیکنڈ کی ویڈیو فالج کے متعلق پیش گوئی کر سکے گی، تحقیق

1234-14.png
ٹائیپے: ہمارے اسمارٹ فونز میں موجود کیمرا وقت کے ساتھ تیزی سے بہتر ہوا ہے لیکن کیا یہ اتنا جدید ہوگیا کہ ہم میں فالج کے خطرے کی نشان دہی کرتے ہوئے ہماری جان بچا سکے۔
محققین نے ایک ایسا ایلگورتھم بنایا ہے جو ہماری گردن میں موجود شریانوں کی کشادگی کا معائنہ کرتا ہے۔ یہ پروگرام کسی بھی جدید اسمارٹ فون سے بنائی جانے والی گردن کی 30 سیکنڈوں کی ویڈیو کو اسکین کرتے ہوئے کام کرتا ہے۔
گردن میں سکڑی ہوئی شریانیں فالج کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔
تائیوان کے محققین نے آئی فون 6 کا استعمال کرتے ہوئے 200 سے زائد بوڑھے مریضوں کی گردنوں کی ویڈیو بنائیں۔ شرکاء کو سیدھا لِٹا کر ان کے سروں کو بکس کے اندر رکھا اور بکس پر لگے کیمرے سے ان کی ویڈیو بنائی گئی۔
الگورتھم نے 10 میں تقریباً نو مریضوں کے گردن کی سکڑی ہوئی شریانوں کی نشاندہی کی اورجن کو فالج کا خطرہ لاحق تھا۔
تائیوان کے دارالحکومت تائیپے کی نیشنل تائیوان یونیورسٹی ہاسپٹل سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر ہسائیں-لی کاؤ کا کہنا تھا کہ تحقیق کا نتیجہ ایک غیر متوقع لمحہ تھا۔
فی الوقت مریضوں کو اسکین کے لیے بھیجنے سے قبل بلند فشار خون یا بلند کولیسٹرول جیسی علامات کی نشان دہی کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈپریشن میں مبتلا طلبا کی تعداد میں 135 فی صد اضافہ

123-149.jpg
بوسٹن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہےکہ گزشتہ آٹھ سالوں میں ڈپریشن میں مبتلا کالج کےطلبا کی تعداد دُگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔
بوسٹن یونیورسٹی کےمحققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ 2013 سے 2021 تک ڈپریشن میں مبتلا طلبا کی تعداد میں 135 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ اس ہی دورانیے میں بے چینی کے کیسز میں 110 فی صد اضافہ بھی دیکھا گیا۔
کووڈ-19 کی وجہ سے لاک ڈاؤن، اسکولوں کے بند ہونے اور روز مرّہ زندگی میں خلل اس صورتحال کی وجوہات میں سے کچھ ہیں، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسائل اس سے کہیں گہرے ہیں۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ جن سالوں میں ایک شخص کالج میں زیرِ تعلیم ہوتاہے اتفاقاً ان ہی سالوں میں کسی شخص میں زندگی بھر ساتھ رہنے والی ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
بوسٹن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سارہ لِپسن نے ایک بیان میں کہا کہ کالج کا دورانیہ ان مسائل کے مبتلا ہونے کا سب سے اہم وقت ہے۔ یہ عمر وہ ہوتی ہے جب زندگی بھر رہنے والے ذہنی مسائل پنپنا شروع ہوتے ہیں۔ آخری وقت تک رہنے والے 75 فی صد ذہنی مسائل 24 سال کی عمر سے ہونا شروع ہوتے ہیں۔
جرنل افیکٹِیو ڈِس آرڈرز میں شائع کی جانے والی تحقیق میں محققین نے امریکا کے 300 اسکولوں کے 3 لاکھ 50 ہزار طلبا کا ڈیٹا استعمال کیا۔
محققین نے سال بہ سال ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ دیکھا، حتیٰ کہ یہ اضافہ کووڈ کی عالمی وباء سے پہلے بھی دیکھا گیا۔

آواز اور بلبلوں سے زخم پٹی کی صلاحیت بڑھانے میں نمایاں کامیابی

123-115.jpg

ٹورنٹو(ویب ڈیسک)پٹیاں، پھاہے اور بینڈیج طبی دنیا میں عام استعمال ہوتی ہیں لیکن انہیں چپکائے رکھنا یا چپکنے کی صلاحیت کنٹرول کرنا محال ہوتا ہے۔ اب آواز کی لہروں اور باریک بلبلوں کی مدد سے نہ صرف نم دار جلد پر بھی پٹیوں کو چسپاں رکھا جاسکتا ہے بلکہ ان میں چپکنے کی صلاحیت بھی قابو کی جاسکتی ہے۔
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور دیگر جامعات کے سائنسدانوں نے یہ ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس میں الٹراساؤنڈ اور بلبلوں کی مدد سے نہ صرف پٹیوں میں چپکنے کی صلاحیت کو بڑھانا ممکن ہے بلکہ ضرورت کے لحاظ سے چپکنے والے مادے کی افادیت کم یا زیادہ کی جاسکتی ہے۔
مکِ گِل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر جیان یاؤ لائی نے کہا کہ اس کی تیاری میں کئی اداروں کے مختلف شعبوں کے ماہرین نے حصہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پسینے یا نمی والی جلد پر پٹی بار بار پھسل جاتی ہے۔ اب نئی ٹیکنالوجی انہیں مضبوطی سے ایک جگہ چپکائے رکھتی ہے۔
سائنسدانوں نے دیکھا کہ بینڈیج کی اطراف الٹرا ساؤنڈ ڈال کر اس کے اندر موجود چپکنے والی گوند کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے اور وہ جلد یا ٹشوز سے اچھی طرح پیوست ہوجاتی ہے۔
دوسری جانب جرمن ماہرین نے خردبینی بلبلوں کی مدد سے گوند کو مزید مضبوطی سے چپکنے کے قابل بنایا ہے اور اس سے زخم بھرنے کے عمل میں کئی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
دونوں ٹیموں نے چوہوں پر اس کے تجربات کیے ہیں جس سے پرامید نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں پٹیوں کی گوند کو بلبلوں سے تحریک دے کر ضرورت کے تحت اندر چھپی دوا بھی خارج کی جاسکتی ہے۔ پھر بلبلوں کو کینسر، ٹشو کی مرمت اور درست ترین ادویہ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Top