خنزیر کی جلد سے بنے قرنیہ سے 20 افراد کی بینائی بحال

1234.jpeg

اوٹاوہ(ویب ڈیسک) انسانی آنکھ کا قرنیہ متاثر ہوجائے تو بینائی زائل بھی ہوسکتی ہے۔ اب ٹشو انجینیئرنگ کی بدولت خنزیر کی تبدیل شدہ جلد سے قرنیہ بنا کر انسانوں میں منتقل کیا گیا تو تمام افراد کی بینائی جزوی یا کلی طور پر بحال ہوگئی۔ اس طبی کارنامے کو اس ضمن میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انسانوں پر پہلے تجربے کے دو برس بعد 14 نابینا افراد کی بینائی بحال ہوئی، تین افراد کو کچھ بہتر دکھائی دیا اور بقیہ تین افراد کی بینائی پیدائشی بچے کی طرح نارمل ہوگئی۔
’یہ ٹیکنالوجی قرنیے کے نایاب عطیات کی کمی پوری کرسکتی ہے جن سے آنکھوں کے کئی امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے،‘ نیل لیگالی نے بتایا کہ جو لنکوئپنگ یونیورسٹی کے شعبہ چشم کےممتاز ماہر ہیں۔
آنکھ کا پردہ یا قرنیہ بینائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور دنیا بھر میں 1 کروڑ 27 لاکھ افراد قرنیہ کی خرابی کے شکار ہیں اور 70 میں سے صرف ایک خوش نصیب کو اس کا عطیہ مل جاتا ہے۔
جامعہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سائنسداں مہرداد رفعت نے کہا کہ ان کی ایجاد جلد دنیا بھر کے لوگوں، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، کے لیے عام دستیاب ہوگی۔
مہرداد اور ان کی ٹیم کے مطابق یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس میں آنکھ کا پردہ لگانے کے لیے ٹانکوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور عام حالات میں بایو انجنیئرنگ سے تیار قرنیہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں مریض کی بافت (ٹشو) لینے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ مریض کے اپنے قرنیے میں ایک معمولی سوراخ کرکے انجینیئرنگ سے تیار کردہ نیا قرنیہ داخل کیا جاتا ہے۔
خنزیر کی جلد کی پتلی بافت یا کولاجن لے کر اس میں کیمیائی عمل اور فوٹو کیمیکل طریقوں سے بہتر بنایا گیا۔ پھر ہائیڈروجل ملاکر اسے مستحکم کیا گیا ہے۔
قرنیہ آنکھ کا وہ شفاف پردہ ہوتا ہے جو آئرس اور پیوپل جیسے دو اہم حصوں کی حفاظت کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ قرنیہ متاثر ہوتا رہتا ہے اور باہر کی جانب پھول کر کئی امراض کی وجہ بنتا ہے۔

معمولی قلبی اسکین ڈیمینشیا کی قبل از وقت پیش گوئی کرسکتا ہے، تحقیق

123-114.jpg

ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دل کے معمولی سے اسکین سے کسی بھی شخص کے آئندہ 10 سالوں میں ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کے متعلق پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔
امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں قائم جان ہوپکنز یونیورسٹی کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں محققین کو معلوم ہوا کہ بڑی عمر کے افراد جن کے دل کے بائیں ایٹریم میں مسائل تھے ان کے ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات 30 فی صد زیادہ تھے۔ اس بیماری کے لاحق ہونے کے امکانات دل کے مسائل کی علامات ظاہر نہ ہونے کے باوجود بھی موجود تھے۔
تحقیق کے مطابق یہ اسکین عموماً صرف ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتے ہے جن کے دل کے مرض میں مبتلا ہونے کا شبہ ہوتا ہے یا وہ دل کے مریض ہوتے ہیں۔ ایسا کرنا اس بات کی نشان دہی کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کس شخص کو ڈیمینشیا لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
بایاں ایٹریم آکسیجن کا حامل خون دماغ سمیت دیگر اعضاء تک پہنچاتا ہے۔ اگر اس خانے میں کوئی مسئلہ ہوگا تو اس سے دماغ کو خون کی ترسیل میں کمی واقع ہوگی جس کے سبب ڈیمینشیا لاحق ہوسکتا ہے۔
ایٹریل کارڈیو پیتھی مختلف حالتوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جو بائیں ایٹریم کو باقاعدگی سے کام کرنے میں مسئلہ کرسکتی ہے۔ یہ حالت فالج اور دل کی بےترتیب دھڑکن کا سبب ہوسکتی ہیں اور ان دونوں پیچیدہ کیفیات کا تعلق بھی ڈیمینشیا کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے نئے طبی لائحہ عمل معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں شمالی کیرولائنا، میری لینڈ اور مِسیسِپی سے تعلق رکھنے والے 5078 افراد کا معائنہ کیا گیا۔ مطالعے میں شریک ان افراد کی اوسط عمر 75 برس تھی۔

سخت ذہنی سرگرمیاں ہمیں کیوں تھکا دیتی ہیں؟

1234-10.png

پیرس(ویب ڈیسک) ایک تحقیق میں محققین کو معلوم ہوا ہے کہ طویل اور سخت ذہنی سرگرمیاں ہمیں کیوں تھکا دیتی ہیں ۔
تحقیق کے مطابق گھنٹوں کا استغراق دماغ کے پری فرنٹل کورٹیکس کے حصے میں ممکنہ طور پر زہریلے فضلے کا سبب بنتا ہے۔
ان زہریلے مرکبات کے بننے کے نتیجے میں یہ انسان کا فیصلوں پر سے قابو ختم کردیتا ہے لہٰذا ذہنی تھکان کا شکار ہونے کی وجہ سے لوگ ایسے عمل کی جانب جاتے ہیں جو محنت طلب یا انتظار طلب نہیں ہوتے۔تھکان دماغ کو خود کو بچانے کے لیے کام کرنا چھوڑنے کو کہتی ہے۔
فرانس کی ایک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے میتھیاس پیسیگلیون کا کہنا تھا کہ ذی اثرنظریوں یہ بتاتے تھےکہ تھکان ایک طریقے کا دھوکا ہوتا ہے جو دماغ کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے تاکہ ہم جو بھی کچھ کر رہے ہوں وہ کرنے سے ہمیں روکا جاسکے اور کسی اور اطمینان بخش سرگرمی کی جانب رخ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ گہری سوچ بچار کے کام کے نتیجے میں نقصان دہ مرکبات جمع ہوتے ہیں لہٰذا تھکان ایک اشارہ ہوتا ہے جو ہمیں کام کرنے سے روکتا ہے لیکن اس کا مقصد مختلف یعنی ہمارے دماغ کی فعالیت کو بچانا ہوتا ہے۔
محققین نے دو گروپوں کےلوگوں کے دماغ میں ہونے والے کیمیائی عمل کا پورے دن جائزہ لیا۔ ایک گروپ ان لوگوں کا تھا جن کو اپنی ملازمت کے کاموں میں زیادہ سوچنا پڑتا تھا اور دوسرا گروپ ان کا تھا جن کو سوچنے میں نسبتاً کم محنت کرنی پڑتی تھی۔
محققین نے سخت سوچ بچار کرنے والے گروپ کے لوگوں میں تھکن کی علامات دیکھیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کی آنکھوں کی پتلیاں بھی سُکڑ گئیں تھیں۔ان لوگوں نے ایسے کاموں کا انتخاب کیا جس میں محنت کم لے اور ان کا صلہ فوری ہی حاصل ہوجائے۔
محققین کا کہنا تھا کہ ان افراد کے دماغ کے پری فرنٹل کورٹیکس میں گلوٹیمیٹ نامی کیمیکل بھی زیادہ مقدار میں پایا گیا۔

کھانے کے مخصوص اوقات کار سے وزن میں نمایاں کمی ممکن ہے، تحقیق

1234-9.png

الباما(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صبح 7 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان کھانے سے تین مہینوں کے اندر وزن میں نمایاں کمی کی ممکن ہے۔
یونیورسٹی آف الباما میں کی جانے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے موٹاپے کا شکار 90 امریکی افراد کا انتخاب کیا اور ان کے لیے ایک جیسی غذا اور ورزش کا تعین کیا۔ تحقیق میں شریک افراد میں اکثریت خواتین کی تھی، جن کی اوسط عمر 43 برس تھی اور ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)39.6 تھا۔
ان شرکاء کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور ماہرین کی جانب سے انہیں ڈائٹ کے معمول کے حوالے سے ہدایات دی گئیں اور ایک جیسی ورزش کرائی گئی۔
تحقیق کے مطابق موٹاپے کا شکار بڑی عمر کے افراد 14 ہفتوں تک ان آٹھ گھنٹوں میں کھانے کے معمول پر عمل کرتے ہوئے اوسطاً 6.3 کلوگرام وزن کم کرسکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ جنہوں نے اپنی مرضی کے وقت پر کھانا کھایا وہ صرف 4 کلوگرام ہی وزن کم کرسکے۔
جرنل جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے لیے وقت کو محدود کرنا ہماری کیلوریز کی کھپت کو محدود کرتا ہے، مخصوص وقت میں کھانے کے معمول کے سبب روزانہ کے حساب سے شرکاء میں 214 اضافی کیلوریز کی کھپت میں کمی آئی۔
انٹرمِٹینٹ فاسٹنگ ڈائٹ کا ایک مشہور طریقہ کار ہے جسے جینیفر اینسٹن، نکول کِڈمین اور بینیڈکٹ کمبربیچ جیسے ہالی ووڈ اسٹار برسوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف وزن کم کرتا ہے بلکہ یہ بڑھتی عمر سے متعلقہ بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔
موٹاپا دنیا بھر میں ایک تیزی سے پھیلتا مسئلہ جس کے سبب لوگ کینسر، امراضِ قلب اور صحت کے دیگر مسائل میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ 40 یا اس سے زیادہ بی ایم آئی کو شدید موٹاپا قرار دیا جاتا ہے۔

سبزی خور خواتین میں ہڈی ٹوٹنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں

123-80.jpg

لندن(ویب ڈیسک)پوری دنیا میں سبزی کھانے پر زور دیا ہے جس کے تحت بعض خواتین مکمل طور پر گوشت خوری ترک کر دیتی ہیں جو کہ درست نہیں کیونکہ اس طرح ہڈیوں کی کمزوری بڑھنے سے گوشت کھانے والی خواتین کے مقابلے میں ان میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے خطرات 33 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ گوشت کے مقابلے میں سبزیوں میں عموماً کیلشیئم اور وٹامن بی 12 کی مقدار کم ہوتی ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری جانب سبزیاں ضروری پروٹین کو بھی پورا نہیں کر پاتیں۔ پروٹین پٹھوں اور گوشت کی تشکیل کرتے ہیں اور دیگر معدنیات ہڈیوں کو قوی بناتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سن یاس (مینوپاز) کے بعد خواتین میں ایسٹروجن نامی جنسی ہارمون کی سطح گر جاتی ہے۔ اس کے بعد پھسلنے یا گرنے سے ان میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہڈیاں دیر سے ٹھیک ہوتی ہیں اور یہاں تک کہ اس سے معذوری اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
جامعہ لیڈز کی تحقیق کے مطابق یہ ایک خطرناک امر ہے اور خواتین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سبزیوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقدار گوشت کی ضرور کھائیں کیونکہ ادھیڑ عمری میں ہڈیوں کی شکستگی سے اسی طرح بچا جاسکتا ہے۔
اس ضمن میں سائنسدانوں نے برطانیہ میں اپنی نوعیت کی طویل تحقیق کی ہے جس میں 26 ہزار مختلف خواتین کا 20سال تک مطالعہ کیا گیا ہے۔ سروے میں شامل خواتین کی عمریں 35 سے 69 سال کے درمیان تھیں۔
اس پورے مطالعے میں تین فیصد خواتین میں کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور معلوم ہوا کہ گوشت کی کچھ نہ کچھ مقدار کھانے والی خواتین کے مقابلے مکمل طور پر سبزہ خور خواتین میں کولہے کی شکستہ ہڈی کے خطرات 33 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کم گوشت کھانے یا صرف مچھلی کھانے سے بھی یہی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور یہاں بھی سبزی کھانے سے ہڈیوں کو تقویت نہیں ملی۔
اگرچہ سبزیاں کھانا بہت ضروری ہے جن کے شاندار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ کولیسٹرول میں اضافہ روکتی ہیں، بلڈ پریشر معمول پر رکھتی ہیں اور امراضِ قلب سے دور رہا جاسکتا ہے۔ لیکن سبزیوں پر مکمل طور پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ خواتین سبزیاں نہ کھائیں بلکہ وہ پروٹین کے دیگر ذرائع مثلاً دالیں اور ڈیری مصنوعات کا استعمال بڑھائیں۔ تاہم اگر کچھ مقدار گوشت کی کھائی جائے تو اس سے فوائد ضرور ملتے ہیں۔
تاہم دیگر ماہرین نے اصرار کیا جائے کہ صرف سبزیاں کھانے والی خواتین کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی بھی طرح کیلشیئم کی مناسب مقدار ضرور کھائیں۔

کھانے کے مخصوص اوقات کار سے وزن میں نمایاں کمی ممکن ہے، تحقیق

1234-8.png

الباما: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صبح 7 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان کھانے سے تین مہینوں کے اندر وزن میں نمایاں کمی کی ممکن ہے۔
یونیورسٹی آف الباما میں کی جانے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے موٹاپے کا شکار 90 امریکی افراد کا انتخاب کیا اور ان کے لیے ایک جیسی غذا اور ورزش کا تعین کیا۔ تحقیق میں شریک افراد میں اکثریت خواتین کی تھی، جن کی اوسط عمر 43 برس تھی اور ان کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)39.6 تھا۔
ان شرکاء کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور ماہرین کی جانب سے انہیں ڈائٹ کے معمول کے حوالے سے ہدایات دی گئیں اور ایک جیسی ورزش کرائی گئی۔
تحقیق کے مطابق موٹاپے کا شکار بڑی عمر کے افراد 14 ہفتوں تک ان آٹھ گھنٹوں میں کھانے کے معمول پر عمل کرتے ہوئے اوسطاً 6.3 کلوگرام وزن کم کرسکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ جنہوں نے اپنی مرضی کے وقت پر کھانا کھایا وہ صرف 4 کلوگرام ہی وزن کم کرسکے۔
جرنل جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے لیے وقت کو محدود کرنا ہماری کیلوریز کی کھپت کو محدود کرتا ہے، مخصوص وقت میں کھانے کے معمول کے سبب روزانہ کے حساب سے شرکاء میں 214 اضافی کیلوریز کی کھپت میں کمی آئی۔
انٹرمِٹینٹ فاسٹنگ ڈائٹ کا ایک مشہور طریقہ کار ہے جسے جینیفر اینسٹن، نکول کِڈمین اور بینیڈکٹ کمبربیچ جیسے ہالی ووڈ اسٹار برسوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف وزن کم کرتا ہے بلکہ یہ بڑھتی عمر سے متعلقہ بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔
موٹاپا دنیا بھر میں ایک تیزی سے پھیلتا مسئلہ جس کے سبب لوگ کینسر، امراضِ قلب اور صحت کے دیگر مسائل میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ 40 یا اس سے زیادہ بی ایم آئی کو شدید موٹاپا قرار دیا جاتا ہے۔

خواتین کے مقابلے میں مردوں کو کینسر کے خطرات زیادہ ہوسکتے ہیں، تحقیق

1234-7.png

میری لینڈ(ویب ڈیسک)ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طرزِ زندگی کے بجائے ممکنہ طور پر حیاتیاتی فرق کی وجہ سے عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو کینسر کا مرض لاحق ہونے کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
امیریکن کینسر سوسائٹی کے جرنل میں شائع ہونے والی یہ تحقیق نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کی رہنمائی میں کی گئی۔
تحقیق کی مصنفہ سارہ ایس جیکسن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ہمارے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ کینسر کے کیسز کو صرف ماحولیاتی اعتبار سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ مردوں اور عورتوں میں کچھ بنیادی حیاتیاتی تفاریق ہیں جو کینسر کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کینسر میں جنسی تفریق کی وجوہات کا سمجھا جانا بیماری کے علاج اور اس سے بچاؤ کے لیے اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
مطالعے میں محققین نے میڈیکل ہسٹری کے ساتھ تمباکو نوشی وغیرہ جیسی عادات، باڈی ماس انڈیکس اور قد، جسمانی سگرمیوں، غذا اور ادویہ کے استعمال کی پیمائش کی جس میں مجموعی طور پر مردوں کو 21 اقسام کے کینسر لاحق ہونے کے خطرات زیادہ سامنے آئے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں 1995 سے 2011 تک کی جانے والی تحقیق میں 50 سے 71 سال کی عمر کے درمیان 171247 مرد اور 122823 خواتین شامل تھیں۔
محققین کے مطابق سامنے آنے والے 26 ہزار693 کینسر کے کیسز میں 17 ہزار 951 کیسز مردوں کے اور 8 ہزار 742 کیسز خواتین کے تھے۔ صرف تھائرائیڈ اور پتے کے کینسر کے کیسز میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ تھی لیکن مردوں کے عورتوں کی نسبت دیگر کینسر کی اقسام میں مبتلا ہونے کے خطرات 1.3 سے 10.8 گُنا زیادہ تھے۔
تاہم، جنسی تفریق کے کینسر کا سبب بننے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں اس کے متعلق کوئی واضح چیز سامنے نہیں آسکی اور محققین نے اس معاملے پر مزید مطالعات کرنے پر زور دیا ہے۔

ہنسنا مضر کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، تحقیق

1234-6.png

میری لینڈ(ویب ڈیسک)ہنسنا ہماری صحت پر متعدد مثبت اثرات مرتب کرتا ہے جو ممکنہ طور پر ہمیں امراضِ قلب سے بچاؤ کے لیے مدد دے سکتا ہے۔
دی ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق ہنسنے کے اثرات قلبی ورزش کے مساوی ہوتے ہیں۔ یہ عمل دل کے دھڑکنے کو مزید بہتر اور اتنی ہی کیلوریز کو کم کرتا ہے جتنی کیلوریز چہل قدمی سے ہوتی ہیں۔ ہنسنے کا عمل مضر کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور مفید کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں پر کی جانے والی ایک تحقیق جو کولیسٹرول کی زیادتی کا شکار بھی تھے، ان میں ایک سال تک روزانہ آدھا گھنٹہ ہنسنے کے مثبت اثرات دیکھے گئے۔ سال کے آخر میں شرکاء میں مفید کولیسٹرول میں 26 فی صد کا اضافہ ہوگیا تھا۔
ہنسنا ہمارے ذہن پر موجود دباؤ کو بھی کم کرتا ہے، ہماری خون کی شریانوں کو کھولتا ہے اور فشارِ خون کو کم کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہنسنے کے دوران ہماری شریانیں نائٹرک آکسائیڈ خارج کرتی ہیں، جو ان شریانوں کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔نائٹرک آکسائیڈ کا تعلق سوزش کی کمی اور شریانوں میں گٹھلیاں بننے میں کمی سے بھی ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس میں کی جانے والی ایک اور تحقیق میں ایک مزاحیہ ویڈیو اور شریانوں میں پیدا ہونے والی فوری لچک کے درمیان تعلق بھی پایا گیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے تک کمی کا امکان

123-63.jpg

اسلام آباد(ویب ڈیسک)آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے نئی سمری پر کام شروع کردیا، جس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملکی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کم ہونے کا امکان ہے، جس کے لیے اوگرا نے ورکنگ کا آغاز کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لٹر تک کمی کا امکان ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس کی شرح کو کم کر کے بھی عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 12 اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے تک کمی کا امکان ہے۔
اوگرا کی جانب سے نئی قیمتوں کے تعین کے لیے سمری 13 اگست کو وزارت خزانہ کو ارسال کی جائے گی، جس پر وزیراعظم کی منظوری کے بعد 15 اگست کو نئی قیمتوں کا اعلان ہوگا۔

پہلی مرتبہ انسانی امنیاتی نظام کا مکمل نقشہ تیار

01.png

کیمبرج(ویب ڈیسک)سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جدید ترین اسکریننگ ٹٰیکنالوجی کی بدولت انفرادی خلیات کے درمیان روابط اور جوڑ کو نوٹ کرتے ہوئے انسانی امنیاتی نظام کا اب تک مکمل ترین اور مربوط نقشہ تیار کیا ہے۔
اس طرح کینسر سمیت کئی امراض کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور توقع ہے کہ اگلی نسل کی ادویہ اور طریقہ ہائے علاج میں مدد ملے گی۔ لیکن واضح رہے کہ اس کی پشت پر ہماری وہ سمجھ بوجھ شامل ہے جس کے تحت ہم برسوں سے بدن کے امنیاتی خلیات پر غور کررہے ہیں جو اندرونی دفاعی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔
اس عمل میں ایک اہم ترین شے وہ رابطے ہیں جو امنیاتی خلیات کی سطح پر موجود پروٹین انجام دیتے ہیں اور ریسپٹرپروٹین سے جڑتے ہیں۔
اگرچہ ہم ریسپٹر سے جڑنے والے کئی خلیات سے تو واقف ہیں لیکن اب ویلکم سینگرانسٹٰی ٹیوٹ اور ای ٹی ایچ زیورخ کے سائنسدانوں نے بڑی محنت سے امنیاتی خلیات کا تفصیلی ڈائیگرام بنایا ہے اور اس پر عشروں سے کام جاری ہے۔ لیکن جدید ٹٰیکنالوجی سے اس میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک ٹیکنالوجی کو’ہائی تھروپٹ سرفیس ریسپٹر اسکریننگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی بدولت امنیاتی خلیات کے پروٹین کے ایک دوسرے سے راوبط کو ایک نقشے سے بیان کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق امنیاتی خلیات کے باہمی رابطوں کا یہ نقشہ اس نظام کو سمجھنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس سے نت نئے علاج اور تھراپی کی راہیں کھلیں گی۔
اس وائرنگ کو دکھانے والا ڈائیگرام میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آخرکسطرح خلیات ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور باہمی تفاعلات کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس طرح خود امنیاتی نظام کو بھی مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارا بدن کئی بیماریوں سے ازخود لڑنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے جسے امنیاتی نظام کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 20 برس سےماہرین مختلف طریقوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کررہے تھے جس میں اب نمایاں کامیابی ملی ہے۔ اس سے خود امنیاتی یعنی آٹوامیون بیماریوں کو بھی سمجھا جاسکے گا۔

Top