آزاد خارجہ پالیسی کو سبوتاژ کرنے کیلئے غیرملکی فنڈنگ ہورہی ہے، وزیراعظم

12345-562.jpg

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی اور صوبائی وزرا کو مخاطب کرکے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے میرے وزرا کو لالچ دے کر توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے میرا ساتھ دیا جس کے لیے میں شکر گزار ہوں اور مجھے فخر ہے ہم فلاحی ریاست کے راستے پر چل نکلے ہیں، حکومت جائے یا جان کبھی ان چوروں کو معاف نہیں کروں گا، ہمارے پاس شواہد ہیں کہ ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کو سبوتاژ کرنے کیلئے غیرملکی فنڈنگ ہو رہی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پیریڈ گرانڈ میں جلسہ امر بالمعروف سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نے جلسے کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک نظریہ کے تحت وجود میں آیا، اور وہ نظریہ اسلامی فلاحی ریاست ہے، مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ تم دین کو سیاست کے لیے کیوں استعمال کرتے ہو، 25 سال قبل جماعت کی بنیاد اسی نظریہ پر ڈالی کہ ملک اسلامی فلاحی ریاست بنے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ٹیکس جمع ہوتا جائے گا وہ سارا پیسہ قوم کی مجموعی ترقی کے لیے استعمال ہوگا، جب تک نظریے پر کھڑے نہیں ہوں گے قوم نہیں ہجوم ہوگا، ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی۔
تین چوہے 30 سال سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں
وزیر اعظم عمران خان نے کہ میں اپوزیشن رہنماں کو اس لیے این آر او نہیں دیتا کیونکہ قانون کی بالادستی نہیں رہے گی، غریب اس لیے غریب نہیں بلکہ وہ اس لیے غریب ہوتا ہے کیونکہ قانون کی گرفت سے بڑے چور نکل جاتے ہیں اور یہ تین چوہے اکٹھے ہوئے ہیں 30 سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے آف شور اکانٹس موجود ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سابق صدر جنرل مشرف کی طرح عمران خان بھی پیچھے ہٹ جائے اور این آر او دے دیں، پہلے دن سے بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج جو قرضوں کی مد میں سود ادا کررہے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پروز مشرف نے انہیں این آر او دیا تھا، حکومت جائے یا جان کبھی ان چوروں کو معاف نہیں کروں گا۔
ہماری حکومت کے 3 سال مثالی ہیں
عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ کسی حکومت اتنی ایسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جیسا ہم نے 3 برس میں برسراقتدار آکر دیے، ڈیزل کی قیمت 10 روپے کم کی ہے، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کورونا وبا سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے جبکہ مجھ پر تنقید ہوئی اور حکومت سندھ نے وفاقی کی بات نہیں مانی لیکن ساری دنیا کورونا وباکے دوران پاکستان نے اٹھائے جانے والے اقدامات کو قابل ستائش نظروں سے دیکھا ہے۔
انہوں نے عالمی رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا کہ پاکستان میں سب سے کم مہنگائی ہے، تھری اسٹوجزوالی پوزیشن میں ایک چیری بلاسم ہے، ڈیزل دوسرا ہے، تیسری بیماری ہے اور چوتھا بھگوڑا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نیکہا کہ پہلی مرتبہ 50 سال کے بعد بڑے ڈیمز بن رہے ہیں، 2025 تک مہمند ڈیم تعمیر ہوجائے اور خیبرپختونخوا فائدہ پہنچے گا، 2027 میں دوسرا بڑا ڈیم بنے گا، 2028 میں بھاشا ڈیم تعمیر ہوگا اس سے ملک میں آبی ذخائر دگنا ہوجائے گا اور دیہاتوں سمیت شہروں میں پانی دے سکیں گے۔
مریم نواز نے ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا
وزیر اعظم عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو مخاطب کرکے کہا کہ انہوں نے ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کیا جبکہ دوسری طرف کانپیں ٹانگنے والے کو 14 برس سے اردو میں بات کرنا نہیں آئی، آصف علی زرداری کو تھوڑا بڑا کرکے بلاول کو سیاست میں آنے کی اجازت دینی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نالہ لئی کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائی گے، اینکرز سے کہتا ہوں خدا کے وسطے معیشت کے ماہرین کو بلالیں، 30 سال سے حکومت کرتے رہے کسی نے ماسٹر پلان پر کام نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو پاکستان لے کر آئے اور وہ 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کارکررہی ہے، ریکوڈک منصوبے کا سب سے زیادہ پیسہ بلوچستان کو ہوگا، جرمانہ ہوجاتا تو بیرون ملک اثاثے ضبط ہوجاتے،ہم نے 2 ہزار ارب روپے جرمانے ختم کرایا۔
ن لیگ کے دور میں 23 کروڑ روپے فی کلومیٹر زیادہ مہنگی تھی
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف خود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے خود کنٹرول کیا ہوا تھا، 2013 میں فی کلومیٹر اور 2021 میں فی کلومیٹر پر آنے والی لاگت کا تذکرہ موجود ہے، لیکن آپ کو حیرت ہوگی کہ ن لیگ نے 2013 کے مقابلے میں 2021 میں بننے والی سڑکوں کی لاگت فی کلو میٹر 23 کروڑ روپے سستی بنی۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے کرپشن کے نئے دور کا آغاز کیا اور ان کے دور میں 23 کروڑ روپے فی کلومیٹر زیادہ مہنگی تھی، مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن کی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم غیرت مند ہیں لیکن اس کے حکمران بے غیرت ہیں، میں کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا اور اپنی قوم کا سر نیچا نہیں ہونے دوں گا۔
آصف علی زرداری اور بلال بھٹو کی قربانی کو بھلا کر ان کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں
عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک کو ہمارے پرانے رہنماں کے کرتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک میں موجود لوگوں کی وجہ سے حکومتیں تبدیل کرتی جاتی رہی، ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی، فضل الرحمن اور بھگوڑا نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنادیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آج اسی بھٹو کے داماد آصف علی زرداری سب سے بڑی بیماری اور اس کا نواسہ کاپنیں ٹانگ رہی ہیں دونوں کرسی کی لالچ میں اپنے نانا کی قربانی کو بھلا کر ان کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی وکالت کررہے ہیں۔
آزاد خارجہ پالیسی کو سبوتاژ کرنے کیلئے غیرملکی فنڈنگ ہورہی ہے
وزیر اعظم عمران خان نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرکے کہا کہ شرم کرو، ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو موڑ نے کے لیے بیرون ملک سے متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ جو آج قاتل اور مقتول کو اکٹھے کرنے والوں کے بارے میں بھی علم ہے لیکن آج وہ ذوالفقار علی بھٹو والا ٹائم نہیں ہے بلکہ بدل چکا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم سب سے دوستی کریں گے کسی سے دشمنی نہیں کریں گے، ہمارے ملک میں باہر کے پیسوں سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لوگ ہمارے استعمال ہورہے ہیں، زیادہ تر انجانے میں لیکن کچھ جان بوجھ کر ہمارے خلاف پیسہ استعمال کررہے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرکے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی ساری سیاست دین پر مبنی ہے، اللہ نے آپ کو کوئی عزاز نہیں دیا، مجھ گنگار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سیرت النبی ۖ پر بات کی۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے دین کو سیاست میں اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ متحدہ اپوزیشن کہتی ہے کہ این آر او دے دو ہم تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں گے، یہ قوم جاگ چکی ہے اور جب جب قومیں جاگیں تو تاریخ بدل گئیں، جب پشاور پر آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا اور قوم جاگی تو دہشت گردوں کو شکست ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اب قوم جاگی ہے تو بتا لوٹیروں کو شکست ہوگی یا نہیں، آصف علی زرداری کے پاس جتنی دولت ہے وہ لے آئے کیونکہ اس میں سے ایک کارکن فروخت ہونے کے لیے آمادہ نہیں ہوگا، کچھ ضمیر بکتے ہیں تو کچھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پاکستان کی عوام نے کپتان پر اعتماد کا اظہار کردیا، میں اور میرا بیٹا رکن اسمبلی ہیں ہم سودا نہیں کریں گے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے قوم کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ تم دیکھ رہے ہو کہ عمران خان ایک تنہا ہے، متحدہ اپوزیشن کا نشان، جھنڈا اور منشور ایک نہیں ہے، وہ سب اکٹھے ہوگئے، آج قوم سیپوچھتا ہوں کہ عمران خان کا سر نیچا کرنے دو گے۔
جلسے کے آغاز پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ہماری قوم نے مہنگائی اور روزگاری، بجلی کے بلوں کی مہنگائی کو بردارشت کیا ہے اور یہ قوم اب مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ڈاکو ہیں جنہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے کرنا ہے۔
انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ تین کرپٹ ٹولہ لیڈر نہیں ڈاکو ہے، انہوں نے مینج کیا اپنے پلیٹ لیٹس کم کیے اور لندن گئے، یہ سازش کرکے شاہ عبداللہ کے ساتھ سعودی عرب گئے۔
جلسے میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی پنجاب، خیبرپختونخوا اور ہزارہ سے آمد کا سلسلہ تاحال جاری ہیجس کے بارے میں منتظمین نے دعوی کیا کہ پنڈال میں 20 لاکھ سے زائد شرکا موجود ہیں۔
کارکنان میں خواتین بھی شامل ہیں جو بسوں، کاروں اور ویگنوں کے ذریعے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے اسلام آباد میں مہنگائی مارچ و جلسے کے لیے جمعیت علما اسلام کے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے رات گئے اپنے آڈیو پیغام میں لوگوں سے جلد سے جلد جلسہ گاہ پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے آج ہونے والے جلسے کو پاکستان کے مستقبل کی جنگ قرار دیا ہے۔
سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی نے اسلام آباد میں سیاسی پارٹیوں کے جلسہ کے حوالے سے ٹریفک انتظامات مکمل کر لیے۔ چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی نوید ارشاد کے مطابق ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے ٹریفک پولیس کے 370 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
نوید ارشاد نے کہا اہم شاہراہوں پر ریلیوں کے گزرنے کے دوران ٹریفک کو متبادل راستوں پر ڈائیورٹ کیا جائے گا۔ کسی قسم کی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینسز اور ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے خصوصی ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے۔
سی ٹی او راولپنڈی کے مطابق ڈائیورشن شہریوں کی سہولت اور رش سے بچنے کیلئے لگائی جاتی ہے اس دوران شہری متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ ڈائیورشن پوائنٹس اور متبادل راستوں پر شہریوں کی سہولت کیلئے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
شہریوں کی سہولت اورٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام پوائنٹس پر اضافی ٹریفک ڈیوٹی موجود ہو گی۔ ریلیوں کے گزرنے کے دوران شہری مری روڈ پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ شہری ٹریفک صورتحال کے متعلق ہیلپ لائن نمبرز اور ریڈیو اسٹیشن 88.6 سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔

شیئر کریں

Top