اسلامی انقلاب کی سالگرہ کا جشن……تحریر……عباس دانش مہدی آبادی

گیارہ فروری دوہزار ابائیس کو ایران کے جراتمند قوم جشن آزادی انقلاب ایران کے ترتالیسویں سالگرہ منارہے ہیں یعنی11 فروری 1979 کو رونما ہونے والی اس تحریک کو آج ترتالیسویں سال ہوئے ہیں جس دن بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ پیرس میں اپنا پندرہ سالہ جلاوطنی ترک کر کے ایران تشریف لائے اور ایران کے حکمران رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹا دیا اور وہ ایران سے فرار ہوئے اس دن جب امام خمینی کی خصوصی پرواز نے پیرس سے ایران کے لئے اڑان بھرا تودوسری جانب ایران میں رضا شاہ پہلوی کی نائب خاص وزیراعظم بختیارنے ایران کے تمام ہوائی اڈوں کو بند کرنے کا حکم دیا اور امام خمینی کی ایران آمد کو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کی اجازت دی گئی جس میں امام خمینی کی خصوصی جہاز کو تباہ کرنے ،جہاز کا راستہ تبدیل کرنے اور امام خمینی کی گرفتاری سمیت متعدد سازشیں شامل تھی ان تمام خوفناک زمینی حقائق کے باوجود جہاز میں موجود سینکڑوں نامہ نگار اور صحافیوں نے امام خمینی کی جرات استقامت کا بخوبی مشاہدہ کیا اور ان کے چہرے پر خوف اور دہشت کی کوئی آثار محسوس نہیں کی گئی جب امام خمینی کی خصوصی پرواز ایران کے حدود میں داخل ہوئے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ بانی انقلاب کی خصوصی پرواز کو ایران کے مختلف ہوائی اڈوں پر اتارنے سے منع کیاگیاہے تو لوگوں نے حکومت کی اس اقدام کے خلاف مظاہرئے شروع کردیئے جن میں علما،طلبہ اور ایران کے باشعور عوام کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی اس طرح تہران سمیت مختلف علاقوں میں بختیار حکومت کے خلاف فسادات شروع ہوئے اور مظاہرین وپولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا اور فائرنگ کی آواز رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اس دوران تہران سمیت مختلف چھاونیوں میں موجود مسلح افواج کے آفیسران نے بھی بغاوت شروع کر دی اور عوام میں شامل ہو گئے اس طرح تہران کا ہر چوراہا میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا عوام کی دھرنوں اور پرتشدد مظاہروں کی نتیجے میں بختیار حکومت کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا اور اس نے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا اورامام خمینی کا خصوصی طیارہ تہران کے مہرآباد ایئر پورٹ پر اتر گئے جہاں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جم غفیرامام خمینی کی استقبال کے لئے موجود تھا لوگوں نے سڑکوں اور راستوں کو پھولوں اور جھنڈیوں سے سجایا ہوا تھا جب امام خمینی مہر آباد ائیر پورٹ سے باہر آئے تو لوگوں سے محتصر خطاب کیا جس میں عوامی حکومت قائم ہونے کی مبارک بادی گئی تقریبا پچاس لاکھ لوگوں نے اپنے محبوب قائد کا استقبال کرتے ہوئے مہرآباد ائیر پورٹ سے شہیدوں کی قبرستان بہشت زہراتک تقریبا پینتیس کلو میٹر کا سفر طے کیا امام خمینی نے بہشت زہرا میں ایرانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ایران میںعدل و انصاف پر مبنی عوامی اور دینی حکومت قائم ہو گئی ہے اور استعمار کی اشارہ پر چلنے والے شاہی حکومت کاخاتمہ ہو گیا ہے اس حکومت کی خاتمے کے بعد عوام کوآہستہ آہستہ انقلاب کی ثمرات ملنا شروع ہو جائینگے آج امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی انتقال کو تقریبا تینتیس سال بیت گئے ہے لیکن ایرانی قوم اسلامی انقلاب کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں اورجدید حیرت انگیزٹیکنالوجی ،معاشی انقلاب ،اقتصادی ترقی سمیت مختلف میدانوں میں ترقی کی راہ پر گامزان ہیںاور دنیا کی سپر پاور امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات رہے ہیں اورتمام تر بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کے باوجود بجلی ،گیس ،انٹرنیٹ ،جدید ریلوے کا نظام ،دفاعی اداروں کا قیام،شعبے طب میں نت نئی ایجادات (جن میں کورونا ویکسین کی ایجاد)جدید ترین میزائل ،خلائی سٹلائیٹ ٹیکنالوجی اور جدید ترین انڈسٹریز کا قیام اس بات کی دلیل ہے کہ ایرانی قوم آج بھی اسی جذبے سے سرشار ہے کہ جس کے تحت ایرانیوں نے اپنے محبوب قائد اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی سربراہی میں ظلم کے خلاف قیام کیا اور فتح ونصرت ان کا مقدر بنی جس کا آج ترتالیسویں سالگرہ منایا جا رہا ہے ۔

شیئر کریں

Top