اقتدار کا نشہ ……ایس ایم مرموی

موجودہ سیاسی ہنگامہ آراء اور معاشی بحران ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ مملکت پاکستان میں کوء سیاسی پارٹی ایسی نہیں جو اس مملکت پاکستان اور اس میں رہنے والوں کی بھلاء کے بارے میں سوچ سکیں اور مہنگاء کے اس طوفان سے نمرد آزما ہو کر ملک اور قوم کو بہتری کی طرف لے جاسکیں ہر کوء اپنا رونا رو رہا ہے سیاسی رسہ کشی اور سیاسی مفاد پرستی یعنی اقتدار کی اس دھکم پیل میں ہر کسی کو اپنی۔اپنی پڑی ہوء ہے کہ کسی طرح اقتدار کی رسی انکے ہاتھ لگے اور وہ مسند میں بیٹھ کر اپنی عیاشی اقربا پروری کو فروغ دے سکیں ان تمام پارٹیوں کا مشن اور منشور یہی ہے مگر بیوقوف عوام اس کو سمجھنے سے قاصر ہے اس قوم کا المیہ یہ ہے دھوکے پہ دھوکہ کھانے کے باوجود انکی غلامی سے نکلنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔
سیاستدان ملک و قوم اور غریب عوام کے نعرے تو ضرور لگاتے ہیں لیکن ان کیلئے سب سے مقدم ان کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہی ہوتے ہیں، ان کی سیاست کا محور و مقصد صرف اور صرف اقتدار کا حصول اور اپنے اقتدار کو قائم رکھنا ہی ہوتا ہے۔ چاہے نواز ،شہباز، زرداری یا مولانا ہوں ،چاہے وہ عمران خان ہوں ۔ عمران خان کے علاوہ باقی جتنے بھی ہیں معروثی سیاست کا شکار ہیں یہ کسی طرح مسند اقتدار کو دوسروں کو منتقل کرنا نہیں چاہتے بلکہ یہ دوسرے کسی کو اس کا اہل نہیں سمجھتے باپ بھائی سے نوادہ نواسی کی باریاں لگی ہوئی ہیں باقی سارے پھدو چالیس چالیس سال سے ان کے پیچھے ہاتھ باندہ کر حق غلامی کا حق ادا کر رہے ہیں یہ بزرگ سیاستدان اتنے بے شرم ہیں بال سفید ہوگئے ہیں ان دو پارٹیوں کے بچوں کی غلامی سے باہر نہیں نکل سکے آج بھی بڑے مودب بن کر ان کے بچوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کر بڑی بے شرمی سے کھڑے نظر آتے ہیں ان کے اندر شرم نام کی کوء چیز ہی نہیں ۔
یہ سب اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں دشمنیاں کر رہے ہیں۔ ملک کا خیال ہوتا، عوام کا احساس ہوتا تو مل بیٹھ کر موجودہ معاشی بحران کا کوئی حل نکالتے۔ لیکن جتنی باتیں ہو رہی ہیں، جو جو ملاقاتیں اور اپنی اپنی جماعتوں یا اتحادیوں کے درمیان مشاورت ہو رہی ہے اس سب کا مقصد صرف اور صرف اپنی اپنی سیاست کو بچانا اور اقتدار کو قائم رکھنا یا اس کا حصول ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو دیکھیں دو مہینے مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل گئیں پیٹرول کی قیمتیوں سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ڈالر بھی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے مجال ہے اس نے کبھی اپنے منہ سے کوئی لفظ نکالا ہو اس سے پہلے یہ موصوف چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنا کر واویلا مچاتے تھے اب اس کو یہ مہنگائی اور بیڈ گورننس کیوں نہیں نظر آتی اسکی وجہ ہے یہ حکومت کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس کے بچے اس کے بھائی بڑی بڑی وزارتوں پر برا جمان ہیں اور حکومت سے جعلی پرمٹ لیکر اپنا دھندہ چلا رہے ہیں انہیں کیا ضرورت مہنگائی کے ایشو پر بات کریں اسکی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاء میں ہے بس سادہ عوام کو سفید داڑھی اور اسلام کی جھوٹی محبت سے دھوکے مین رکھ کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے اسلام کا سہارا لیکر اپنے تمام بے سہارا اور نکمے بچوں اور بھایئوں کی پرورش کر رہا ہے اس کے منہ سے آج تک اسلام کے لئے لفظ نہیں نکلا بلکہ اسکو خود اسلام کی الف ب کا پتہ ہی نہیں ۔
پنجاب میں ن لیگ کی تحریک انصاف کے ہاتھوں تاریخی شکست کے بعد گزشتہ تین روز میں پاکستان کی معیشت کو جو حال ہوا ہے، وہ سنگدل سے سنگدل پاکستانی کابھی دل نرم کر سکتا ہے۔ لیکن مجال ہے ان سیاستدانوں کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو۔ تین روز میں ڈالر سولہ روپے مزیدمہنگا ہو گیا اور پاکستانی کرنسی کی یہ گراوٹ جاری ہے، سٹاک ایکسچینج کا برا حال ہے.بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں بھی پاکستان کی معیشت کے بارے میں منفی خبریں سنا رہی ہیں لیکن ایک طرف حکومتی اتحاد کے سربراہان قہقہے لگاتے ہوئے یہ فیصلہ سنا رہے ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے وہ اپنی حکومت کی مدت مکمل کریں گے ، دوسری طرف عمران خان ہیں ان کی ضد ہے وہ اس ملک کے حکمرانی کے اہل ہیں دوسرا کوء نہیں ایک حد تک اگر اسکی گہرائی میں جائیں تو وہ حق بجانب ہے ۔کرونا کی اس کروشل حالات میں جسطرح اس ملک کو دلدل سے نکالا اور غریب گھرانوں کو فی کس چودہ ہزار کی خطیر رقم لنگر کھانے اور صحت کارڈ ، کے زریعے غریبوں کس دس لاکھ روپے مہیا کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا مشکل فیصلوں اور بہترین حکمت عملی سے اپنا لوہا منوایا بلکہ عالمی اداروں کو معترف ہونا پڑا داد و تحسین دینی پڑی اس بنا پر حکمرانی کا حق رکھتے ہیں ۔
ملکی معیشت ڈوب رہی ہے ، ملکی سالمیت کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ آنے والے دن اور مہینے عوام کیلئے مہنگائی کا ایک بڑا طوفان لائیں گے ،لہذا یہ وقت ہے پاکستان کے بارے میں سوچنے کا!! یہ وقت ہے عوام پر جو ممکنہ مصیبتیں آنے والی ہیں ان سے بچاو کے لیے سر جوڑ کر ،اپنے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ،سوچ بچار کرنے کا لیکن نہ توحکومت نہ ہی عمران خان کے ایجنڈے میں مل بیٹھ کر پاکستان کی معیشت اور آنے والے مہنگائی کے نئے طوفان سے بچنے کیلئے کوئی خواہش دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کا اس بات پر زور ہے کہ جلد الیکشن نہیں کروائے اور حکومتی مدت پوری کرنی ہے۔ ملک اور عوام جائے بھاڑ میں بس اپنا اقتدار قائم رہنا چاہئے۔
عمران خان کسی سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں۔ چاہے کچھ ہو جائے، ان کا کہنا ہے کہ پہلے الیکشن کی تاریخ دو پھر بات کریں گے مہنگائی اور ڈوبتی معشیت کو دیکھ کر عمران کی پالیسی بلکل درست ہے موجودہ حکومت کو صرف اپنا اقتدار عزیز ہے غریب مرتا ہے تو مرجائے مگر مسند پر آنچ نہ آئے یہ کتنے ظالم لوگ ہیں۔ نہ ان کو ملک کا خیال ہے نہ عوام کا۔
ن لیگ کو پنجاب میں جس حالیہ شکست کا سامنا کرنا پڑا اس سے موجودہ وزیراعلی حمزہ شہباز اپنی اکثریت کھو چکے تھے ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حمزہ خود ہی استعفی دے دیتے اور تحریک انصاف کے امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے بحر کیف جیدے کرنی ویسے بھرنی آج بلاآخر ججوں نے فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں کر کے اپنی گری ساخت کو بحال کیا اور ایک جعلی وزیر اعلی کو چلتا کردیا تاریخ میں ججوں کا فیصلہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ۔ جنہوں نے کھیل کھیلا تھا وہ وقت سے پہلے مفرور ہوگئے۔
اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے جائز ناجائز تمام حربے ہر سیاسی پارٹی استعمال کر رہی ہے لیکن کسی پارٹی نے ہلکی سی خواہش تک کا اظہار بھی نہیں کیا گیا کہ خدارا پاکستان اور اس کی معیشت کا موجودہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے جو برا حال ہو رہا ہے، اس کو روکیں۔
پاکستان اور عوام کے نام پر سیاست کی سب باتیں جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہیں اور یہ بات ہمارے دونوں اطراف کے سیاست دان ثابت کر رہے ہیں باریاں لیکر عوام کی خدمت تو نہیں کر سکے البتہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ عوام اور ملک کی خدمت نام ہیاصل اقتدار کا نشہ ہے۔ اللہ عزیز وطن پاکستان کی حفاظت کرے ۔آمین

 

شیئر کریں

Top