اقوام عالم امن دستوں میں پاک فوج لیڈیز کا کردار ……تحریر……توقیر کھر ل

ملک عزیز پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جسکی مسلح افواج کی خواتین اہلکار بھی دنیا کے مختلف جنگ زدہ خطوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے فروری دو ہزار اٹھارہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے چھ ہزار سے زائد خواتین اور مرد فوجی اہلکار اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے مختلف خطوں میں سرگرم ہیں۔ابھی تک پاکستان کے امن فوجی مجموعی طور پر دنیا کے تیئس ممالک میں اکتالیس مشنز میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستانی خواتین کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس پہلی مرتبہ پاکستانی فوجی خواتین کی ایک پندرہ رکنی ٹیم کو ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں اعلی کارکردگی دکھانے پر اقوام متحدہ کی طرف سے ‘یو این میڈل سے نوازا گیا تھا۔امریکا کی اعلی سفارتکار برائے جنوبی ایشیائی امور ایلس ویلز بھی کونگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات انجام دینے والی پاکستانی خواتین سے متاثر ہیں۔یو این کے سیکرٹری جنرل نے بھی دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستا ن کی امن فوج میں خواتین کی کونگو میں خدمات پر خصوصی طور پر سراہا تھا۔اس وقت پاکستان آرمی کی 78خواتین امن دستے اقوام متحدہ کی چھتری تلے دنیا بھر میں مختلف کرداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ اب تک پاکستان سے تقریبا 450خواتین اقوام متحدہ کے امن دستوں کے مشنز میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔اوراعلی کارکردگی پر کئی اعزازات و تمغوں سے نوازا گیا۔ان خواتین میں ایک میجرسامیعہ بھی ہیں
میجرسامیعہ نے آئی ایس پی آر کے ڈرامہ صنف آہن میں بطورفوجی آفیسر کردار ادا کیا ہے۔میجر سامعیہ نے نا صرف کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن میں آپریشنل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں بلکہ انہوں نے سال 2019کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے سیکریٹری جنرل ایس آر جی سرٹیفکیٹ جیت کر بین الاقوامی پوڈیم پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔میجر سامیعہ اس کی استقامت اور لگن کو مئی 2020 میں عالمی توجہ حاصل ہوئی جب اقوام متحدہ نے اس کی تصویر ٹویٹ کی اور اسے پیس کیپر آف دی ڈے کا نام دیا۔
ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن پر آپریشنل پلاننگ آفیسر، میجر سامعیہ کو 6 اپریل 2020کو پاکستان واپس آنا تھا مگر کرونا کی صورتحال کی وجہ سے میں گھر نہ پہنچ سکی تھی۔وہ کہتی ہیں میری دو سال کی بیٹی مجھ سے کہتی تھی کہ ماما آپ کب واپس آئیں گی، میں پریشان ہو رہی ہوں، وہ بتاتی ہیں کہ کام کے لیے میرا جنون مزید بڑھ گیا اور اس مصیبت کا مقابلہ ہم مل کر ہی کر سکتے ہیں۔میجر سامیعہ رحمان کہتی ہیں اقوام متحدہ کے جھنڈے کے نیچے کام کرنا اور جمہوری جمہوریہ کانگو میں امن و استحکام کے لیے نیلے رنگ کا بیریٹ پہننا خواتین امن فوجیوں کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
امن دستوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین افسران میں دوسرا نام میجر فرح نازین بھٹہ ہے۔آپ پاک فوج کی ابتدائی لیڈی کیڈٹس میں سے ایک ہیں آپ کی کارکردگی بھی قابل فخر ہے۔پاکستانی دستے کی میجر فرح نازنین بھٹہ کو 20اپریل 2020کو شاندار کارکردگی کی بنیاد پر اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازاگیا تھا۔میجر فرح نازنین بھٹہ مونسکو فورس ہیڈ کوارٹرز، گوما میں ملٹری اسٹاف آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

شیئر کریں

Top