تعلیمی اداروں میں داخلے کیلیے ڈرگ ٹیسٹ سے متعلق قانون سازی پر اتفاق

123-692.jpg

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات نے تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئےڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینےکے حوالے سے قانون سازی پر اتفاق کرلیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول کا اجلاس چیئرمین صلاح الدین ایوبی کی زیر صدارت ہوا جس میں اے این ایف حکام نے تعلیمی اداروں کے اردگرد منشیات سپلائی کی روک تھام و ملوث افراد کے خلاف ایکشن بارے بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2022 میں تعلیمی اداروں کے اردگرد آپریشنز کرکے 160کلو منشیات برآمد کی گئی ہے، آپریشنز کے دوران 63 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ منشیات میں116 کلو حشیش، 18 کلو افیون، 9 کلو ہیروئن اور ساڑھے 7 کلو آئس وغیرہ شامل ہے۔
رکن کمیٹی سینیٹر عالیہ کامران نے کا تعلیمی اداروں یے بچوں میں منشیات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بہت الارمنگ صورتحال ہے، منشیات آ کہاں سے رہی ہے؟ منشیات ہمارے تعلیمی اداروں تک کیسے پہنچ رہی ہے؟ چیئرمین کمیٹی نے کا کہنا تھا تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے ڈرگ ٹیسٹ کی شرط تو رکھ سکتے ہیں۔
جس پر عالیہ کامران نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں قانون سازی کرنا ہوگی جس پر ڈیپٹی سیکرٹری وزارت انسداد منشیات صبیو سکندر جلال نے شرکا کو آگاہ کیا اس حوالے سے سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی بل منظور کیا ہے جس میں تعلیمی اداروں میں ویجیلیننس، کمٹیاں تشکیل دینے سمیت دیگر امور شامل ہیں بل اب سینٹ میں پیش ہونا یے جو منطوری کے لئے قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بھی آئے گا۔
جس پر شرکا کمیٹی نے اتفاق کیا کہ اسی بل میں تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت ڈرگ ٹیسٹ و اسکے بعد دو ماہ کےوقفے سے ایسے ٹیسٹ کرانے کی شق شامل کردی جائے گی یا پھر نیا بل پیش کردیا جائے گا جس پر کمیٹی اراکین نے اتفاق کرلیا۔

شیئر کریں

Top