تعلیم لازوال دولت ، جس کو جتنا زیادہ خرچ کیا جائے گھٹنے کی بجائے بڑھ جاتی ہے،فتح اللہ

g11-1.jpg

گلگت (بادشمال نیوز)نیو بیکن پبلک سکول بسین پائین کی بارویں سالانہ تقریب تقسیم انعامات، صوبائی وزیر انفارمیشن، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فتح اللہ خان نے بحیثیت مہمان خصوصی جبکہ ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرپرسن سٹیڈنگ کمیٹی برائے وومن ڈیویلپمنٹ اینڈ سوشل ویلفیئر رانی صنم فریاد میر محفل شریک ہوئے۔ اس موقع پر معزز مہمانوں نے سالانہ امتحانات میں پوزیشن لینے والے بچوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔ صوبائی وزیر انفارمیشن، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فتح اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم وہ لازوال دولت ہے جس کا جتنا زیادہ خرچ کیا جائے تو گھٹنے کی بجائے بڑھ جاتی ہے، ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ بندوق کلچر پر فخر کرتے تھے، وہ جہالت کا زمانہ تھا اور تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ آج لوگ بندوق کو لیکر گھومنے پھرنے میں لوگ عار محسوس کرتے ہیں۔ بچے مستقبل کے معمار ہیں جن کا اصل ہتھیار قلم ہے۔ میں اس سکول کے پرنسپل محمد نعیم قریشی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کی محنت رنگ لے آئی ہے۔ بسین جیسے پسماندہ گائوں میں بہت ہی اچھے معیار کا تعلیمی ادارہ قائم کرنا معمولی بات نہیں ہے۔ آج سے چار پہلے یہاں آیا تھا اور آج چار سال بعد بہت ہی اچھی و مثبت تبدیلی دیکھ رہا ہوں۔ جب تک حکومت میں ہیں ان کے ہر معاملے میں معاونت و مدد فراہم کریں گے۔ فی الحال اپنی طرف سے سکول کے لئے پچاس ہزار اور بائے سکوٹس ٹیم کے لئے دس ہزار روپے نقد کا اعلان کرتا ہوں۔ ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرپرسن سٹیڈنگ کمیٹی برائے وومن ڈیویلپمنٹ اینڈ سوشل ویلفیئر رانی صنم فریاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں فتح اللہ خان کو یہاں آمد پر بسین کے عوام کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہوں۔ انہوں نے صوبائی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور صوبے میں آپ لوگوں کی حکومت ہے تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لئے کچھ کریں۔ بالخصوص فتح اللہ خان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک دلیر اور خاندانی فرد ہونے کے ناطے تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لئے ضرور کام کریں گے۔ رانی صنم فریاد نے مزید کہا کہ چالاکی کی سیاست ہمیں نہیں آتی کہ جس کے ذریعے سے سادہ عوام کو بیوقوف بنایا جائے، عملی طور پر جو بھی کام کر رہے ہیں آپ کے سامنے ہے۔ میں اس سکول کے بچوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے 25 لاکھ روپے کے اے ڈی پی گرانٹ کا اعلان کرتی ہوں اور بائے سکوٹس ٹیم کے لئے مبلغ دس ہزار روپے دیتی ہوں۔ جب تک اسمبلی میں ہوں آپ لوگوں کی آواز بن کر رہوں گی۔ انہوں نے بھی نیو بیکن سکول کے پرنسپل محمد نعیم کی خدمات کو سراہا۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ ڈائریکٹر ایجوکیشن امیر خان، مذکورہ سکول کے پرنسپل محمد نعیم قریشی اور نواب عالم عثمانی نے کہا کہ اگر والدین اپنے بچوں سے مخلص ہیں تو انہیں سمارٹ موبائل کی لعنت سے دور رکھنا ہوگا۔ بصورت دیگر نہ صرف ان کے بچوں کا مستقبل تباہ ہوگا بلکہ معاشرہ بھی بگڑ جائے گا۔ کوئی بچہ یا بچی تعلیم کے میدان میں اگے بڑھے گی تو وہ فتح اللہ خان کی طرح منسٹر بنے گا اور قابل بچیاں رانی صنم فریاد کی طرح اسمبلی میں قوم کی آواز بنیں گی۔ قابل ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، وکیل وغیرہ بننے کے بھی ضروری ہے کہ تعلیم کے میدان میں مقابلے کا رحجان پیدا کیا جائے۔

شیئر کریں

Top