حکومت تنخواہوں اورپنشن میں اضافہ کرے۔۔۔۔۔ اداریہ

download-1.jpg

ملک بھرکی طرح گلگت بلتستان میں بھی عوام مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں 2018کے بعدمہنگائی میں جس تیزی سے اضافہ ہوااس کی گزشتی 74سالوں میں مثال نہیں ملتی،کیونکہ آٹا،چینی ،گھی دال اورادویات کی قیمتوں کااگرجائزہ لیاجائے توقیمتوں میں 2018 کے بعد3سوفیصداضافہ ہوچکاہے اس طرح اگرسرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی بات کی جائے جس طرح مہنگائی بڑھی ہے اس حساب سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہواگزشتہ بجٹ کے بعدبھی سرکاری ملازمین تنخواہوں اورپنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافے کامطالبہ کرتے رہے لیکن حکومت صرف یقین دہانیاں ہی کراتی رہی ، اسطرح گلگت بلتستان میں بھی سرکاری ملازمین مہنگائی میں اضافہ کیخلاف احتجاج کررہے ہیں ان کاموقف بھی یہی ہے کہ موجودہ حالات میں تنخواہ پر گزارہ کرناانتہائی مشکل ہے اس لئے حکومت مہنگائی کے حساب سے تنخواہوں اورپنشن میں اضافہ کرے ،لیکن حکومت بھی بے بس نظرآرہی ہے کیونکہ موجودہ وفاقی حکومت کوایک ماہ کاعرصہ گزرچکاہے اتنے قلیل وقت میں ملکی معاشی صورتحال کوکنٹرول کرنااتناآسان نہیں کیوں عالمی سطح پر پٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان میں تیل کی موجودہ قیمتیں جوکہ کم ہیں کیونکہ ڈالرکی موجودہ قیمت انٹرمارکیٹ میں 200روپے سے تجاوزکرگیاہے وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل جنہوں نے گزشتہ دنوں قطرمیں آئی ایم ایف حکام سے ملاقات کی تھی ،اس طرح اگرپاکستان کے آئی ایم ایف کیساتھ معاملات طے ہوجاتے ہیں تومعیشت کوکچھ سہاراملنے کی توقع ہے دوسری جانب ملک کی معاشی صورتحال خراب ہونے کیساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام کامسئلہ بھی درپیش ہے سابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ حکومت کوتسلیم کرنے سے انکارکردیاہے انکا موقف ہے کہ انکی حکومت کوامریکہ نے سازش کے تحت ہٹایاہے لہذافوری انتخابات کااعلان کیاجائے اسی مقصدکیلئے انہوں نے ملک بھرمیں جلسے منعقدکئے اورگزشتہ روزپشاورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 25مئی کواسلام آبادکی طرف لانگ مارچ کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ جب تک شفاف الیکشن کااعلان نہیں کاجاتااس وقت سے اسلام آبادمیں احتجاج جاری رہے گادوسری جانب وفاقی حکومت کاموقف ہے کہ انتخابات 2023سے پہلے نہیں ہوں گے اب اگراس طرح سیاسی کشیدگی ہوتواس کااثرملک کی معیشت پر بھی پڑتاہے ،مہنگائی کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا کے لوگ پریشان ہیں کم تنخواہ سے گھر چلانا بہت مشکل ہوتا ہے اس طرح سیاسی افراتفری سے عوام کی مشکلات مزیدبڑھیں گی حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کوعوام کی مشکلات کااحساس کرتے ہوئے ملک کومسائل سے نکالنے کیلئے ملکرکام کرناچاہئے کیونکہ سب سے پہلے ملک ہے اگرملک ہے توہم ہیں سیاست چلتی رہے گی خاص طورپر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان جسکی کے پی کے ،گلگت بلتستان اور آزادکشمیرمیں حکومت ہے انکوسیاسی ذمہ داری کامظاہرہ کرناچاہئے کیونکہ 2013میں بھی انہوں نے سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کی حکومت کیخلاف لانگ مارچ کرکے 123دن کادھرنادیاتھا اسکے بعدعمران خان جب اقتدارمیں آئے تواپوزیشن کی جانب سے انہیں کوئی خاص مزاحمت کاسامنانہیں پڑاحالانکہ انہوں نے خوددھرنے کے دوران وزیراعظم ہائوس ،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر بھی دھاوابول دیاتھالیکن ان کے دورحکومت میں بلاول بھٹوزرداری کی قیادت میں لانگ مارچ ڈی چوک پر پہنچ کر 2گھنٹے کے بعدختم ہوگیاتھا اس سے قبل مولانافضل الرحمن نے بھی پی ٹی آئی حکومت کیخلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے لانگ مارچ کیاتھا لیکن وہ پشاورموڑتک ہی محدودرہااس دوران دھرنے کے شرکاء نے آگے بڑھنے کی کوشش تک نہیں کی بعدمیں انہوں نے خوددھرنے کے خاتمے کااعلان کیا اور ملازمین اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کررہے ہیں گلگت بلتستان کے سرکاری ملازمین نے آئندہ ماہ پیش ہونیوالے بجٹ سے پہلے اپنا مطالبہ وفاقی حکومت کو پیش کردیا ملازمین کا کہنا ہے کہ آئندہ جون میں پیش ہونیوالے وفاقی بجٹ میں ملک میں دن بدن بڑھنے والی مہنگائی کو کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سال تنخواہوں میں پچاس فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے کیونکہ گزشتہ کسی حکومت کے دور میں خاطرخواہ بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ سے سرکاری ملازمین میں سخت تشویش ہوئی ہے اکثرملازمین کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ حکومت ہے یہ دونوں سیاسی جماعت نے گزشتہ ادوار میں کبھی بھی کسی ملازمین اور پاکستان خاص کر جی بی کے عوام کو مایوس ہونے نہیں دیا ہے اس لیے امید ہے کہ اس سال بھی وفاقی حکومت جی بی عوام کو کبھی مایوس نہیں کرکے تنخواہوں میں خاطرخواہ اضافہ کرکے عوام کے دل جیت لیں گے۔وفاقی حکومت 10جون کوبجٹ پیش کرنے جارہی ہے ابھی دیکھنایہ ہے کہ حکومت تنخواہوں اورپنشن میں کتنااضافہ کرتی ہے۔

 

شیئر کریں

Top