خواہشات کا سمندر،تحمل مزاجی کا فقدان۔۔ علی رضا رانا

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے، اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے، اگر وہ ان صلاحیتوں کا بروقت اور صحیح معنوں میں استعمال کرے تو وہ اپنے فیصلوں میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر”سوچ” سے ہی جنم لیتا ہے، سوچ کی مختلف اقسام ہیں جیسے مثبت سوچ، منفی سوچ، مثبت سوچ کی متضاد منفی سوچ ہے جو شکست، ناکامی، ناامیدی، غصہ، بدمزاجی، مایوسی، دوسروں کو نیچا دکھانے کی خواہش وغیرہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔منفی سوچ رکھنے والے انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص انہیں دھوکہ دیرہا ہے، نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کچھ کرتا دیکھ سکتے ہیں، یاد رکھیں منفی سوچ اور پاؤں میں موچ انسان کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتی، سوچ سے الفاظ بنتے ہیں، الفاظ سے عمل، عمل سے کردار اور کردار سے آپ کی پہچان ہوتی ہے۔ہر انسان کی زندگی پراُس کی سوچ اور خیالات اثر انداز ہوتے ہیں، شیکسپر نے کہا تھاکہ ”ہم وہ نہیں ہوتے جوکرتے ہیں بلکہ ہم وہ ہوتے ہیں جو سوچتے ہیں”… یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ کرسکیں گے اور اگر آپ یہ سوچیں کہ نہیں کرسکتے تو کچھ بھی کرلیں وہ کام نہیں کرسکیں گے، مثبت اور منفی خیالات انسان کیذہن میں ہر وقت آتے رہتے ہیں، اسی سوچ وفکر سے انسانی جذبات کی آبیاری ہوتی ہے کیونکہ خواہشات اس وقت آگے لے جاتی ہیں جب آپ خود کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، انسانی فطرت کے گہرے لاشعور میں ان گنت خواہشات اور آرزوئیں مچلتی رہتی ہیں، جیسے سمندر کی تہہ میں موتی اورہیرے چمکتے ہیں، خواہش اور آرزو زندگی کی علامت، جستجو اور جدوجہد کا جذبہ اور انسانی زندگی کو متحرک رکھنے کا باعث بنتی ہیں، آرزوئیں اور خواہشات ختم ہوجائیں تو انسان مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں کھو جاتا ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب تک انسان کی آنکھ کھلی ہیاوروہ زندہ ہے، تب تک آرزوئیں جنم لیتی رہتی ہیں اور انسان ان کا پیچھاکرتا رہتا ہے اور مختلف راستے اور وجوہات کی تلاش میں رہتا ہے جو اس کو مختلف منزلوں کی دوری کی آگہی دیتی ہیں، کیونکہ ہمارا ذہن خیالات بنانے کی مشین ہے جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی خیال بنتا اور ٹوٹتا رہتا ہے، جو کہ ہم کچھ نہ کچھ سوچتے ہی رہتے ہیں، کبھی اچھا کبھی برا، کبھی مثبت اور کبھی منفی، مثبت سوچ کا نتیجہ بھی مثبت نکلتا ہے، کامیاب زندگی، مثبت سوچوں اور رویوں جب کہ ناکام زندگی منفی سوچوں اور رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے اور سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے، زندگی کا ہر منظر سوچ سے جنم لیتا ہے اور سوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک منفی سوچ کا حامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے، ہماری زندگی پر ہماری سوچ اور خیالات مستقل طور پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ اسی سوچ کو فلسفی دیکارت نے یوں کہہ کر اپنے وجود کی دلیل دی:”میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں!” اس سوچ کے ہم نوا شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ”ہم وہ نہیں ہوتے جو کرتے ہیں بلکہ ہم وہ ہوتے ہیں جو سوچتے ہیں۔’ اس طرح یہ بات واضح ہوتی کہ سوچ جاری ہے اور ہم جو سوچ رہے ہیں وہ اس وقت ضروری نہیں ہے، کیونکہ سمندر میں لہریں اٹھتی ہیں اور اچانک وقت تبدیل ہوتا ہے اور لہریں کمزور پڑھ جاتی ہیں اور پانی پیچھے ہونے لگتا ہے، ہمیں بحثیت انسان صبر شکر سے کام لینا چاہیے، خواہشات ضرور ہوں مگر ان کے عقائد سیکھنے کی ضرورت ہے، انسان کااپنی خوہشات کے آگے بے بس ہونے کی ایک بڑی وجہ اللہ کے دئیے ہوئے پر صبر و شکر ادا کرنے کی بجائے لالچ و ہوس میں مزید کی طلب رکھنا ہیانسان کی زندگی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن اسکی خواہشیں مرنے تک اُس کے ساتھ رہتی ہیں انسان کی خواہشات اور لالچ و حوس کے بارے میں نبی کریم ۖ نے ارشاد فرمایا: اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہو تو وہ تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے) سچی توبہ کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ٦٣٤٦)میں یہ سمجھتا ہوں سب اس جگہ رہے جانا ہے اور انسان کو خالی ہاتھ اللہ تعالیٰ کی جانب لوٹ جانا ہے پھر کیوں اتنا سوچیں، کیوں اتنا آگے جاکر کریں، کیوں نہ خود کو سکون دیں، کیوں نہ خود کو صبر کی تلقین دے، کیوں نہ خود میں تحمل مزاجی لائیں، کیوں نہ خود کو دیگر سوچوں، بے جا خواہشات سے دور رکھیں، اللہ نے جتنا دیا ہے اس پر صبر کریں کیونکہ اس مختصر زندگی میں جس کے اگلے لمحے کا کسی کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس نے زندہ بھی رہنا ہے یا نہیں وہ ایسے منصوبے بناتا ہے کہ جیسے اسے مرنا ہی نہ ہو ، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے
اللہ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے(سورة آل عمران 3ـ185)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صبر شکر والا بنا دے اور غیر ضروری خواہشات اور سوچوں سے محفوظ رکھے آمین یارب العالمین۔

شیئر کریں

Top