دوستی کا پیغام! خالد خان

کہتے ہیں کہ ایک دوست نے دوست سے پوچھا کہ دوست کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ دوست نے مسکرا کر بتایا کہ پاگل ! ایک دوست ہی تو ہے جس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا اور جہاں مطلب ہو وہاں دوست نہیں ہوتا۔دوستی اخلاص اور پاکیزہ رشتے کا نام ہے۔دوستی مقدس ، لازوال اور ایک نایاب رشتہ ہے ۔دوستی دو افراد میں ہوسکتی ہے اور دو ممالک کے درمیان بھی ہوسکتی ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کوہ ہمالیہ سے بلند اوربحیرہ عرب سے گہری ہے۔پاک چین دوستی اتنی پائیدار اور مضبوط ہوچکی ہے کہ اب وہ ایک ضرب المثل بن چکی ہے۔ پاک چین دوستی پر نہ صرف حکمران بلکہ عوام بھی فخر و ناز کرتی ہے۔چین نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا میں تجارت اور امن کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ امید ہے کہ پاک چین تعلقات اور دوستی کی طرح پاک چین افغانستان کے تعلقات اور دوستی سے یہ علاقہ جدل کی بجائے امن اور تجارت کامرکز بن جائے گا۔ دوستی کے بارے میںحضرت علی ؓ سے منسوب اقوال ہیںکہ ۔”صرف دو لوگ مقدر والے ہوتے ہیں ،ایک وہ جہنیں وفادار دوست ملتا ہے اور دوسرا وہ جن کے ساتھ ماں کی دعائیں ہوتی ہیں۔” اچھا دوست ہاتھ اور آنکھ کی طرح ہوتا ہے جب ہاتھ کو درد ہوتا ہے تو آنکھ روتی ہے اور جب آنکھ روتی ہے تو ہاتھ آنسو صاف کرتا ہے۔”حضرت علیؓ نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ “اپنے دوست کے دشمن سے دوستی مت کرو۔ایسا کرنے سے تم اپنے دوست کے دشمن بن جاؤ گے۔”دنیا کا امیر شخص وہ ہے جس کے دوست مخلص ہوں۔۔” پاکستان ایک خوش نصیب ملک ہے جس کا چین جیسا مخلص دوست ہے جو ہر موقع پر ساتھ دیتا ہے۔چین افغانستان کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات مزید بہتر کرنا چاہتا ہے۔پاکستان اور افعانستان کے درمیان کشیدگی کے کئی ادوار رہے ہیں۔ 1947 ء میں افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سمیت مختلف تنازعات رہے لیکن اب دھیر دھیرے حالات تبدیل ہورہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان خلیج کم ہورہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی آرہی ہے جس سے پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے مزیدقریب ہوجائیں گے۔اس پیش رفت میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور پاک آرمی کے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کا اہم اور کلیدی کردار ہے۔ افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چےئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا اورانھوں نے اس کے موقع پر کہا کہ”افغان عوام کی طرف سے گرمجوشی اور دوستی کا پیغام لایا ہوں،ہم خود مختار افغانستان چاہتے ہیں جس میںکوئی دہشت گردنہ ہو جو ہمارے ہمسائیوں کو نقصان پہنچائے۔افغانستان میں دہشت گردوں کے قدموں کے نشان نہیں چاہتے اور نہ ہی اپنی سر زمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔ پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردتنظیموں کی تخریبی سرگرمیوں کا سامنا کرکے بھاری قیمت ادا کی۔دونوں ممالک کو کورونا، معیشت، دہشت گردی اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔قیام امن کے لئے پاکستان کے اہم کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔کابل اور اسلام آباد کو تمام معاملات میں ایک دوسرے کو معاونت فراہم کرنا ہوگی، یہ باہمی تعلقات میں گرم جوشی کا نیا دور ہے ، دونوں ممالک میں اچھے دور کا آغاز ہوا ہے ،جس سے موقع ضائع کئے بغیر فائدہ اٹھانا ہوگا۔” افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چےئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا یہ دورہ پاکستان اور بیان مثبت ہے۔اسلام آباد اور کابل کو تمام معاملات میں ایک دوسرے کو معاونت فراہم کرنی چاہیے۔پاکستان نے طالبان اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کو ایک میز پر بیٹھایا اور ان کے آپس میں معاملات حل کروائے۔پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ کرایا ۔امریکہ اس مثبت رول ادا کرنے پرپاکستان سے خوش ہے ۔ امریکہ طویل جنگ سے بھی اکتا گیا ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔جنگوں سے ترقی اور خوشحالی کا راستہ بند ہوجاتا ہے ۔طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاملات حل ہونے چاہےیں اور اس پر کام ہورہا ہے۔افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بہت سے معاملات حل ہوگئے ہیں اور مزید کے لئے پیشرفت جاری ہے۔پاکستان تقریباً چالیس سالوں سے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور اس سے افغان مہاجرین بے حد خوش ہیں۔افغان مہاجرین پاکستان سے اپنے ملک اور وطن کی طرح محبت کرتے ہیں۔ افغان مہاجرین نے گذشتہ چالیس سالوں میں مجموعی طور پر اچھا وقت گذارا ہے اور اچھے مہمان کا کردار ادا کیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے بہتر اور استوار تعلقات سے امن وامان قائم ہوجائے گا۔گذشتہ چالیس سالوں میںافغانستان اور پاکستان نے بڑے غم والم دیکھے ہیں۔اس جنگ وجدل میںقیمتی جانوں کا ضیائع ہوا اوربڑی تعداد میںافراد مضروب ہوئے۔معیشت میںدونوں ممالک کا کھربوں ڈالروں کا نقصان ہوا۔واضح ہوکہ گولی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ معاملات ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان میں امن اور آشتی آئے گی۔پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات سے یہ خطہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اب اس خطے میں لڑائی جھگڑے اور دنگ و فساد کی بجائے تمام تر توجہ تجارت اور بزنس پر مرکوز کرنی چاہیے۔تجارت سے خطے میںترقی اور خوشحالی آئے گی۔ ماضی کی غلط فہمیاں کو فراموش کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔عوامی سطح پر اس خطے کے لوگوں کے آپس میں تعلقات ہزاروں سال پر محیط ہیں۔ علاوہ ازیں پاک افغان سرحد پر دونوںا طراف میں لوگوں کے آپس میں رشتے داریاں ہیں اور آنا جانا لگا رہتا ہے۔پاک افغان سرحد پر ایسے انتظامات ہونے چاہییں جس سے پُرامن لوگوں کو رشتہ داروں کی خوشی وغمی میں آنے جانے میںدشواریاں نہ ہوں۔ نفرت کی بجائے محبت کا دورہ شروع ہونا چاہیے۔اب کوئی وقت ضائع کئے بغیر ترقی کا سفر شروع کرنا چاہییے۔ پاکستان ،چین ،افغانستان اور روس کو مل کر تجارت کے فروغ کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔پاکستان ، چین ، افغانستان اور روس چاروں ممالک کو آپس میںسی پیک کے ذریعے ملنا چاہیے۔سی پیک میں روڈز ، ریل ویز ، صنعتی زونز اور دیگرتجارتی مراکز کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔اس سے بے روزگاری اور غربت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ خوشحالی اور ترقی کا نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔ اب ہم نے اپنے جوانوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں بلکہ قلم ،سائنسی، ٹیکنالوجی اور صنعتی آلات دینے ہیں۔ ہمارا سب کیلئے گرمجوشی اور دوستی کا پیغام ہے۔ ہمارا سب کیلئے محبت اور الفت کا پیغام ہے ۔ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر آگے بڑھنے کا عہد کرنا چاہیے۔جنگ نہیں امن،نفرت نہیں محبت ، حیوانیت نہیں انسانیت ،ناخواندگی نہیں خواندگی،بے روزگاری نہیں روزگار ، بندوق نہیں قلم ،بیماری نہیں صحت اور پسماندگی نہیں ترقی کیلئے ہم سب کو ایک ہونا چاہیے اور اجتماعی کوشش سے نئی نسل کو ترقی یافتہ اور خوشحال خطہ دینا چاہیے۔ الغرض امن اور آشتی ، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان استوار تعلقات ناگزیر ہیں۔

شیئر کریں

Top