’روسٹرم پر آکربات کرناچاہتا ہوں‘، ظاہر جعفر کی درخواست پر جج نے کیا کہا؟

l_362538_014030_updates.jpg

نورمقدم قتل کیس میں ملزمان پر فرد جرم 14 اکتوبر کو عائد کی جائےگی، تمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں ملزمان کی ڈیجیٹل ثبوت کی کاپی مہیا کرنے کی درخواست خارج کردی گئی۔

آج مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 6 ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

نورمقدم قتل کیس میں فردجرم کیلئے 14 اکتوبرکی تاریخ ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مقررکی۔

ظاہر جعفر سمیت 6 ملزمان کو عدالت پیش کیا گیا، مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ روسٹرم پر آکربات کرناچاہتے ہیں جس پر جج عطا ربانی کا کہنا تھا کہ ابھی ضرورت نہیں، ٹرائل میں آپ کو بھی سنیں گے۔

ملزمان کی ڈیجیٹل ثبوت کی کاپی مہیا کرنے سے متعلق درخواست خارج کر دی گئی۔

خیال رہے کہ 20 مئی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

شیئر کریں

Top