سال 2022ء پاکستان اسٹاک ایکس چینج کیلیے انتہائی بھیانک ثابت ہوا

123-30.jpg

کراچی: سال 2022ء پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے انتہائی بھیانک ترین ثابت ہوا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک میں سیاسی تصادم اور دگرگوں معاشی حالات حصص کی تجارت پر اثر انداز رہے، سال 2022ء میں ہنڈریڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر 4175.62 پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی جس سے سال کے اختتامی سیشن میں 100 انڈیکس گھٹ کر 40420.45 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

سال 2022ء کے دوران مجموعی مندی سے سرمایہ کاروں کے 11.83 کھرب روپے سے زائد کا سرمایہ ڈوب گیا جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی گھٹ کر 65 کھرب 82کروڑ 78لاکھ 17 ہزار 421 روپے پر آگیا۔

 سال 2022ء؛ ڈالر کے مقابل روپے کی قدر میں 31.9 فیصد کمی

تقویمی سال کے دوران 15 اپریل کو ہنڈریڈ انڈیکس کی بلند سطح 46601.54 رہی جبکہ 25 جولائی کو ہنڈریڈ انڈیکس کم ترین سطح 39844.02 پوائنٹس رہی۔ سرمایہ کاروں نے سال بھر کے دوران سیاسی اتار چڑھاؤ معیشت کی خراب صورتحال کے سبب طویل المدت سرمایہ کاری کے بجائے مختصرالمدت سرمایہ کاری اور پرافٹ ٹیکنگ کو ترجیح دی۔

 رواں سال سونے کی فی تولہ قیمت میں 58 ہزار روپے کا اضافہ ہوا

ترسیلات زر, زرمبادلہ ذخائر اور روپیہ کی قدر گھٹنے سے کاروبار کی سمت غیر واضح رہی جبکہ آئی ایم ایف پروگرام میں تین بار تعطل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔

رواں سال کے لیے 31ارب ڈالر کی مطلوبہ ذرمبادلہ کی ضرورت کا بندوبست نہ ہونے سے سرمایہ کاری سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ ڈالر کی عدم دستیابی اور ایل سیز نہ کھلنے سے صنعتوں کے خام مال کی درآمدات متاثر رہی اور خام مال کی عدم دستیابی سے متعدد شعبوں کی صنعتیں بندش کا شکار ہوئیں۔

تقویمی سال کے دوران سپر ٹیکس کے نفاذ سمیت دیگر ٹیکسوں کی شرحوں میں اضافے سے صنعتوں کا منافع متاثر رہا۔ شرح سود میں اضافہ اور مہنگائی نے بھی حصص کی تجارت پر منفی اثرات مرتب کیے۔

شیئر کریں

Top