قانون میں ترمیم؛ ڈھائی ارب سے زائد کے کرپشن ریفرنسز نیب کو واپس

123-38.jpg

کراچی: نیب آرڈیننس میں ترمیم کے بعد احتساب عدالتوں نے 50 کروڑ سے کم کے ریفرنسز جن کی مجموعی مالیت ڈھائی ارب سے زائد بنتی ہے، نیب کو واپس بھیج دیے۔

ذرائع کے مطابق ایک ماہ کے دوران ڈھائی ارب روپے سے زائد کرپشن ریفرنسز نیب کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ احتساب عدالت نے آرڈیننس میں ترمیم کے بعد دائر درخواستیں منظور کرکے ریفرنسز نیب کو واپس بھیجے۔
عدالتی حکم کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کے فنڈز میں 100 ملین سے زائد کی کرپشن کا واپس بھیج دیا گیا۔ ملزمان میں سابق وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر اقبال و دیگر ملزم نامزد تھے۔
سابق ڈائریکٹر کے ڈی اے ناصر عباس و دیگر کیخلاف ریفرنسز بھی نیب کو واپس بھیج دیے گئے۔ ناصر عباس و دیگر کیخلاف 354 اور 200 ملین روپے کی کرپشن کے ریفرنسز زیر سماعت تھے۔
اسی طرح معذور بچوں کے فنڈز میں 250 ملین روپے کی کرپشن کا ریفرنس بھی واپس نیب کو بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نیب کو واپس بھیجے جانے والے دیگر ریفرنسز میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے ریفرنس بھی شامل ہیں۔
احتساب عدالت نے نیشنل بینک سوک سینٹر برانچ میں 400 ملین کی خورد برد کا ریفرنس بھی واپس بھیج دیا۔ ملزمان جن کے ریفرنسز واپس بھیجے گیے ہیں، ان میں سیف اللہ، آصف صدیقی اور ہارون اقبال، منظر امام مہکری، اعجاز احمد بلوچ اور کرم دین پنہیار شامل ہیں۔
عدالت نے ان ریفرنس میں جیلوں میں قید ملزمان کی ضمانتیں بھی منظور کرلی ہیں۔ عدالت کے مطابق تمام ملزمان کیخلاف 500 ملین سے کم کی کرپشن کے ریفرنسز زیر سماعت تھے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس میں حالیہ ترمیم کے بعد احتساب عدالت کو اب ان ریفرنسز کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ نیب ان ملزمان کیخلاف اب متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔ مفرور ملزمان کیخلاف بھی نیب قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

شیئر کریں

Top