مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کرنے والا ہندو انتہا پسند گروپ کا کارندہ نکلا

2268402-shoukattarin-1641556993-951-640x480-4.jpg

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں مسلم اور دیگر اقلیتی خواتین کی بلی بائی نامی ایپ پر نیلامی کرنے والے مرکزی ملزم کا تعلق ہندو انتہا پسند گروپ سے نکلا جبکہ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے جمعرات کے روز بلی بائی ایپ کے مرکزی ملزم نیرج وشنیو کو آسام کے علاقے جورہاٹ سے گرفتار کر کے دارالحکومت منتقل کیا۔گرفتار ہونے والے ملزم کو آج عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تفتیشی افسر کی استدعا پر جج نے نیرج کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پپولیس کے حوالے کردیا۔این ڈی ٹی وی کو پولیس ذرائع نے بتایا کہ نیرج کا تعلق ہندو انتہا پسند گروپ سے ہے اور اسے اپنی اس حرکت پر کوئی پچھتاوا یا شرمندگی نہیں بلکہ وہ بالکل مطمئن اور اس عمل کو صحیح قرار دے رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق نیرج کی عمر 21 سال ہے اور اس نے حال ہی میں بھوپال انسٹی ٹیوٹ سے بی ٹیک مکمل کیا۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے مختلف ڈیوائسز برآمد ہوئیں ہیں جن کے ذریعے وہ خواتین کی تصاویر آن لائن پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرتا تھا۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ نیرج نے 27 سے زائد مسلم اور سکھ خواتین کی تصاویر آن نیلامی کے لیے شیئر کیں تھیں، جس کا وہ اعتراف بھی کرچکا ہے۔تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلی بائی ایپ کو نومبر میں تیار کر کے دسمبر میں ریلیز کیا گیا۔

شیئر کریں

Top