”مشرقی پاکستان کے بعدبلوچستان دشمن کے نشانے پر ”۔۔نسیم الحق زاہدی

بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پہ قبضہ کرکے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا تو تب اندرا گاندھی نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ” آج ہم نے پاکستان کے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا۔”یوں بھارت نے پاکستان کو توڑنے کے اپنے گھناونے منصوبے میں پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کی۔مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کرنے کے بعد دشمن کے نشانے پر بلوچستان ہے۔اگر سقوط ڈھاکہ میں بھارت کی شمولیت پہ کوئی شک وشبہ تھا بھی تووہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جون 2015ء میں اپنے دورہ بنگلہ دیش میں بنگلہ دیشی پارلیمان سے خطاب کے دوران اس اقرار نے دور کر دیا کہ 1971ء میں وہ بنگالی حریت پسندوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑے تھے۔پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی سازش کی تکمیل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 15 اگست 2016ء کو بھارتی یوم آزادی کے موقع پہ تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کو پاکستان کے چنگل سے آزاد کرکے دم لیں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر،گلگت اور بلتستان کو بھی پاکستانی تسلط سے آزاد کرا کے دم لیں گے۔بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری ہے جس نے خود بلوچستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا کس طرح بلوچ نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کیلئے انہیں اسلحہ سمیت رقوم بھی فراہم کی جاتی رہیں۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بھارت ایک عرصے سے بلوچستان میں حالات خراب کر رہا ہے،جبکہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارت حواس باختہ ہو چکا ہے۔بلوچستان میں دہشت گردی کی یکے بعد دیگرے وارداتوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بیرونی دشمنوں بالخصوص ہمارے ازلی دشمن بھارت نے پاک فوج کی توجہ کشمیر ایشو سے ہٹانے کے لئے صوبہ بلوچستان کو تخریبی کارروائیوں کا ہدف بنا رکھا ہے۔صوبے میں سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملے بھی اس مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ تین لاکھ سینتالیس ہزار ایک سو نوے مربع میٹر ہے۔ یہ محل وقوع کے لحاظ سے بھی اہم صوبہ ہے، شمال میں افغانستان ، خیبرپختونخوا ، جنوب میں بحیرہ عرب ، مشرق میں سندھ اور پنجاب جب کہ مغرب میں ایران شامل ہے۔ 832 کلومیٹر رقبہ ایران کی سرحد کے ساتھ ملحق ہے۔ تاہم جغرافیائی اعتبار سے موجودہ بلوچستان کا شمار دنیا کے حسّاس ترین خطوںمیں ہوتاہے کہ اس کے ایک جانب وسطی ایشیا کی قربت ہے، تو دوسری طرف بحیرہ عرب کے راستے گرم پانیوں تک رسائی کا خواب، لہٰذا امریکی سی آئی اے، را اور موساد کے مشترکہ پلان کے تحت طویل عرصہ سے یہ خطہ مذکورہ ملک دشمن ایجنسیوں کا ٹارگٹ ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” کا سر گرم منظم نیٹ ورک صوبے میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث عناصر کو بھاری اسلحہ اور سرمایہ کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان کے علیحدگی پسند بلوچ نوجوانوں کو تربیت بھی دیتا رہا ہے جوملک کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث ہیں۔ دراصل بلوچستان میں علیحدگی کی آگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گزشتہ 74 سالوں سے سلگائی جا رہی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ”آزاد بلوچستان” کی چنگاری کو بھڑکائے رکھنے میں نہ صرف بیرونی بلکہ اپنے لوگوں کا ہاتھ ہے۔یورپ ، امریکہ میں پاکستان دشمن پروپیگنڈے پر مبنی زہر آلود لٹریچر کی تقسیم ،فری بلوچستان موومنٹ کے زیر اہتمام ریلیاں ، مظاہرے اور پلے کارڈز و پوسٹرز کی تقسیم جن پر بلوچستان پر پاکستانی مظالم اور نام نہاد پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے خلاف نعرے درج تھے۔بھا رت نے 23 جون 2018 ء کو نئی دہلی میں “فری بلوچستان” کے دفتر کا افتتاح کیا تھا۔ دفتر کے افتتاح کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں تقریباً 50 ہندوستانیوں نے شرکت کی۔جس میں RAW سیمینار منعقد کرتا ہے اور غیر ملکی صحافیوں اور سفارت کاروں کو مدعو کر کے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ دفتر کا افتتاح بی جے پی کے سابق ایم ایل اے مسٹر وجے جولی کی لندن میں “فری بلوچستان موومنٹ” (FBN) کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد عمل میں آیا۔بھارت میں ”را ” کے تحت چلنے والے 3 چینلز 24 گھنٹے بلوچستان مخالف پروپیگنڈاکرنے میں مصروف ہیں۔ بھارت یو این او کی سلامتی کونسل میں آزاد بلوچستان کے حق میں قرار داد لانے کا مذموم منصوبہ بنایا گیا ۔ علاوہ ازیںبے شمار بلوچ خود ساختہ کارکن بھارت کی بدنام زمانہ جاسوس ایجنسی ‘را ‘کے لیے گھناؤنے کام کرنے کے لیے بے چین ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی کانگریس میںبھی پاکستان کی سا لمیت کے خلاف قرادادیں منظور کی جاتی رہی ہیں ۔ جیسا کہ 17 فروری 2012 ء کو امریکی کانگریس مین ڈانا روہرابچر نے امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں پاکستان سے بلوچوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ تحریک ایوان کے نمائندوں لوئی گوہمرٹ اور سٹیو کنگ نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔اگرچہ ایسی قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی لیکن یہ پاکستان اور اس کے اداروں کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ امریکی منصوبہ سازوں کی یہ گریٹ گیم صوبہ بلوچستان میں کافی عرصے سے جاری ہے۔ دنیا کے نقشے شائع کیے گئے، جس میں پاکستان کے تمام ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے، اور صوبہ بلوچستان کو ایران کے سیستان،بلوچستان کے علاقے میں ملا کر ایک گریٹر بلوچستان بنایا گیا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی فوج اور ایجنسیوں نے بلوچستان کے عوام کی حمایت سے پاکستان کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو امریکی آشیر باد حاصل ہے جس میں نمایاں بلوچ لبریشن موومنٹ ہے جس کے مرکزی کرداروں کے امریکہ سے گہرے تعلقات ہیں۔(BLF) کی بنیاد جمعہ خان مری نے 1964 ء میں دمشق میں رکھی تھی۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بلوچ لبریشن آرمی یا بلوچستان لبریشن آرمی بھی) (BLA) ایک علیحدگی پسند تنظیم ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کا نام پہلی بار 2000 ء کے موسم گرما میں منظر عام پر آیا، جب تنظیم نے بازاروں اور ریلوے لائنوں پر ہونے والے سلسلہ وار بم حملوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا۔ بی ایل اے نے بلوچستان میں پنجابیوں ، پشتونوں اور سندھیوں کی منظم نسلی نسل کشی کے ساتھ ساتھ گیس پائپ لائنوں کو اڑانے کی ذمہ داری بھی قبول کی ۔ایک مقامی اخبار کے سر وے کے مطابق بلوچوں کی اکثریت پاکستان سے آزادی کی حمایت نہیں کرتی۔ صرف 37 فیصد بلوچ آزادی کے حق میں تھے۔ بلوچستان کی پشتون آبادی میں آزادی کے لیے حمایت 12 فیصد سے بھی کم تھی۔ تاہم، بلوچستان کی آبادی کی اکثریت (67 فیصد) نے زیادہ صوبائی خودمختاری کے حامی تھے۔ بلوچوں کی اکثریت بھی علیحدگی پسند گروپوں کی حمایت نہیں کرتی۔ بھارت اور اسرائیل کیساتھ ساتھ امریکہ کو بھی خطے میں اس اسٹریٹیجک تبدیلی سے بہت زیادہ پریشانیاں لاحق ہیں اور اسی حوالے سے جو بیرونی عنصر بلوچستان میں مقامی انتظامیہ کو ضعف پہنچانے کیلئے کام کر رہے ہیں اس میں موساد اور راء کیساتھ ساتھ سیـ آئیـ اے کی پر وردہ بلیک واٹر آرمی بھی سرگرم ہے جسے عاقبت نااندیشوں حکمرانوں کی بے حکمت پالیسی نے اسے صوبے میں تخریب کاری کی ایک بڑی فورس بنا دیاـ سی آئی اے کی مدد سے بلیک واٹر آرمی نے عراق میں فرقہ وارنہ دہشت گردی کو فروغ دیاـ چنانچہ اْس وقت کی حکومت کی جانب سے بلیک واٹر کے ہزاروں اہلکاروں کو بغیر کسی تحقیق کے ویزے جاری کئے گئے تھے جس کی ایک بڑی مثال ریمنڈ ڈیوس تھاـ جو لاہور کی سڑکوں پر کھلے عام دندناتا پایا گیا اور اس کی وجہ سے عام شہری نشانہ بنے ـ چونکہ ان کے پاس ڈالرز کی بہتات ہے اس لئے انہوں نے مقامی سب کنٹریکٹ ایجنسیاں قائم کرکے مقامی ریکروٹوں کے ذریعے دہشت گردی کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ـ بلاشبہ بلوچستان میں تخریب کاری کی وارداتیں بیرونی عناصر کی حوصلہ افزائی اور جدید اسلحہ کی فراہمی کے سبب ممکن ہوئی ہیںـ اس حوالے سے قابل غور بات یہ ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کا ایک دفتر یروشلم میں کیوں ہے ؟ اسی طرح بلوچ علیحدگی پسند قیادت شمالی امریکہ میں بھارتی اور اسرئیلی لابی کے ساتھ مل کر کیا کام کر رہی ہے ہیں ؟۔ بلوچستان میں چونکہ انتظامی معاملات بلوچ عوام کے بجائے سرداروں کے ہاتھ میں رہے ہیں چنانچہ بلوچستان میں بلوچ عوام کو ترقی میں وہ حصہ نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے ۔بیرونی عناصر بلوچ نوجوانوں کو پاکستان سے بدظن کرنے میں منظم پروپیگنڈے میں مصروف رہے ہیں جس کے باعث بلوچستان کے انتظامی معاملات اکثر و بیشتر خراب ہوتے رہے ہیںـ حقیقت یہی ہے کہ بلوچستان میں جمہوریت کے نام پر بلوچ سردار ہی حکومت کرتے رہے اور مختلف وزارتوں کے فنڈز عوام پر استعمال ہونے کے بجائے خواص کی نظر ہوتے رہےـ یہ بڑی افسوس ناک بات ہے کہ بالخصوص بلوچستان میں عوامی بہبود کے سرکاری فنڈز کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں ـ اگر عوام پر سرکاری فنڈز اور رقوم خرچ کی جاتی تو اس سے بلوچستان میں نہ صرف ترقی کی رفتار تیز ہو سکتی تھی بلکہ دشمن کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہونے سے بھی بچ جاتا!۔بلوچستان کے اندر دہشتگردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے حوالے کا افواج پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے ۔اس وقت بلوچستان کی عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی کے لیے ایف سی اور پاک فوج کے جوان نہایت جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔اور بیک وقت اندرونی و بیرونی دشمنوں سے بھی نبرد آزما ہیں ۔

شیئر کریں

Top