مقامی قرضے بھی بہت بڑھ گئے، معیشت کی بحالی مشکل کام ہے، مفتاح اسماعیل

123-167.jpg

کراچی: سابق وفاقی وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پیٹرول مہنگا گاڑی والوں کو لگتا ہے اس کو غریب سے کوئی غرض نہیں ہے، بیرونی قرضہ چھوڑیں اب تو مقامی قرضہ بھی بہت بڑھ گیا ہے، ملکی معیشت کی بحالی مشکل کام ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گاؤں اور دیہات کے لوگ تو 75 سالوں سے غریب ہیں اور وہ صرف بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلیے کوشاں ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ ای سی ایل سے نام نکلنے اور وزیر خزانہ کا قلمدان ملنے کے بعد آئی ایم ایف سے بات کرنے امریکا گیا، جہاں انہوں نے پیٹرول سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے واپس آکر حکومت کو پیٹرول مہنگا کرنے کی سفارش کی مگر حکومت نے مخالفت کی، پھر ہم نے جولائی میں بجٹ دیا اور معاہدے کے بعد آئی ایم ایف سے ستمبر میں پیسے آئے اور پھر ہمیں نکال دیا۔
سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ملک میں معیشت کی بحالی کو مشکل قرار دیتے ہوئےکہا کہ 75 سال کی غلطیوں کیوجہ سے ملک اس حال کوپہنچا ہے،صوبے بڑھانے اوربرآمد بڑھانے کی ضرورت ہے اور فوج کی ہرچیز میں مداخلت کا سلسلہ ختم ہونا ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں روٹری کلب کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہناتھا کہ سب سے پہلے آبادی کو کنٹرول کرنے کا پلان بنانا ہوگا، پچھتر سال میں دو سے تین سال ہی صرف کرنٹ اکاونٹ سرپلس رہا، ہم بہت زیادہ امپورٹ کرتے ہیں اور بہت کم برآمدات کرتے ہیں،زرعی شعبہ وفاق کی نہیں صوبے کی زمہ داری ہے، 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات صوبوں کو منتقل تو ہوئے لیکن نچلی سطح پر فنڈز نہیں پہنچتے۔
انہوں نے کہا کہ سبسڈی کاشتکاروں کو براہ راست دینا چائیے،قرض لے کر ہم پرانے قرضے واپس کررہے ہیں، پی ٹی آئی حکومت نے پٹرول اورڈیزل سستا فروخت کر کے آئی ایم ایف معاہدہ توڑا،ہم نے اپنے اخراجات کم نہیں کئے،ایکسپورٹ اورٹیکس ٹو جی ڈی پی کو بھی بڑھانا ہوگا،جو ٹیکس نہیں دے رہا اس کو نیٹ میں لانا ہوگا،جو امیر ہے اس کو کوئی مسئلہ نہیں،غریب ابھی تک مسائل میں ہے، بیرونی قرضے چھوڑیں اب تو مقامی قرض کے چنگل میں بھی پھسنے ہوئے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اسٹیل مل سالوں سے بند ہے وہ ترجیحات میں نہیں ،صوبے ٹیکس اس حساب سے جمع نہیں کرتے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ڈالر کی قیمت مارکیٹ کا کام ہے یہ وزیرخزانہ کا نہیں ہے، مانیٹری پالیسی سخت جبکہ مالیاتی پالیسی تو بہت آسان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 55 لاکھ بچےہر سال پیدا ہوتے ہیں اور جب آبادی کنٹرول کی بات کریں تواسلام خطرے میں آنےکی بات کی جاتی ہے۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈار صاحب نے آئی ایم ایف کو آنکھیں دکھائیں جس پر انہوں نے بات کرنے چھوڑی اور جب پیسے ختم ہوگئے تو اب ہم پھر ڈیل کررہے ہیں، 2غلطیاں میرے آنے سے پہلے ایک غلطی میرے جانے کے بعد ہوئی۔
مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ سندھ، کےپی ، بلوچستان، پنجاب کے گاؤں میں رہنے والے بچے 70 برس سے بحران میں ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈر کو آگے انے کی ضرورت ہے سب مل کر حکومت کو بہتر بنانے کیلئے تحریک چلائیں۔

شیئر کریں

Top