وزیراعلی بھی اپنی کابینہ کی کارکردگی جانچیں……اداریہ

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بہترین کارکردگی پر دس وزرا ء کو تعریفی سرٹیفکیٹ دئیے گئے ہیں۔بہترین کارکردگی کے حوالے سے مراد سعید کی وزارت مواصلات پہلے، اسد عمر کی وزارت منصوبہ بندی دوسرے، ثانیہ نشتر تیسرے نمبر پر، شفقت محمود کی وزارت تعلیم چوتھے نمبر پر رہی۔شیریں مزاری کی وزارت انسانی حقوق پانچویں نمبرپر، خسرو بختیار کی وزارت صنعت و پیداوار چھٹے، مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف ساتویں، وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی وزارت تجارت آٹھویں نمبر پر رہی۔ شیخ رشید کی وزارت داخلہ نویں اورفخرامام کی نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت آخری نمبرپررہی۔فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اورشوکت ترین بہترین کارکردگی کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔بہترین کاکردگی دکھانے والی 10 وزارتوں میں تعریفی اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والی وزارتوں کو مراعات بھی دی جائیں گی، ان مراعات کے ذریعے ہی بتدریج تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی بار وفاقی وزراء کے محکمے تبدیل کیے گئے چند ایک وزراء سے ان کے عہدے بھی واپس لیے گئے وزیراعظم عمران خان وفاقی وزراء کو کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے ہمیشہ ہدایت جاری کرتے دیکھے گئے کہ عوامی مسائل کا حل ان کی دہلیز پر ہونا چاہیے اور وزراء اپنے محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں اس سارے معاملے میں وفاقی حکومت کتنی کامیاب رہی اس کے اعدادو شمار سرکاری سطح پر کئی بار عوام تک پہنچائے کی کوشش کی گئی مگر مہنگائی کی خوفناک لہر نے عوام کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وفاقی وزراء کی کارکردگی غیر تسلی بخش اور حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ گزشتہ تین سال کے دوران قیمتیں آسمان سے چھونے لگی ہیں ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہے مزید دو روپے اسی پیسے فی یونٹ بڑھانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے بجلی مہنگی کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت میں ہوا اجلاس میں نظرثانی شدہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان جولائی 21 جون 23 کی منظوری دی گئی اس پلان کے تحت رواں سال جولائی تک دو مراحل میں بجلی کے فی یونٹ نرخ بڑھائے جائیں گے۔
بجلی کے نرخوں میں بے انتہا اضافے کے باوجود حکومت گردشی قرضہ پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہی ہے موجودہ حکومت کے چالیس ماہ میں سرکلر ڈیٹ ایک ہزار تین سو ارب روپے بڑھا توانائی کمیٹی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مفاہمت کی بنیاد پر کیا تاہم نظرثانی شدہ پلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے جبکہ ایفیشنسی امپرومنٹ ٹارگٹ میں چھوٹ دی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت کی غیر معیاری کارکردگی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کی سزا بجلی کی صارفین کو دی جانے والی پالیسی جاری رہے گی پہلے مرحلے میں فی یونٹ کی قیمت میں 63 فیصد اضافے کا اطلاق اسی ماہ سے ہونے کی توقع ہے جسے حکومت کو 85 ارب روپے حاصل ہوں گے 2 روپے 17 پیسے کے اضافہ جولائی سے کیا جائے گا جس سے صارفین پر 207 ارب روپے کا بوجھ یقینی ہو گا جون 2022ء تک بجلی کا بنیادی ٹیرف 18 روپے 9 پیسے کرنے کا بھی منصوبہ بتایا جا رہا ہے ۔
اس ساری صورتحال میں وفاقی وزراء کو کارکردگی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی منتق عوام سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں بھی اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ مہنگائی کی خوفناک لہر، کرپشن میں اضافے پر قابو پانے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو ایسے سخت اقدامات کر کے دیکھانے ہوں گے کہ عام آدمی بھی محسوس کر سکے کہ حکومت کی رٹ منہ چڑھ کر بولنے لگی ہے۔وزیراعظم عمران خان پاکستان کو بحران سے نکالنے کیلئے سنجیدہ اور ہمیشہ ہی خاصے پرعزم نظر آئے ان کے خلوص اور ایمانداری پر ملک کے عوام انگلی تو نہیں اٹھا رہے مگر خوفناک مہنگائی پر قابو نہ پانے پر ملک بھر کے عوام موجودہ حکومت سے مایوس ضرور نظر آ رہے ہیں امید ہے وزیراعظم وفاقی وزراء کی کارکردگی جانچنے کیلئے کوئی مضبوط میکنیزم بناتے ہوئے ملک کے دیگر صوبوں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھیں گے گلگت بلتستان میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت براجمان ہے چند ایک صوبائی وزراء کے علاوہ دیگر کی کارکردگی روز اول سے ہی غیر تسلی بخش قرار دی جا رہی ہے صوبائی وزراء کے علاوہ مشیر اور کوآرڈینیٹرز کی ایک فوج گلگت بلتستان کے خزانے سے مراعات تو حاصل کر رہی ہے مگر اس فوج کی کارکردگی سے عوام نالاں نظر آرہے ہیں اس کے برعکس وزیراعلیٰ خالد خورشید بھی اس پسماندہ علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے کوشاں نظر آ ر ہے ہیں اور کئی ایک اہم منصوبوں کی منظوری کا سہرا بھی انہیں کے مرہون منت کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا البتہ چیف منسٹر گلگت بلتستان کو اپنی ٹیم کو متحرک کرتے ہوئے کارکردگی جانچنے کیلئے مصلحتوں سے نکل کر اہم فیصلے کرنے کی ضرورت اب شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو صوبائی وزراء کارکردگی دیکھانے میں قاصر نظر آ ر ہے ہیں انہیں گھر بھیجنے میں کوئی حرج نہیں سزا و جزا کے نظام کے تحت وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو اہم فیصلے کرنے میں اب تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

شیئر کریں

Top