وزیر اعلیٰ کیخلاف عدم اعتماد،پیپلز پارٹی کا مشاورتی اجلاس

1-3.jpg

گلگت( بیورو رپورٹ) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد لانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس سلسلے میں پارٹی کے صوبائی صدر و اپوزیشن لیڈر امجد ایڈووکیٹ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پارٹی کے کارکن اور عہدیدار شریک ہوئے اجلاس کے بارے میں بادشمال سے بات چیت میں امجد ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے اجلاس بلا کر پارٹی کو اعتماد میں لیا اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت اور حکمت عملی کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم کمیٹی ارکان کی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔امجد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ کمیٹی نواز لیگ ،جمعیت العلمائے اسلام،اسلامی تحریک اور آزاد ارکان سمیت دیگر جماعتوں سے ملاقاتیں کر کے حکمت عملی مرتب کریگی جس کے بعد عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے ان ہاس تبدیلی کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔قابل زکر ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے 33رکنی ایوان میں اپوزیشن کے دس اراکین ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعت وحدت المسلمین کے پاس پندرہ ارکان ہیں خیال رہے کہ سات آزاد ارکان الیکشن جیت کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی میں تحریک عدم پیش کرنے کے لیے اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے تاہم ان ہاس تبدیلی لانے کے لیے مزید سات ارکان کی حمایت درکار ہے قابل زکر ہے کہ نئے وزیر اعلی کے لیے تحریک انصاف کے دو ارکان اسمبلی بھی سرگرم عمل ہے۔جن سے اپوزیشن کے ساتھ اہم رابطے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد(عارف سحاب) وفاق میں حکومت بدلتے ہی تبدیلی سرکار کی باقیات کو تبدیل ہونا ہی پڑے گا ۔ یہ بات پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر اور اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی امجد ایڈوکیٹ نے کی۔بادشمال سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الحال تو فیڈرل میں جو ڈرامہ چل رہا ہے اس کا ڈراپ سین ہوجائے۔ گلگت بلتستان سے متعلق بھی ہماری قیادت کا یہ فیصلہ ہے کہ یہاں سے بھی زبردستی نازل ہونے والی مصیبت کو نکالا جائے گا ۔ امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہاں نہ تو کوئی حکومت ہے اور نہ کوئی وزیر اعلی ہے ۔ یہ تو نیازی نواز ٹولے کا آلہ کار ہے جو صرف تنخواہ اور مراعات کے لیے گلگت بلتستان پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گنتی پوری کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں کیونکہ جن آزاد ممبران نے تحریک انصاف کی حکومت کو سہارا دیا ہوا ہے وہ بھی اندر سے تنگ ہیں اور انہیں بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اس طرح ان نااہلوں کے ساتھ رہیں تو کل عوام اور اپنے حلقے میں جانے کا جواز ختم ہوجائے گا۔ امجد ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر چلنا ہی گلگت بلتستان کے لیے بطور صوبہ مفید ہے اور یہی یہاں کا سیاسی طرز عمل بھی رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود حکومتی ارکان میں بھی شدید ڈھڑا بندی ہے اور وقت آنے پر خالد خورشید کے ساتھ دو چار بندے ہی ہوں گے ۔ امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ گورنر کی تبدیلی بھی پلان آف ورک میں ہے تاہم ان سب کا تعلق وفاق میں بننے والی حکومت کے بعد سے ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے ملکت حکمت عملی مرتب کرنا ہے

شیئر کریں

Top