وفاقی حکومت عوام کوریلیف فراہم کرے……اداریہ

آسمان کو چھونے والی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے روز مرہ استعمال کی چیزیں جن میں دال، سبزیاں، گھی، دودھ کی قیمتیں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آسمان کو چھونے لگی ہیں غریب عوام سر پیٹتے ہوئے وفاقی حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم عمران خان سے اپیل کر رہے ہیں کہ خدارا مہنگائی پر قابو پایا جائے مگر تحریک انصاف کی حکومت غریب کی مشکلات سمجھنا ہی نہیں چاہتی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں مہنگائی ہو جاتی ہے گزشتہ چھ ماہ کے دوران سریا اور سیمنٹ تعمیراتی میٹریل میں بھی ہوشربا اضافہ بھی دیکھا گیا ستم ظریفی یہ ہے کہ وفاقی حکومت آئے روز نئے قرضے لیتی نظر آرہی ہے ایک طرف گھبرانا نہیں کا ورد کیا جا رہا ہے دوسری طرف غریب طبقہ خود کشی پر مجبور ہو کر رہ گیا ہے اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہو گا مہنگائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پٹرول کی قیمت 65 روپے لیٹر کر دی جائے گی ان کے نعروں کو سچ سمجھتے ہوئے ملک بھر کے عوام نے تحریک انصاف سے بڑی امیدیں وابستہ کر لیں اور بلے پر مہر لگاتے ہوئے پی ٹی آئی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیئے مگر اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے صاحب اختیار لوگوں نے روز مرہ استعمال کی چیزوں میں اضافہ روکنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے حکمرانوں کے دعوے آج بھی زور شور سے جاری ہیں سی پیک کے حوالے سے بھی عوام کو خوش خبریاں سنائی جا رہی ہیں مگر مہنگائی پر قابو پایا نہیں جا رہا سچ تو یہ ہے کہ غریب اور عام آدمی آٹا، دالیں اور سبزیاں سستے داموں خریدنا چاہتا ہے چھوٹے ملازمین مہنگائی کے باعث یہ کہتے دیکھے گئے ہیں کہ 20 ہزار تنخواہ میں بجلی اور گیس کے بھاری بل ادا کرنے کے بعد دو وقت کی روٹی کیلئے بھی پیسے نہیں بچتے جبکہ سابق دور حکومت میں مہنگائی کا اس قدر طوفان نہیں تھا کم تنخواہوں کے باوجود لوگوں کا گزر بسر باعزت طریقے سے ہو رہا تھا گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے اعلان کے بعد عوام میں ایک بار پھر مایوسی کے بادل چھانے لگے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے باعث ہر شخص حکومت پر تنقید کرتے دیکھا گیا اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق مہنگائی کی ماری عوام کو ایک اور جھٹکا، تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا، ۔ عوام پر ایل پی جی بم گراتے ہوئے فی کلو قیمت میں 29 روپے 10 پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔قیمتوں میں اضافے کے بعدگلگت بلتستان اورپہاڑی علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 225روپے فی کلو جبکہ گھریلو سلنڈر 2655روپے کا ہوگیا تھا ۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا بتایا جا رہا ہے اس ساری صورتحال میں وفاقی حکومت کی کارکردگی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے گزشتہ تین سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت سے عوام خاصے مایوس نظر آرہے ہیں وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کفایت شعار رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن کے سخت خلاف اور ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں یہ سب کچھ درست ہو گا مگر حالات اس کے برعکس آج بھی سرکاری اداروں میں کرپشن پہلے سے بڑھ چکی ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے مہنگائی کا عذاب، کرپشن میں اضافہ، بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھا اگر پھر بھی وفاقی حکومت اپنی کارکردگی کو بہترین سمجھتی ہے تو پھر انہیں عوام کو گھبرانے کی اجازت دینا ہو گی کیونکہ آج ملک بھر کے عوام یک زبان ہو کر وزیراعظم عمران خان سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لیتے ہوئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے وزیراعظم عمران خان کو اس غریب ملک کے عوام کے جائز مطالبات پر عملدرآمد کر کے دکھانا ہو گا اگر صورتحال یوں ہی چلتی رہی تو آئندہ آنے والے قومی انتخابات تحریک انصاف کیلئے اچھی خبر لیکر نہیں آئیں گے۔

شیئر کریں

Top